زاہدِ یگانہ عابدِ زمانہ خدا تعالیٰ کا منتخب و بر گزیدہ شرف اختصاص کے ساتھ مخصوص خواجہ ابو بکر مصلی دار خاص ہیں جو سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف کے ساتھ مشرف تھے اور خلا ملا میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اگرچہ آپ کو سلطان المشائخ کی خدمت میں سے کوئی وقت سانس لینے کو نہیں ملتا تھا اور ہر وقت اس میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے بلکہ کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ افطار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ قطع نظر اس کے آپ انتہا درجہ کی مشغولی اور سخت مجاہدہ میں محو رہتے تھے۔ جب جمعہ کے دن سلطان المشائخ کا مصلا نماز فجر کے بعد کیلوکھری کی جامع مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تھا تو سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابو بکر میرا مصلّٰی جامع مسجد میں لے گئے ہیں اور مشغول بحق ہیں۔ خواجہ ابو بکر کو سماع ک۔۔۔
مزید
خواجہ تقی الملۃ والدین نوح ہیں جو علم کے ساتھ موصوف اور تحمل و وقار کی طرف منسوب تھے۔ فرشتوں کی سی صفات اپنے میں رکھتے تھے اور پسندیدہ ذات۔ حضرت سلطان المشائخ کی شرفِ قرابت سے مشرف تھے اور خواجہ رفیع الدین ہارون کے چھوٹے بھائی تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص تھے اور جوانی ہی کے زمانہ میں بزرگوں کے اوصاف حاصل کر لیے تھے۔ کاتبِ حروف اس بزرگ کے فضائل و مناقب کیونکر لکھ سکتا ہے۔ جبکہ خود سلطان المشائخ نے اس بزرگ کے بارہ میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ یارو! اسے عزیز رکھو کیونکہ یہ نہایت نیک آدمی ہے۔ حافظ قرآن ہے اور ہر جمعہ کی شب کو ختم کرتا ہے۔ تعلیم و تعلم میں اس کی خواہش بڑھی ہوئی ہے اور علمی حصہ بہت کچھ حاصل ہے باوجود ان پسندیدہ صفات کے کسی سے کچھ غرض نہیں رکھتا ہے اور کسی کی دوستی و دشمنی سے کام نہیں ہے۔ غرض کہ ہر طرح سے نہایت صالح اور نیک بخت ہے یہاں۔۔۔
مزید
خواجہ رفیع الملۃ والدین سلطان المشائخ کے حقیقی بھانجے ہیں جو مکارم اخلاق کے ساتھ موصوف اور جناب سلطان المشائخ کی قربت و شفقت کے ساتھ مخصوص و معروف تھے اور بچپن کے زمانہ سے بڑھا پے تک سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کی مہربانی و شفقت کی وجہ سے کلام ربانی کے حافظ ہوگئے تھے۔ سبحان اللہ اس شفقت و مہربانی کا کیا کہنا جو سلطان المشائخ کو آپ پر تھی کہ اگر کسی وقت یہ بزرگ کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر نہ ہوتے تو سلطان المشائخ با وجود اس قدر بزرگوں کے ہوتے کھانے میں توقف کرتے اور ان بزرگ کے پہنچنے کا انتظار کرتے۔ آپ کے پاس جو تحفے اور ہدیئے آتے ان میں سے کافی حصہ آپ کو بھیجتے او راپنے تمام اقرباء کی فہرست میں اس بزرگ کااول نمبر رکھتے اور اپنے فرزندوں کی جگہ ظاہر و باطن میں آغوش محبت اور سایۂ عاطفت میں پرورش کرتے تھے ہر وقت انہیں دیکھ کر مسکراتے اور ن۔۔۔
مزید
دوسرے شیخ زادے یعنی شیخ کبیر الملۃ والدین کے فضائل خاص میں جو محبت و وفا کے آئینےاور خلفاء و دلا کے پورے فوٹو تھے یہ بزرگ زادہ شیخ عزیز الدین کے چھوٹے بھائی اور شیخ شیوخ العالم کے نواسے ہیں جنہیں نے ابتدائے جوانی سے دم وفات تک حضرت سلطان المشائخ کے سایۂ عاطفت اور نظر مبارک میں پرورش پائی اور کبھی آپ کی صحبت سے جدا نہیں ہوئے آپ خانقاہ کی دیوار کے تلے مقام سکونت رکھتے تھے اور ہمیشہ سلطان المشائخ کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے۔ اگر اتفاقاً آپ دستر خوان بچھتے وقت تشریف نہ رکھتے تو سلطان المشائخ کے حکم سے عبد الرحیم ان بزر گوار کا حصہ ان کے مکان پر پہنچا دیتے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ یہ بزرگوار سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر تھے اور ایک شخص چند کاک آپ کے سامنے لایا۔ سلطان المشائخ نے اقبال خادم کو بلا کر فرمایا۔ کہ انہیں تقسیم کردو۔ اقبال نے تمام حاضرین جلسہ کو و۔۔۔
مزید
شیخ زادہ دلکشا والی ولایت والا خواجہ عزیز الملۃ والدین صوفی ہیں۔ ان بزرگوار کی والدہ محترمہ بی بی مستورہ شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس سرہ العزیز کی صاحبزادی ہیں۔ یہ شیخ زادے بے شمار فضائل اور انگنت معانی و لطائف رکھتے تھے اور حضرت سلطان المشائخ کے روح افزا ملفوظات سے ایک کتاب مرتب کی تھی جسے تحفۃ الابرار فی کرامت الاخیار کے نام سے آج تک شہرت حاصل ہے اور جو سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے اکثر اوقات گزری ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے حضور میں دستر خوان بچھایا گیا تھا اور تمام حاضرین کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ مولانا وجیہہ الدین پائلی ان شیخ زادے سے اونچی جگہ بیٹھ گیا۔ سلطان المشائخ نے دیکھا تو فرمایا۔ مولانا! جس طرح میں اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ کوئی مجعد متعمم سے بلند جگہ بیٹھے اسی طرح میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی متعمم میرے مخدوم زادوں سے اونچے م۔۔۔
مزید
علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد امام کی غیبت میں۔۔۔
مزید
شیخ شیوخ العالم کے عام نواسوں کے سر دفتر شیخ زادہ معظم و مکرم خواجہ محمد ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جن کی والدۂ محترمہ شیخ شیوخ العالم کی صاحبزادی تھیں۔ یہ شیخ زادے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف اور علوم دینی اور تقویٰ و طہارت موزونی طبع ذوق سماع جگر سوز گریہ اور فیاضی طبع سخاوت شجاعت میں مشہور و مذکور تھے۔ بچپنے کے زمانے سےلے کر بڑھاپے تک حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی۔ کلام ربانی کے حافظ ہوئے اور علوم و افر عشق کامل حاصل کیا حتی کہ سلطان المشائخ کی حالت زندگی ہی میں آپ کی خلافت کے معزز و ممتاز مرتبے کو پہنچ گئے۔ اور سلطان المشائخ کی حیات میں خلق خدا سے بیعت لینے لگے۔ خواجہ محمد سلطان المشائخ کی امامت کے ساتھ مخصوص تھے۔ چنانچہ آج کے دن تک لوگ آپ کو خواجہ محمد امام کہہ کر پکارتے ہیں۔ سلطان المشائخ کو آپ کی امامت میں رقت ۔۔۔
مزید
صورت و سیرت میں سلف کے آئینہ خلف کے فخر خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابراہیم ابن خواجہ نظام الدین ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ تھیں اور رشتہ میں کاتب حروف کی پھوپھی لگتی تھیں۔ کاتب حروف اور اکثر ان اہل ارادت کا گمان ہے جو ان بزرگوار شیخ زادہ سے ملے ہیں کہ آپ سے کوئی صغیرہ و جود پزیر نہیں ہوئی۔ شیخ عزیز الدین کا باطن خدا تعالیٰ کی یاد سے معمور تھا اور ظاہر تبسم اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ رکھتے تھے۔ آپ کا دلِ مبارک مراقبہ اور ذکر خفی سے منور اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع تھا اور یہ سب باتیں اس برکت سے حاصل ہوئی تھیں کہ آپ نے حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور دستر خوان بچھنے کے وقت ہمیشہ حاضر رہتے تھے اگر کسی وقت خواجہ محمد اور خواجہ موسی جنہیں سلطان المشائخ سے دستر خوان کی دعا پڑھنے کا عہدہ ملا تھا حاضر نہ ہوتے تو یہ بزر گزادے دستر خوان کی دعا پڑھتے اور جب۔۔۔
مزید
کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا سا۔۔۔
مزید
شیخ زادہ عالم خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو فیاضی و سخاوت و مروت و مردمی میں بے مثل تھے آپ مستجاب الدعوات اور صاحب فتوح تھے۔ دیوگیر اور تلنگ کے اطراف کے تمام باشندے آپ کے معتقد اور غلام تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ زادہ سے دیوگیر میں ملاقات کی ہے۔ حقیقت میں آپ زیباہئیت اور شوکت و دبدبہ بہت کچھ رکھتے تھے۔ آپ کے برادر حقیقی خواجہ قاضی سادہ باطن تھے اور عام اخلاق رکھتے تھے۔ یہ دونوں بھائی جو عالم کے شیخ زادے تھے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں بہت مدت تک رہے ہیں۔ اور آپ سے ایک زمانہ دراز تک پرورش پائی۔ شیخ عزیز الدین نے دیوگیر ہی میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے اور خواجہ قاضی سلطان المشائخ کے خطیرہ میں یاروں کے چوترے کے سرے پر مدفون ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔ (سِیَرالاولیاء)۔۔۔
مزید