شیخ بھورو رحمۃ اللہ علیہ آپ شیخ عبدالقدوس علیہ الرحمہ کے مریدوخلیفہ تھے۔شیخ بھورو ابتداءً رنگریزی کا پیشہ کرتے تھے، پہلے وہ ہندو تھے، پھر آپ کے دست فیض رس پر مسلمان ہوکر اپنا پیشہ چھوڑ دیا اور یاد الٰہی میں مصروف ہوکر بلند پایہ کے بزرگ بن گئےاور لوگوں کے قلوب کو اللہ تعالیٰ کے رنگ صبغۃ اللہ سے رنگنے لگے۔ آپ کی982ھ میں وفات ہوئی۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ عمردینی رحمۃ اللہ علیہ شیخ عبدالقدوس کے ایک مرید شیخ عمردینی بھی تھے وہ اگرچہ آپ کے خلیفہ تھے لیکن ان کا قلبی رحجان زیادہ تر شیخ عبدالرزاق کی طرف تھا۔ شیخ عبدالرزاق ایک دن شیخ عبدالقدوس سے ملنے کی غرض سے آپ کے پاس آئے اس وقت آپ پر ایک خاص قسم کی حالت طاری تھی، جب ہوش میں آئے تو اپنے تمام مریدوں کو شیخ عبدالرزاق سے ملایا اور شیخ عمردینی کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایاکہ یہ آپ کا مرید اور آپ کی نظر شفقت کا متمنی ہے اس کے بعد شیخ عمردینی اُٹھے اور شیخ عبدالرزاق کی غایت درجہ تعظیم و تکریم کی۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ عبدالغفور اعظم پوری علیہ الرحمۃ شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے ایک خلیفہ شیخ عبدالغفور اعظم پوری بھی تھے جو بڑے صاحب کرامات بزرگ تھے انہوں نے ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس درود شریف کے پڑھنے کا حکم دیا، "اللھم صلی علی محمدواٰلہ واصحابہ بعدد اسمائک الحسنیٰ"۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید