بدھ , 10 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 21 October,2026

حاجی عبداللہ آبریز مکی

حضرت حاجی عبداللہ آبریز مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

ابن نقیبِ مفسر

محمد بن سلیمان بن حسن بن حسین بلخی قدسی المعروف بہ ابن النقیب: ابو عبداللہ کنیت اور جمال الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام،عالم،زاہد،فقیہ،محدث، مفسر،جامع علوم مختلفہ تھے قدس میں نصف شعبان ۶۱۱؁ھ میں پیدا ہوئے،قاہرہ میں علم پڑھا اور مصر میں یوسف بن محیلی سے حدیث کو سُنا۔مدت تک جامع ازہر قاہرہ میں اقامت اختیار کی اور مدرسہ عاشوریہ کے مدرس مقرر ہوئے پھر قدس کو  واپس تشریف لے گے جہاں لوگ دور دور سے آپ کی زیارت کو آتے اور آپ کی دعا سے تبرک چاہتے تھے۔قرآن شریف کی ایک تفسیر المسمی بالتحریر والتحبیر لا قوال ائمۃ التفسیر فی  معانی کلام السمیع البصیر نہایت کلاں ننانوے جلدوں میں ایسی تصنیف کی کہ اس سے پہلے تالیف نہ ہوئی تھی اور اس میں پچاس تفاسیر کے اقوال کو جمع کیا اور اسباب نزول و قراءت واعراب و لغات و حقائق اور علم باطن کو ذکر کیا۔شعرانی نے کہا کہ میں نے اس سے بڑی کوئی تفسیرنہیں دیکھی۔وفات۔۔۔

مزید

محمد عیدی

محمدبن احمد بن عمر صاعدی بخاری المعروف بہ عیدی: جلال الدین لقب تھا۔چونکہ آپ کے آباء واجداد میں سے کوئی شخص عید کے روز پیدا ہوا تھا اس لیے آپ عیدی کی نسبت سے نامزد ہوئے۔آپ اپنے زمانہ کے امام فاضل،عالم متجر تھے اور اصول و فروع و خلاف میں معرفت تامہ رکھتے تھے۔پہلے حسام الدین محمد اخسیکتی پھر حمید الدین علی ضریر سے فقہ پڑھی اور ۶۶۸؁ھ میں فوت ہوئے اور مقام کلا باذ واقع بخارا کے مقربۂ قضاۃ سبعہ میں مدفون ہوئے۔’’شمع حریم‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

علی بن محمد بخاری

علی بن محمد بن علی رامثی بخاری: نجم العلماء اور حمید الدین الضریر کے لقب سے مشہور تھے،امام کبیر،فقیہ محدث،مفسر،اصولی،جلدی،کلامی،حافظ متقن تھے۔ ماوراء النہر میں علم کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی اور آپ کی جلالت کے آوازہ سے زمین کا طبق پُر ہوا۔فقہ شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری سے پڑھی اور حدیث کو جمال الدین عبید اللہ محبوبی سے سُنا اور آپ سے حافظ الدین عبداللہ بن احمد نسفی صاحب کنز اور ابو الحامد محموب بن احمد بخاری صاحب حقائق شرح منظومہ اور جلا الدین محمد بن احمد صاعدی وغیرہ نے تفقہ کیا۔جامع کبیر اور کتاب نافع اور کتاب منظومہ نسفی کی شرحیں لکھیں اور مواضع مشکہ ہدایہ پر فوائد نام سے حاشیہ لکھا۔وفات آپ کی ۶۶۷؁ھ میں ہوئی اور امام ابی حفص کبیر کے پاس دفن کیے گئے اور بموجب وصیت کے آپ کو امام حافظ الدین نے قبر میں رکھا اور تقریباً پچاس ہزار آدمیوں کے ساتھ انپر نماز جنازہ کی پڑھی۔’’۔۔۔

مزید

ابن السباک

علی بن سنجر بغدادی المعروف بہ ابن السباک: شعبان۵۶۱؁ھ میں پیدا ہوئے،فقیہ فاضل،عالم متجر تھے۔فقہ ظہیر الدین محمد ن عمر بخاری سے اخذکی اور آپ سے مظفر الدین احمد صاحب ’’مجمع البحرین‘‘ نے اخذ کیا۔فقہ میں ایک ارجوزہ تصنیف کیا اور جامع کبیر کی بھی شرح لکھی مگر اس کو کامل نہ کر سکے کہ ۶۰۱؁ھ یا ۷۰۰؁ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

علامۂ تو پشتی

فضل اللہ بن حسین[1]تورپشتی: شہاب الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام محقق،شیخ مدقق محدث ثقہ،فقیہ جید صاحب تصانیف کثیرہ تھے،بغوی کی مصابیح الستہ کی مسمّٰی بالبسر نہایت عمدہ شرح تصنیف کی اور کتاب مطلب الناسک فی علم المناسک چالیس باب میں تصنیف فرمائی۔آپ کی تاریخ وفات’’محدث زیب ملک‘‘ ہے۔   1۔ ابو عبداللہ فضل الہ بن حسن بن حسین تور پشتی’’دستور الاعلام‘‘بدیۃ العارفین’’(مرتب)‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

سیدغیاث اللہ کانپوری

۔۔۔

مزید

ابوالفضل محمد بغدادی

حضرت ابو الفضل محمد بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ محمد سعدی

حضرت شیخ محمد سعدی وجوب حیرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ فخر الدین محبوبی

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ شرف الدین بوعلی شاہ قلندر رحمۃاللہ علیہ کے والد محترم ہیں آپکا مکمل اسم گرامی السّید محمدابوالحسن شاہ فخرالدین فخر عالم، محمد ثانی محبوبی ہے اور فخرالدین محبوبی کے نام سے معروف ہیں ۔آپ مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان ،ماحان، خراسان ،میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابوالقاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّدشاہ انور اور حضرت بو علی شاہ قلندر آباد ہوۓ۔اور ہندوستان میں آپکا فیوض جاری ہوا (فیضانِ صوفیاء)۔۔۔

مزید