جمعرات , 21 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 09 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) ادیم (رضی اللہ عنہ)

  ثقلبی۔ ان سے صبی بن سعید نے روایت کی ہے۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یہ علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو نعیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر طلحی نے عبید بن غنامس ے انھوں نے علی بن حکیمس ے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسرائیل نے منصور سے انھوں نے ابو وائل سے انھوں نے صبی بن معبد سے نقل کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں پہلے نصرانی تھا پھر مسلمان ہوا بعد اس کے میں نے حج کرنیکا ارادہ کیا تو میں نے اپنی قوم کے ایک شخص سے جن کا نام ادیم تھا پوچھا تو انھوں نے کہا کہ تم قران کرو یعنی حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھو اور انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے بھی قران کیا تھا۔ اسی حدیث کو جریرہ نے منصود سے انھوں نے ابو وائل سے انھوں نے صبی سے روایت کیا ہے مگر انھوں نے (ادیم کی جگہ) ہدیم بن عبداللہ کہا ہے۔ ابو موسی کہتے ہیں کسی نے اس حدیث میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں ک۔۔۔

مزید

سیدنا) ادریس (رضی اللہ عنہ)

  ان کا تذکرہ ابرہہ کے ساتھ گذر چکا ہے یہ ان لوگوں میں ہیں جو شام چلے گئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو موسینے لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا)ادرع (رضی اللہ عنہ)

  اسلمی۔ نبی ﷺ کی پاسبانی میں رہتے تھے۔ ان سے صرف سعد بن ابی سعد مقبری نے فقط ایک حدیث روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا ہے ایک شب کو میں رسول خدا ﷺ کی پاسبانی کے لئے گیا تو کوئی شخص مر گیا تھا لوگوں نے کہا کہ یہ عبداللہ ذوالبجادین ہیں۔ مدینہ میں ان کی وفات ہوئی لوگ جب ان کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے اور ان کے جنازے کو اٹھایا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نرمی کرو اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرے گا کیوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتے تھے یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) ادرع (رضی اللہ عنہ)

  صحری۔ کنیت ان کی ابو الجعد ہے اور یہ کنیت ہی کے ساتھ مشہور ہیں۔ قاضی ابو احمد نے ان کانام اسی طرح بتایا ہے۔ اور انھوں نے کہا ہے کہ میں نے ان کا نام صرف علی بن سعید عسکری کی کتاب میں دیکھا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا نام عمرو ہے۔ چنانچہ ان کا ذکر عمرو کے بیان میں بھی انشاء اللہ ہوگا۔ اور عبیدہ بن سفیان حضرمی سے روایت ہے انھوں نے ابو الجعد ضمری سے روایت کی اور (کہا ہے کہ) ابو الجمعد ضعری صحابی تھے وہ کہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایاجو شخصتین جمعہ بغیر عذر کے ترک کر دے اللہ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔ یہ حدیث محمد بن عمر سے اور عبیدہ سے مشہور ہے اور اس حدیث کو صالح بن کیسان نے عبیدہ بن سفیان سے روایت کیا ہے ور انھوں نے کہا ہے کہ عمرو بن امیہ ضحری سے یہ حدیث مروی ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخنس (رضی اللہ عنہ)

  ابن جناب سلمی۔ ان کا صحابی ہونا چابت ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے معن بن یزید کے نام میں کیا ہے۔ ہم نے بھی معن کے بیان میں ان کا ذکر ا سے زیادہ کیا ہے۔ یہ ان لوگوں میں ہیں جو جنگ بدر میں شریک ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخنس (رضی الہ عنہ)

  ابن شریق۔ ثقفی۔ ان کا نسب ابی بن شریق کے بیان میں گذر چکا ہے یہ بنی زہرہ کے حلیف (٭حلیف اس شخص کو کہتے ہیں جس سے قسم کی دوستی ہو اہل عرب میں باہم قسم کھا کھا کے دوستی کے عہد کرنے کا دستور تھا) ہیں۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخنس (رضی الہ عنہ)

  ابن شریق۔ ثقفی۔ ان کا نسب ابی بن شریق کے بیان میں گذر چکا ہے یہ بنی زہرہ کے حلیف (٭حلیف اس شخص کو کہتے ہیں جس سے قسم کی دوستی ہو اہل عرب میں باہم قسم کھا کھا کے دوستی کے عہد کرنے کا دستور تھا) ہیں۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخرم (رضی اللہ عنہ)

ہجیمی۔ ان کا شمار صحابہ میں یحیی بن یمان کی حدیث کے سبب سے ہے جو انھوں نے عبداللہ تیمی سے نقل کی ہے یہ ابن ماکولا کا قوال تھا ان کا نسب ان کے بیٹے عبداللہ بن اخرم کے بیان میں آئے گا۔ میں کہتا ہوں کہ میرے خیال میں یہ ہجیمی وہی اخرم ہیں جن کا بیان اس سے پہلے ہوچکا ہے کہ ان کا نام اور قبیلہ عملوم نہیں کیوں کہ راوی ان دونوں سے دونوں تذکروں میں عبداللہ ہیں اور عبداللہ سے یحیی اور میں نے ان دونوں کا تذکرہ علیحدہ علیحدہ صرف امیر ابو نصر ماکولا کے پیروی کر کے لکھا کیوں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں ان کا تذکرہ اسی طرح یکے بعد دیگرے کیا ہے۔ بے شک انھوں نے دو شخص علیحدہ علیحدہ سجھے ہیں۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخرم (رضی اللہ عنہ)

  ان کا نام اور قبیلہ معلوم نہیں مگر ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ ان کو بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے۔ ان کی حدیث یحیی بن یمان عجلی نے قبیلہ تمیم اللات کے ایک شخص سے انھوں نے عبداللہ بن اخرم سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے ذی قار (٭ذی قار ایک خاص دن کا نام ہے) کے دن فرمایا آج پہلا دن ہے جس میں عرب نے عجم (٭یعنی عجم والے جو اہل عرب پر ظلم کر رہے تھے اور عرب کو سمجھتے تھے وہ بات اب جاتی رہی) سے اپنے حقوق کے لئے اور میری وجہس ے سب کو مدد ملی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے کیا ہے اور صرف اسی حدیث کو روایت کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اخرم (رضی اللہ عنہ)

  خے کے ساتھ۔ یہ اسدی ہیں یعنی قبیلہ اسد بن خزیمہ کے ان کو رسول خدا ﷺ کا سوار کہتے تھے۔ جس طرح حضرت ابو قتادہ کو کہتے تھے۔ حضرت اخرم سن۶ھ میں نبی ﷺ کے زمانے میں شہید ہوگئے تھے جب کہ عبدالرحمن بن عییینہ بن حصن حذیفہ بن بدر فزاری رسول خدا ﷺ کے مواشی پر شیخون مارا۔ ان کی شہادت کا واقعہ حضرت سلمہ بنب اکوع نے ایک طویل حدیث میں نقل کیا ہے جو صحیحین میں منقول ہے۔ اخرم ان کا لقب ہے اور نام ان کا محرز بن نضلہ ہے عنقریب ان کا ذکر محزر کے نام میں پورے طور پر ہوگا۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید