اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

مولانا سراج الدین حافظ بدایونی رحمتہ اللہ علیہ

لطافت طبع اور فضائل خاص اور اعتقاد خوب کے ساتھ موصوف  و آراستہ تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃً۔۔۔

مزید

مولانا قاضی پائلی رحمتہ اللہ علیہ

علم وافی اور فضل کامل رکھتے اور زہد و ورع میں اپنا نظیر نہ  رکھتے تھے۔ عشق مغرط اور رقص و بکا ذوق تمام کے ساتھ موصوف تھے۔۔۔۔

مزید

مولانا برہان الدین ساوی رحمتہ اللہ علیہ

کثرت علم اور نہایت ورع و تقوی کے ساتھ آراستہ تھے با وجود یکہ  آپ علمی تبحر میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن کبھی قلم فتویٰ ہاتھ میں نہیں لیا گو آپ سب سے آخر سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے لیکن حضور کی سعادت بخش نظروں کی برکت سے جملہ اوصاف میں یاران اعلیٰ میں موصوف ہوگئے تھے اور طریقہ سلف پر سماع کا اتباع کرتے تھے۔۔۔۔

مزید

خواجہ عبد العزیز بانگر مؤدی رحمتہ اللہ علیہ

ایک نہایت با مروت عزیز تھے جو غایت صلاحیت اور مکارم اخلاق میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ آپ پہلے پہل دنیاوی امور میں مشغول تھے لیکن آخر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دفعۃً محبت پیر کے طریقہ پر راسخ القدم اور مستقیم ہوگئے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن علقمہ رضی اللہ عنہ

ابن علقمہ بن مطلب بن عبدمناف قریشی مطلبی۔کنیت ان کی ابونقبہ۔ہذیم اورجنادہ کے والدہیں طبری نے کہاہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرسے انھیں پچاس وثق دیے تھے ۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے کنیت کے باب میں لکھا یہاں ان کا تذکرہ کسی نے نہیں لکھا۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمار رضی اللہ عنہ

ابن عمار انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے مگران کی حدیث محدثین کے نزدیک مرسل ہے۔ان سے عبداللہ بن یربوع نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو حمجی رضی اللہ عنہ

ابن عمرو حمجی۔مدنی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہی کہ آپ اپنی موچھیں اور ناخون جمعہ کے دن ترشواتے تھے اس کی سند میں کچھ کلام ہے۔ ان سے ابراہیم بن قدامہ نے روایت کی ہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ

ابن عمرو بن حرام بن ثعلبہ بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزیدبن جشم بن خزرج انصاری خزرجی سلمی۔ان کی کنیت ابوجابر ہے بوجہ اسکے کہ جابر بن عبداللہ ان کے بیٹے تھے۔یہ عبداللہ بیعت عقبہ میں شریک تھےاور غزوہ بدرمیں بھی شریک تھے اور بنی سلمہ کے نقیب تھے یہ بھی اور براء بن معرور بھی۔ان کو عروہ اور ابن شہاب اور موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں ذکرکیاہے جوبدراور احد میں شریک تھے اور احد میں شہید ہوئے ہمیں محمد بن محمد بن سرایا بن علی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں عبدالاول بن عیسیٰ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو منصور بن ابی عاصم یعنی فضیل ابن یحییٰ فضیلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی شیخ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم نے محمد بن سکندر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سناوہ کہتے تھے میرے والد احد کے ۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ

ابن عمروبن حزم انصاری۔عمارہ بن عمرو بن حزم کے بھائی ہیں ان کا ذکر مغازی میں آتا ہے مگر ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

ابن عمرو۔حضری۔بنی امیہ کے حلیف تھے۔واقدی نے کہا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے تھے۔انھوں نے حضرت عمربن خطاب سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصراً لکھاہے۔۔۔۔

مزید