منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

سیدنا عبداللہ ابن عوف بن عبد عوف

ابن عوف بن عبدعوف بن حارث بن زہرہ ۔عبدالرحمٰن بن عوف کے بھائی ہیں ابن شاہین نے کہا ہے کہ یہ اور ان کے بھائی اسود فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے ان کا ایک گھر بھی مدینہ میں تھا۔زبیر نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عوف نے ہجرت نہیں کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عوف اشجع رضی اللہ عنہ

ابن عوف اشجع وقود میں سے ہیں۔بصرہ میں رہتے تھے یہ ابن شاہین کا قول ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عوف رضی اللہ عنہ

ابن عوف۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ یونس بن شیرازی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ہمیں ابولفرح بن ابی رجاء نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے ابوبکر یعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے انھوں نے جبلہ بن عطیہ سے انھوں نے عبداللہ بن عوف سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایمان یمن میں ہے محمود بن ابراہیم بن سمیع نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ تابعی ہیں شام کے رہنے والے تیسرے طبقے سے ہیں عمر بن عبدالعزیز کے عامل تھے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عوسجہ سجلی رضی اللہ عنہ

ابن عوسجہ سنجلی۔ثم العرفی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا خط دے کر بنی حارثہ بن عمرو بن قریطہ کی طرف بھیجا تھا ان کا آپ نے اسلام کی دعوت دی تھی انھوں نے لوگوں سے خط کو لے لیا اوراسے دھوکراپنے ڈول میں پیوند لگالیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا جواب بھیجنے سے بھی انکار کردیاپس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کرلی ہے ۔چنانچہ اس قبیلہ کے لوگ اب تک بےوقوف اور مخبوط الحواس ہوتے ہیں۔ان کا تذکرہ ابو موسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن غنمہ مزنی رضی اللہ عنہ

ابن غنمہ مزنی۔صحابی ہیں فتح مصر میں شریک تھے۔محمد بن عمرواقدی نے ان کا ذکرکیاہے کہ یہ اسکندریہ کی دوسری فتح میں شریک تھے صحابہ میں ان کا ذکرکیاجاتاہے۔یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن وقدان رضی اللہ عنہ

ابن عمروبن وقدان بن عبدشمس بن عبدودعامری معروف بہ ابن سعدی۔ان کا تذکرہ عبداللہ بن سعدی کے نام میں گذرچکاہے ابوعمرنے ان کا تذکرہ کیاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن طفیل رضی اللہ عنہ

ابن عمروبن طفیل (ملقب بہ)ذی النور۔ازدی ہیں اوسی ہیں ان کا نسب اوپر بیان ہوچکا ہے۔حسن بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شہسواروں میں تھے اوربہت جفاکش اوربزرگ تھے غزوہ اجنادین میں ۱۳ھ ؁میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا ابن عمرو بن عاص بن وامل رضی اللہ عنہ

ابن عمروبن عاص بن وامل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیس بن کعب بن لوے قریشی سہمی۔کنیت ابومحمد ہے اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابوعبدالرحمٰن ہے ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمی ہیں اپنے والد سے بارہ برس چھوٹے تھے اور اپنے والدسے پہلے اسلام لائے تھے بڑے فاضل و عالم تھے قرآن پڑہاتھااور کتب سابقہ بھی پڑھی تھیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی کہ میں آپ کی حدیثیں لکھا کروں گا حضرت نے انھیں اجازت دی تھی۔پھر انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں جوکچھ سنوں لکھ لیا کروں خواہ خوشی کی حالت میں آپ فرمائیں یاناخوشی کی حالت میں آپ نے فرمایا ہاں جوکچھ میں کہتاہوں وہ حق ہی ہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مجھ سے زیادہ حافظ کوئی نہ تھا سوا عبداللہ بن عمروبن عاص کے مگروہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتانہ تھا۔حضرت عبداللہ کہتے تھے میں نبی ۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ

ابن عمرو بن عوف۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قبیلئہ عرنیہ کے لوگوں میں گرفتار کرلئے گئے تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے  ؂۱     کوقتل کیاتھا۔یہ واقدی کا بیان ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عمیر ابن اشجعی رضی اللہ عنہ

ابن عمیر اشجعی۔صحابی ہیں۔ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی شخص باغی ہوجائے اورمسلمانوں میں تفرقہ ڈالناچاہے اس کوقتل کردو۔ اس میں آپ نے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید