بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

(سیّدہ )فاختہ(رضی اللہ عنہا)

فاختہ دختر ابوطالب بن عبدالمطلب جو حضرت علی کی ہمشیرہ تھیں،ان کی کنیت ام ہانی تھی،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کوئی فاختہ بتاتاہے،کوئی ہند،اول الذکر زیادہ ہے،مگر وہ اپنی کنیت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں،کنیوتوں کے تحت ان کا ذکر ذرا تفصیل سے لکھاجائےگا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ان سے مروی ہے کہ حضورِاکرم نے فتح مکہ کے موقع پر صبح کے وقت اپنے گھرمیں آٹھ رکعتیں ادا کی تھیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر ضحاک کلابیہ،بقولِ ابنِ اسحاق،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب زینب کی وفات کے بعد،اس خاتون سے نکاح کیا،اور جب آیت تخبیر اتری،تو فاطمہ نے متاعِ دنیا کو ترجیح دی اور حضورِ اکرم نے علیحدہ کردیا،اس کے بعد فاطمہ کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ اونٹ کی مینگنیاں چنتی تھی،اوراپنی بد بختی پر افسوس کرتی تھی،لیکن یہ روایت غلط ہے،اور صحیح روایت وہ ہے،جو حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب آیت تخبیر نازل ہوئی،تو آپ نے ابتدا مجھ سے کی،اور جب آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو سب ازواج نے اسی طرح کیا،بقول ِقتادہ اور عکرمہ اس وقت ازواج کی تعداد نوتھی۔ علماء کی ایک جماعت کی رائے ہے،کہ یہ شقیہ عورت وہ تھی،جس نے حضور کو دیکھ کرعیاذاً باللہ کہاتھا، لیکن اس عورت کو تعیین کے بارے میں اہل السیر میں سخت اختلاف ہے،ایک روایت میں ہے کہ ضحاک بن سفیان نے اپنی لڑکی جس کانام فاطمہ تھا،آپ کو پیش کی۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر قیس بن خالد اکبر بن وہب بن ثعلبہ بن وائلہ عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر قرشیہ فہریہ، ضحاک بن قیس کی بہن تھیں،اور بروایتے ان سے دس برس بڑی تھیں،اولین مہاجرین سے تھیں،اور عقل وخرد کی مالک تھی،یہ وہی خاتون ہیں،جنہیں ابوحفص بن مغیرہ نے طلاق دی تھی اور حضورِاکرم نے انہیں اجازت دی تھی،کہ وہ ابن مکتوم کے گھر میں عدت گزاریں،وہ اپنے بھائی ضحاک کے پاس کوفے میں جہاں وہ بطور امیر مقرر تھے،آگئی تھیں،شعبی کو ان سے سماع حاصل ہوا۔ اسماعیل بن علی وغیرہ نے باسنادہم تا ابوعیسیٰ ہناد سے،انہوں نے جریر سے ،انہوں نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ فاطمہ دختر قیس نے انہیں بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے بہ عہدِ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین طلاقیں دے دیں،آپ نے فرمایا،نہ تو تم اس کے گھر ٹھہرسکتی ہو اور نہ اس سے نفقہ لے سکتی ہو۔ جناب فاطمہ کو طلاق ہوگئی،تو معاویہ اور۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر ولید بن عتبہ بن ربعیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قرشیہ،عبثمیہ،سالم مولیٰ،ابوحذیفہ کی زوجہ تھیں،اولین مہاجرات اور قریش کی بہترین بیویوں سے تھیں،ان کے چچا ابو حذیفہ عتبہ نے انہیں سالم سے بیاہا تھا،جب سالم جنگ یمامہ میں مارے گئے،تو حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی نے ان سے نکاح کر لیا،جیسا کہ اسحاق بن ابوفروہ نے بیان کیا ہے،لیکن یہ قول قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ عقیلی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے،اور پھر اسحاق بن ابو فروہ کی حدیث ابراہیم بن عباس بن حارث سے،انہوں نے ابوبکر بن حارث سے،انہوں نے فاطمہ دختر ولید ام ابوبکر سے روایت کی،کہ جب میں شام میں تھی،تو اپنے جبہ ریشمی کپڑے سے بناتی تھی،پھر میں نے ریشمی ازار استعمال کرنا شروع کردی،مجھ سے پوچھاگیا،کیا ریشمی جبہ کافی نہیں تھا،کہ تو نے ریشمی ازار پہننا بھی شروع کردی،میں نے جواب دیا،میں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ و۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فسحم( رضی اللہ عنہا)

فسحم دخترِ اوس بن خولی بن عبداللہ بن حارث انصاریہ از بنو حبلی ،بقولِ ابن حبیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ فضتہ النوبیہ،خاتونِ جنت کی کنیز تھیں،ابو موسیٰ نے کتابتہً ابوالفضل جعفر بن عبدالواحد ثقفی سے ، انہوں نے ابوعثمان اسماعیل بن عبدالرحمٰن صابونی سے اجازۃً،انہوں نے ابوعثمان اسماعیل بن عبداللہ بن عبدالوہاب خوارزمی سے (جو احنف بن قیس کے عمزاد تھے)شوال دوسواٹھاون ہجری میں (ح) ابو عثمان نے ابوالقاسم الحسن بن محمد حافظ سے،انہوں نے ابو عبداللہ محمد بن علی نبسا سے، انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبداللہ بن عبدالوہاب خوارزمی سے،انہوں نے احمد بن حماد مروزی سے،انہوں نے محبوب بن حمید بصری سے(اور اس حدیث کے بارے میں روح بن عبادہ نے ان سے دریافت کیا)انہوں نے قاسم بن بہرام سے انہوں نے لیث سے،انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے،قرآ ن کی اس آیت عَلٰی یوفون باالنذر۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہادختر رقیش،بنو غنم بن دودان سے مہاجرہ ہیں،بقول جعفر المستغفری انہیں صحبت حاصل ہو ئی،اور انہوں نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی،ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے،طبری اور واقدی نے بھی ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا ،دختر سعد بن وہب جو ابوسفیان کی بیوی تھیں،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر ولید بن مغیرہ مخزومی،خالد بن ولید کی ہمشیرہ اور صفوان بن امیہ جمحی کی زوجہ تھیں، صفوان کی چھ بیویاں تھیں،جب اسلام قبول کیا،تودو کو طلاق دے دی،اور عاتکہ کو صفان نے حضرت عمر کے عہد خلافت میں طلاق دی،ہم اس واقعے کو ام وہب کے ترجمے میں بیان کریں گے، ابوموسیٰ نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ عبداللہ ابوبکر الملا رحمۃ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

(سیّدہ)اثیلہ(رضی اللہ عنہا)

اثیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،دختر راشد ان کا قصّہ ہم عامربن مرقش کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے مختصراًذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید