پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

سیدنا محمد بن عدی رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ بن سعد بن سواءۃ بن جشم بن سعد: ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے عبد الملک بن ابی سویۃ المنقری نے اپنے والد کے داد خلیفہ سے(اور خلیفہ مسلم تھا) روایت کی ہے کہ مَیں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا کہ تیرے باپ نے تیرا نام محمد کیسے رکھا۔ اس پردہ ہنسا اور کہنے لگا کہ مجھے میرے باپ عدی بن ربیعہ نے بتایا کہ وہ اور سفیان بن مجاشع، یزید بن ربیعہ بن کابنہ اور اسامہ بن مالک بن عنبر، ابن جفنہ سے ملنے کو روانہ ہوئے جب ہم اس کے گھر کے قریب پہنچے، تو دم لینے کو ایک تالاب کے کنارے درختوں کے نیچے ٹھہر گئے وہاں ایک راہب آنکلا۔ کہنے لگا کہ تمہاری زبان اس علاقے کے لوگوں کی زبان سے مختلف ہیے۔ ہم نے کہا، تمہارا اندازہ ٹھیک ہے۔ ہمارا تعلق بنو مصر سے ہے۔ پوچھا، کس قبیلے سے؟ ہم نے کہا خندق سے۔ اس[۱] نے کہا، جلد ہی تم میں ایک نبی کی بعثت ہونے والی ہےت تم اس میں شامل ہونے سے تساہ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عطیّہ رضی اللہ عنہ

السعدی ابو عروہ: عبد اللہ بن ضحاک اور واد بن جراح نے اور زاعی سے، اس نے محمد بن خراشہ سے اس نے اپنے والد سے روایت کی۔ جب تو تین چیزیں ہوتی دیکھے گا۔ تو آبادی کو بربادی اور بربادی کو آبادی نصیب ہوگی۔ (۱) نا پسندیدہ کو پسندیدہ (۲) اور پسندیدہ کو ناپسندیدہ کو نا پسندیدہ قرار دیا جائے (۳) آدمی امانت کو یوں ہڑپ کرجائے جس طرح اونٹ درختوں کے پتّوں کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ ابو مغیرہ نے اوزاعی سے اس نے محمد بن خراشہ سے، اُس نے محمد بن عروہ سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اس لیے اس حدیث کو عروہ سے منسوب کیا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اسکی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن علیۃ القرشی رضی اللہ عنہ

ان کا ذکر صرف ایک حدیث میں ہے جسے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے اسلم ابو عمران سے اُس نے ہبیب بن مغفل سے روایت کی کہ اس نے محمد بن علیہ کو دیکھا، کہ وہ اپنے ازار کا پلو زمین پر گھسیٹتے جا رہے تھے۔ انھیں ہبیب نے بھی دیکھا اور کہا۔ کہ تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سُنا کہ جو شخص اپنی ازار کا پلو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔ وہ گویا نارِ جہنم میں یہ عمل کر رہا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ ابنِ مندہ کے اس قول سے کہ ہبیب نے محمد بن علیہ کو حضور کا انتباہ یاد کرایا، ثابت ہوتا ہے کہ جناب محم بن علیہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ابو بکر بن عبد اللہ بن وہب نے اس نے عمرو بن حارث سے اس نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے اسلم ابو عمران سے اس نے ہبیب بن مغفل سے سُنا کہ اس نے محمد القرشی کو ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجاشع بن سلیم رضی اللہ عنہ

ابوموسیٰ کا قول ہے کہ عسکری (یعنی علی) نے مجاشع بن مسعود اور مجاشع بن سلیم میں تفریق کی ہے، حالانکہ دونوں ایک ہیں اذر وہ ہے مجاشع بن مسعود از بنو سلیم۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجالد رضی اللہ عنہ

ابوعثمہ ہجیمی کے والد تھے۔ ہجیم کے تذکرے میں ہم ان کے بارے میں پھر لکھیں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجدی بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ

ان کا نسب ہم ان کے بھائی ابوموسیٰ کے تذکرے میں لکھ آئے ہیں۔ ابو عمر نے ان کے بھائی ابو رہم کے ترجمے میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر پرغسانی کا یہ استدراک ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجدی بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ

ان کا نسب ہم ان کے بھائی ابوموسیٰ کے تذکرے میں لکھ آئے ہیں۔ ابو عمر نے ان کے بھائی ابو رہم کے ترجمے میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر پرغسانی کا یہ استدراک ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محارب بن مزیدہ رضی اللہ عنہ

بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبابہ بن عامر بن حطمہ بن محارب بن عمرو بن ودیعہ لکیز بن افصی بن عبد القیس العبدی: باپ بیٹا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا، یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محارب بن مزیدہ رضی اللہ عنہ

بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبابہ بن عامر بن حطمہ بن محارب بن عمرو بن ودیعہ لکیز بن افصی بن عبد القیس العبدی: باپ بیٹا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا، یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محتفر بن اوس المزنی رضی اللہ عنہ

انہوں نے حضور اکرم سے بیعت کی اور ان کی اولاد نے ان سے روایت کی ہے۔ حاکم ابو احمد عسکری عبد اللہ نے تاریخ خراسان میں اس کا ذکر کیا ہے۔ احمد بن حسین نیشا پوری نے اس کی روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید