بدھ , 10 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 21 October,2026

علامہ غلام حیدر راجکوٹی

حضرت علامہ غلام حیدر راجکوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ ابوعبداللہ بن جال قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی احمد یحییٰ تھا، بغداد میں رہتے تھے دمشق  میں سکونت گزین ہوئے، شام کے اجلہ مشائخ میں سے تھے، آپ شیخ ابوتراب بخشی کے مرید تھے، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے صحبت رکھتے تھے، ۳۰۶ھ یا ۳۰۷ھ میں وفات ہوئی۔ شیخ دین ابن جلا چوں از جہاں بدر اہل دین است سالِ وصل او ۳۰۶ھ   رفت در جنت شدہ منزل گرین ہم عیاں شد اہل دین اہل یقین ۳۰۷ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عبداللہ ابوالعباس بستی بن محمد بن نافع بن مکرم قدس سرہ

  آپ کی نسبت علاقہ قندھار کے رہنے والے تھے ۔ تاریخ ابن کثیر میں لکھا ہے کہ ابوالعباس بستی رحمۃ اللہ علیہ نے ستر سال تک پہلو زمین پر نہ لگایا نہ سوئے، دیوار یا ستون  سے تکیہ لگالیتے اور عبادت خداوندی میں مشغول رہتے۔ نیشاپور سے حرمین الشریفین میں پہنچے، ایک عرصہ تک بیت المقدس میں قیام کیا  محرم الحرام ۳۰۴ھ میں فوت ہوئے۔ جناب شیخ عبداللہ بستی بتاریخ وصال او خُرد گفت   کہ بود او پیر حق آگاہ ہادی ابوالعباس عبداللہ ہادی ۳۰۴ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوعثمان جیری قدس سرہ

  نیشا پور  کے ایک جیرہ میں پیدا ہوئے اور اسی نام سے مشہور ہوئے، آپ حضرت شاہ شجاع کرمانی﷫ کے مرید ہوئے اور ابوحفص حداد یحییٰ بن مفاذ رازی کی مجالس میں بیٹھتے بڑے صاحب کشف و کرامات تھے آپ اپنے ہم عصر صوفیاء میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ شیخ الشیوخ حضرت مخدوم علی ہجویری لاہوری قدس سرہ اپنی کتاب کشف المحجوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعثمان کو اللہ تعالیٰ نے تین بزرگانِ دین سے تین مقامات دیے تھے۔ حضرت یحییٰ بن معاذ سے مقام رجا عطا ہوا، حضرت شاہ شجاع کرمانی﷫ سے مقام عبرت حاصل کیا۔ اور حضرت ابوحفص حداد قدس سرہ سے مقام شفقت حاصل ہوا۔ سفینۃ الاولیاء کے مولف حضرت دار اشکوہ  نے لکھا ہے کہ ابوعثمان جیری نے حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی حضرت رویم، حضرت یوسف ابن حسین اور حضرت محمد فضیل  بلخی رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس سے استفادہ کرتے تھے۔ ریاضت میں یگانۂ روزگار تھے ابتدائی عمر کے بیس سا۔۔۔

مزید

سید کریم مشغول سمنانی

حضرت سید کریم مشغول سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ عمرو بن عثمان صوفی و مکی قدس سرہ

۔۔۔

مزید

ابوبکر محمد واسطی مروزی

۔۔۔

مزید

شیخ ابوحمزہ بغدادی قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی محمد بن ابراہیم تھا، آپ کو بشر حافی سری سقطی، ابوتراب بخشی﷫ سے بڑی محبت تھی، آپ شیخ حارث مریس کے مرید تھے ایک بار بغداد کے بازار میں سے گزر رہے تھے۔ یاد الٰہی میں اس قدر مستغرق تھے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی، سوچتے سوچتے شہر سے باہر جا نکلے جب ہوش میں آئے تو دیکھا کہ ایک وادی میں کیکر کے درخت کے نیچے کھڑے ہیں۔ یہ وادی بغداد سے چار میل دور تھی۔ نفحات الانس کے مؤلف نے آپ کا سن وفات ۲۸۹ھ لکھا ہے۔ شہ روئے زمیں ابوحمزہ بہر تاریخ رحلتش سرور   مرشد اہل دین ابوحمزہ گو محب یقین ابوحمزہ ۲۸۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ غلان واسطی

۔۔۔

مزید

شیخ عباس بن حمزہ قدس سرہ:

  آپ کی کنیت ابولفضل اور اصل نیشاپور تھا۔ مشائخ وقت میں شمار ہوتے تھے۔ حضرت ذوالنون مصری اور با یزید بسطامی سے دوستی تھی۔ ماہ ربیع الاوّل ۲۸۸ھ میں وفات پائی۔ چوزیں دنیائے دو ن فرمود رحلت بجستم سال ترحیلش  خرو گفت   جناب شاہ عالی ابن حمزہ حبیب عباس ہادی ابن حمزہ ۲۸۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید