بدھ , 20 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 08 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ علاؤ الدین رحمۃ اللہ علیہ

  مشائخ طریقت کے افضل اولیائے حقیقت میں اکرم شیخ علاؤ الملۃ والدین ابن شیخ بدر الدین سلیمان ہیں جو علو درجات اور رفعت مقامات اور شدت مجاہدات اور ذوق مشاہدات میں اپنے زمانہ میں نظیر نہیں رکھتے تھے اور بذل و ایثار میں بے مثل تھے۔ ظاہر و باطن کی طہارت کے مبالغہ میں مشائخ وقت میں کوئی آپ کا دعویدار نہیں تھا۔ یہ بزرگوار سولہ سال کے تھے کہ شیخ شیوخ العالم کے سجادے پر اپنے والد بزرگوار شیخ بدر الدین سلیمان کی جگہ بیٹھے اور کامل چون سال تک اس سجادہ کا حق کماینبغی ادا کیا یہاں تک کہ آپ کی عظمت و کرامت کا شہرہ آپ کی عزیز و قیمتی زندگی ہی میں تمام عالم میں مشہور ہوگیا تھا اور آپ کا اسم مبارک اولیاء اللہ کے ناموں کی فہرست میں مذکور و معروف ہوگیا تھا چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد دیار اجودھن اور دیپالپور اور جھالی میں جو کشمیری کی سمت میں واقع ہیں ان شہروں کے باشندوں نے غایت محبت اور اعتقاد کی وجہ سے۔۔۔

مزید

خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ

  سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور  دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس  کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر  ہے کہ خطہ  اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و  تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور ک۔۔۔

مزید

شیخ بدر الدین سلیمان رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ المشائخ طریقت آفتابِ عالم حقیقت  شیخ بدر الملۃ  والدین سلیمان ہیں جو علم تقوی کے ساتھ مشہور اور  مشائخ کبار کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ شیخ شیوخ العالم  کے انتقال کے بعد جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین اپنے والد کے سجادہ  پر باتفاق راے تمام بھائیوں اور  ان اہل  ارادت  کے جو وہاں حاضر و موجود بیٹھے تھے اور اس  مقام کو نور  حضور حضور سے منور  و روشن کیا۔ کیونکہ آپ ہی الولد سر لابیہ کے پور سے فوٹو تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ شیخ بدر الدین سلیمان محلوق نہ تھے بلکہ سر پر مانگ رکھتے تھے جیسا کہ مشائخ چشت قدس اللہ سرہم العزیز کا طریقہ ہے کیونکہ آپ خلفائے چشت سے بیعت  رکھتے اور دست خلافت  حاصل کیے ہوئے تھے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب لوگوں نے خواجہ قطب الدین چ۔۔۔

مزید

خواجہ شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ

  علم کے دریا تحمل و وقار کی کان تقوی سے آراستہورع سے پیراستہ مولانا شہاب الملۃ والدّین ہیں جو کثرت علم اور بے انتہا فضائل کے ساتھ مشہور تھے اوراکثر اوقات شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور اگر شیخ شیوخ العالم کی مجلس میں کوئی علمی بحث چھڑ جاتی تو آپ اس باب میں بحث شروع کرتے اور اس بحث کو نہایت  دل آویز  تقریر کے ساتھ تمام کرتے یہاں تک کہ شیخ شیوخ العالم کی تسلی ہوجاتی۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ مجھ میں اور مولانا شہاب الدین میں محبت کا طریقہ سلوک تھا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ شیخ شیوخ العالم کی خدمت  میں بغیر اختیار و قصد کے مجھ سے ایک جرأت و دلیری ہوگئی تھی اور اس کا قصہ یہ ہے کہ ایک دن عوارف  کا نسخہ شیخ  شیوخ العالم کی خدمت میں موجود  تھا اور آپ اس میں سے کچھ فوائد بیان فرما رہے تھے وہ نسخہ نہایت باریک خط سے لکھا۔۔۔

مزید

خواجہ نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ زادہ معظم فخر بنی آدم خواجہ نصیر الدین نصر اللہ ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے فرزندوں میں سب سے بڑے اور اوصاف حمیدہ و اخلاق پسندیدہ میں مشہور و معروف تھے۔ آپ نے ایک زمانہ دراز تک خدا تعالیٰ کی اطاعت اور زراعت و حراثت میں جو کسب حلال اور لقمہ پاکیزہ ہے گزارا اور ظاہر و باطن میں خدا تعالے کی بندگی کی اور اپنی عمر عزیز باری تعالیٰ کی رضا مندی میں بسر کردی۔ (سِیَرالاولیاء)۔۔۔

مزید

مولانا بدر الدین اسحاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات

  باسط علوم ربانی کاشف غوامضِ معانی مولانا بدر الحق والدین اسحاق بن علی بن اسحاق دہلوی ہیں۔ یہ بزرگ زہد و تقوی اور عشق و درد اور آہ و زاری میں بے نظیر تھے۔ جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور خلیفہ اور خادم تھے۔ مولانا بدر الدین اسحاق کا شیخ شیوخ العالم سے ملاقات کرنا اور آپ سے بیعت کرنا منقول ہے کہ یہ بزرگ بھی دہلی کے باشندے تھے۔ تحصیل علوم اسی شہر میں کی تھی اور دہلی کے دانشمندوں اور طباعوں کے زمرے میں علم و فضل میں فائق ہوگئے جب آپ نے دانشمندی اور علمی تبحر میں کمال حاصل کر لیا اور دہلی کے علما و فضلا میں امتیاز یہ نظروں سے دیکھے جانے لگے تو گوشہ نشینی اختیار کی لیکن چونکہ ہمت بلند رکھتے تھے اس لیے یہ بات ہمیشہ پیش نظر تھی کہ تمام علوم و فنون پر اچھی طرح حاوی ہونا اور انہیں عروج پر پہنچا دینا چاہیے۔ علاوہ ازیں ہر علم و فن میں چند اشکال بھی اس قسم ۔۔۔

مزید

شیخ نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے حالات

  اہل شریعت کے پیشوا اہل طریقت کے مقتدا اولیاء عرب میں توکل کے ساتھ گلاب کی طرح مشہور سر سے قدم تک تمام دل یعنی شیخ نجیب الدین متوکل قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید  الحق والدین کے خلیفہ اور بھائی تھے۔ یہ بزرگ عجیب و غریب معاملہ رکھتے تھے اور عجب طرز و روش کے آدمی تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ شیخ نجیب الدین متوکل باوجود  یکہ ستر سال شہر میں مقیم رہے لیکن کوئی گاؤں کوئی وظیفہ پاس  نہ رکھتے تھے اپنے فرزندوں اور متعلقین کے ساتھ توکل پر گزارا کرتے اور نہایت خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میں نے شیخ نجیب الدین جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شیخ نجیب الدین نہایت بھولے اور دنیا سے بے خبر آدمی تھے۔ آپ بالکل نہ جانتے تھے کہ آج  کون سا  دن ہے اور یہ کون سا  مہینہ اور یہ کس قدر درم ہیں۔ سلطان المش۔۔۔

مزید

شیخ بدر الدین غزنوی کے حالات

  بدر السالکین شمس العارفین محبت کے جنگل کے شیر مودت کے سر چشمے شیخ بدر الدین غزنوی ہیں۔ جو پسندیدہ احوال اور منتخب و برگزیدہ افعال رکھتے اور اپنے زمانے میں اہل سماع و عشق کے درمیان محتشم اور شیخ الاسلام جناب قطب الدین بختیار اوشی کے ممتاز و معزز خلیفہ تھے۔ مشائخ روزگار آپ کی بزرگی کے معترف و معتقد تھے آپ نہایت موثر لفظوں میں وعظ کہتے جس کا اثر سننے والوں پر بہت کچھ پڑتا۔ خلق خدا کو اپنی دل پذیر اور با اثر تقریر سے رشک میں ڈالتے اور دلوں کو راحت و آسائش پہنچاتے آپ بیشتر ادائے محبت میں تھے آپ کا نہایت قیمتی دیوان ہے جو عاشقانِ خدا کے لیے دستور العمل ہے۔   شیخ بدر الدین غزنوی کے غزنی سے لاہور اور پھر لاہور سے دہلی میں آنے اور شیخ لاسلام جناب قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہما العزیز کی خدمت میں بیعت کرنے کا بیان حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ شیخ بدر الدین غزنوی ۔۔۔

مزید

شیخ محمد صدیق کتھیلی

  حضرت شیخ سوندہا کے اصحاب میں سے ایک حضرت شیخ محمد صادق کتھیلی تھے۔ جن پر استغراق  غالب تھا۔ آپ کو ذوق سماع حد درجہ کا تھا۔ بعض اوقات سماع میں آپکی یہ حالت ہوتی تھی کہ روح جسم سے پرواز کر جاتی تھی۔ اور جسم ایک پہر تک مردوں کی طرح پڑا رہتا  رحمۃ اللہ علیہ۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔ ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود   ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد (قتباس الانوار)   ۔۔۔

مزید

شیخ حمید الدین سوالی قدس اللہ سرہ العزیز کے مجاہدے اور  روش کا بیان

  منقول ہے کہ شیخ حمید الدین ناگور کے خطہ میں ایک بیگھہ زمین رکھتے تھے جو آپ کی ملکیت خاص تھی اسی ایک بیگھہ زمین میں آپ اپنی زندگی بسر کرتے اور اسی سے اپنےے متعلقین کی قوت چلاتے تھے اول نصف بیگھہ زمین اپنے دستِ مبارک سے بیلچہ سے درست کرتے اور  کچھ کاشت کرتے۔ جب یہ آدھا بیگھہ زمین پھلتی پھولتی اور بار آور ہوجاتی تو پھر دوسرا نصف بیگھہ درست کرتے اور اس میں کوئی چیز بوتے اس سے جو کچھ حاصل ہوتا اسے لابدی قوت اور ضروری ستر عورت میں صرف کرتے چنانچہ آپ ایک فوطہ چادر کمر مبارک سے باندھتے اور ایک چادر جسم مبارک پر ڈالتے اسی طریق سے اس دنیائے غدار میں عمرِ عزیز بسر کرتے۔ حکیم سنائی خوب کہتے ہیں۔ این دو روزہ حیات نزد خرد چہ خوش و نا خوش  و چہ نیک و چہ بد (عقلمند کے نزدیک یہ دو روزہ  زندگی خوشی و نا خوشی اور بری یا بھلی حالت میں گزارنا برابر ہے۔) جب ناگور کے صوبہ کو خبر ہوئی تو وہ۔۔۔

مزید