حضرت عبد الرحمن بن خزاعیکے والد ہیں ان کا تذکرہ محمد بن اسماعیل نے وحدان میں کیا ہے اور ان کے لئے (نبی ﷺ کی) صحبت اور آپ کا دیدار ثابت نہیں ہے۔ ہاں انکے بیٹے عبدالرحمن کے لئے صحبت ور رویت ثابت ہے ور ابن مندہ نے اپنی اسناد کے ساتھ ہشام بن عبید اللہ رازی سے انھوںنے مکیر بن معروف سے انھوںنے مقائل بن حبان سے انھوںنے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے انھوںنے عبدالرحمن بن ابزی سے انھوںنے اپنے والد سے انھوںنے رسول خدا ﷺ سے رویت کی ہے کہ آپنے ایکدن لوگوںکے سامنے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی پھر آپ نے کچھ مسلمانوںکا ذکر کیا کہ وہ اپنے پروسیوں کی تعلیم نہیں کرتے اور انھیں علم دین نہیں سیکھاتے اور انھیں عقلمند نہیں بناتے اور انھیں (عمدہ باتوں کا) حکم نہیں دیتے اور (بری باتوں سے) انھیں منع نہیں کرتے اور ان لوگوںکا کیا حال ہے کہ وہ اپنے پروسیوں سے علم نہیں حاصل کرتے اور ان سے دی۔۔۔
مزید
ہمیں ابو موسی نے اجازہ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عباد بن محمد بن محسن نے اپنی کتاب سے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو احمد مکفوف نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے ابو محمد بن حیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ولید بن ابان نے بیان کیا وہ کہتے تھے جسے یونس بن حبیب نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمس ے عامر نے یعقوب فمی سے انھوںنے جعفر سے انھوں نے سعید سے الذین اتینا ہم الکتاب من قبلہ ھم بہ یومنون (٭ترجمہ جن لوگوںکو ہہم نے محمد ﷺ سے پہلے کتاب دی ہے وہ محمد ﷺ پر ایمان لاتے ہیں) (کی تفسیر میں) روایت کیا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو ستر سواروں کے ساتھ نجاشی کے پاس بھیجا تھا پھر جب ان لوگوں کو یہ خبر ملی کہ نبی اللہ ﷺ بدر میں (کفار پر) غالب ہوگئے تو وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے پھر نجاشی کے اصحاب میں سے جو لوگ ایمان لے ائے تھے انھوںنے نجاشی سے کہا کہ ہمیں اجازت دیجیے تو ہم اس نبی کے پس جائیں جن ک۔۔۔
مزید
ابن نعیم ابن نحام عدوی ان کو ابو عبداللہ ابن مندہ نے صحابہ میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے حضرت جابر رضیاللہ عنہ نے روایت کی ہے بشرط یہ کہ وہ روایت صحیح ہو اور ابن مندہ نے اپنی اسناد کے ستھ (امام) ابو یوسف سے انھوںنے (امام) ابو حنیفہ سے انھوں نے عطاء سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہس ے روایت کی جو کہ ابراہیم بن نخام کا ایک غلام تھا اس کو انھوں نے مدبر (٭مدبر اس غلام کو کہتے ہیں جس سے اس کا مالک کہہ دے کہ میرے بعد تو آزاد ہے ایسے غلام کا شریعت میں یہ حکم ہیک ہ مال کی زندگی بھر غلام رہتا ہے اور بعد مالک کے آزد ہو جاتا ہے) کر دیا تھا پھر انھیں اس کی قیمت کی ضرورت پیش آئی تو انھوںنے اس کو آٹھ سو درہم میں بیچ ڈالا ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض وہم کرنے والوں نے (مراد ان کی ابن مندہ (امام) ابو حنیفہ سے انھوںنے عطا سے انھوںنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے رویت کی ہے کہ ابراہیم ابن نحام کا ایک۔۔۔
مزید
نجر (بڑھئی) جنھوں نے رسول خدا ﷺ کے لئے منبر بنایا تھا۔ ابو نضرہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ ایک چھوہارے کے ستون سے تکیہ لگا کے خطبہ پڑھا کرتے تھے آپ سے عرض کیا گیا کہ (اب۹ لوگ بہت (مسلمان) ہوگئے ہیں اور اطراف و جوانب سے قاصد آپ کے پاس آتے ہیں پس کاش آپ کوئی ایسی چیز بنوا لیتے جس پر آپ بیتھا کرتے تو آپ نے پوچھا ہ تمہارا نام کیا ہے جو اس نے اپنا نام بتایا تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کام کے نہیں (٭شاید حضرت کو بذریعہ وحی منبر بنانے والے کا نام معلوم ہوگیا ہو اس وجہس ے آپنے نام سن کر فرمایا کہ تم اس کام کے نہیں ہو) ہو پھر آپ نے دوسرے شخص کو بلوایا اور اس ے بھی ایسی ہی گفتگو کی پھر تیسرے شخص کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اس نے کہا ابراہیم آپ نے فرمایا کہ تم منبر بنائو چنانچہ جب وہ بنا کے لائے اور رسول خدا ﷺ اس پر بیٹھے تو وہ ستون رونے لگا جس طرح ا۔۔۔
مزید
ابن قیس بن معدیکرب کندی حضرت اشعث بن قیس کے بھائی نبی ﷺ کے پاس اپنی قوم کی طرف سے آئے تھے یہ ہشام کلبی کا مقولہ ہے اور ان کا تذکرہ ابو موسی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ ابن مندہ سے ان کا تذکرہ چھوٹ گیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن قیس یہ ابراہیم حضرت ابو موسی اشعری ۰جن کا نام عبداللہ بن قیس ہے) کے بیٹے اور ان کے نسب کا بیان انشاء اللہ تعالی ان کے والد کے تذکرے میں آئے گا یہ ابراہیم نبی ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے اور آپہی نے ان کا نام ابراہیم رکھا تھا اور ان کی تحنیک فرمائی تھی۔ (صحابہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ سب سے پہلے وہ اپنے بچوں کو حضور نبوی میں لے جاتی تھی حضرت اس بچے کو گود میں لے کر چھوہارے وغیرہ چبا کر اس کے منہ میں ڈالتی تھی اسی کو تحنیک کہتے ہیں) ہمیں ابو عبداللہ محمد بن محمد بن سراہا بن علی بلدی نے اور ابو الفرح محمد بن عبدالرحمن بن ابی الغرواسطی نے اور ابوبکر مسمار بن عمر بن حویس نیار بغدادی نے اور ابو عبداللہ حسین بن ابی صالح بن فناخسرو دیلمی تکریتی نے خبر دی یہ سب لوگ کہتے تھے ہمیں ابو الوقت نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن اسمعیل بخاری سے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسحق بن نصر نے ۔۔۔
مزید
ابن عبدالرحمن بن عوف زہری اور ہم ان کا (پورا) نسب ان کے والد کے تذکرہ میں لکھیں گے ان کی کنیت ابو اسحاق ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو محمد اور ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہیں۔ محمد بن اعد واقدی نے ذکر کیا جو کہ انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے۔ ابو نعیم کہتے ہیں اور اس بات کی دلیل کو یہ رسول خدا ﷺ کی حیات میں پیدا ہوچکے تھے وہ روایت ہے جو ابراہیم بن منذر سے منقول ہے کہ ابراہیم بن عبدالرحمن نے ۷۵ھ میں وفات پائی اور عمر ان کی اس وقت (۷۶) سال کی تھی اور یہ حضرت عمر بن خطاب سے اور اپنے والد (حضرت عبدالرحمن بن عوف) سے روایت کرتے ہیں ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے (ابو عمر نے نہیں لکھا) میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک ابو نعیم کے قول میں اعتراض ہے کیوںکہ انھوںنے ابراہیم بن عبدالرحمن کے صحابی ہونے پر استدلال کیا ہے ابن منذر کے اس قول سے کہ انھوں نے سن ۷۵ھ میں وفات پائی اور ا۔۔۔
مزید
ابن عبدالرحمن عذری ان سے معان بن رفاعہ نے روایت کی ہے اس روایت کو حسن بن عرفہ نق اسماعیل بن عیاش سے انھوںنے معان سے انھوں نے ابراہیم سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحابہ میں سے ہیں مگر کسی اور نے ان کی موافقت نہیں کی۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ہمیں محمد بن عبید اللہ بن ابی رجا نے خبر دی وہ کہتیہیں ہمیں موسی بن ہارون نے خبر دی وہ کہتے ہیں ہمس ے سلیمان بن دائود زہرانی نے خبر دی وہ کہتے ہیں ہمس ے حماد بن زید نے تقیۃ بن ولید سے انھوں نے معان بن رفعہ سے انھوں نے حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن عذری سے نقل کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے رسول خدا ﷺ نے فرمایا اس علم کو ۰یعنی علم دین کو) ہر زمانے کے عادل (یعنی پرہیزگار) لوگ حاصل کریں گے اور دغابازوں کی تحریف اور غلط کاروں کی انتسا اور جاہلوں کی تاویل کو شریعت سے دور کرتے رہیں گے۔ اور ولید بن مسلمہ نے معان سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ور محمد بن سلیمان بن۔۔۔
مزید
ابن عباد ابن نہید بن اساف بن عدی بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک ابن اوس انصاری اوسی حاشق جنگ احد میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے اور ابو موسینے لکھا ہے حارثہ ثای مثلث کے ساتھ ہے اور انھیں کی طرف ان کی نسبت ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
(ان کی کنیت) ابو رافع ہے رسول خدا ﷺ کے غلام تھے۔ ابن معین کہتے ہیں کہ ان کا نام ابراہیم تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں ہرمز اور علی بن مدینی ور مصعب کہتے ہیں کہ ان کا نام اسلم تھا علی بن مدینی نے کہا ہے کہ بعض کا بیان ہے کہ ان کا نام ہرمز تھا اور بعض کا قول ہے کہ ان کا نام ثابت تھا اور یہ قطبی تھے۔ پہلے حضرت عباس کے غلام تھے انھوں نے نبی ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا۔ یہ مکہ میں (قبل از ہجرت) ام فضل کے ساتھ اسلام لائے تھے اور ان لوگوں نے اپنا اسلام مخفی رکھا تھا جنگ احد اور خندق میں شریک ہوئے اور نبی ﷺ کے اسباب کی حفاظت کرتے رہے جب انھوں نے نبی ﷺ کو حضرت عبس کے مسلمان ہو جانے کی خوشخبری سنائی تو نبی ﷺ نے انھیں آزاد کر دیا اور ان کے ساتھ اپنی آزاد کردہ لونڈی حضرت سلمی کا نکاح کر دیا حضرت بو رافع فتح مصر میں بھی شریک تھے۔ سن۴۰ میں وفات پائی۔ یہ قول ابن ماکولا کا ہے اور بعض لوگوںنے اس کے خلاف بھ۔۔۔
مزید