شیخ نورالحق محدث دہلوی آپ شیخ نور قطبِ عالم کے نام سے مشہور تھے اور شیخ علاء الحق کے بیٹے مرید اور خلیفہ تھے، ہندوستان کے بہت بڑے ولی اور صاحب ذوق و شوق اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ اپنے والد محترم کی خانقاہ کے جملہ درویشوں اور فقیروں کی خدمت کرتے اور اپنے ہاتھ سے ان کے کپڑے دھویا کرتے اور ان کی ضروریات کے لیے پانی گرم کرکے دیا کرتے تھے، ابتداء میں آپ کے سپرد پانی کا انتظام تھا اتفاق سے ایک دن آپ پانی کے انتظام میں مصروف تھے کہ اچانک ایک فقیرکے پیٹ میں درد ہوا اور وہ سیدھا آبخانہ میں گھس آیا اور اسے اتنا بڑا دست آیا کہ جس سے نور الحق کے تمام کپڑے خراب ہوگئے، اتفاقاً اسی وقت آپ کے والد بزرگوار شیخ علاؤ الحق بھی وہاں سے گزرے تو اپنے فرزند نور الحق کو اس حالت میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اس کے بعد آپ کے سپرد ایک دوسرا کام کردیا گیا کہ اب یہ کام کیا کرو۔ شیخ حسام الدین ما۔۔۔
مزید
حضرت شیخ احمد بن عبدالقادر شافعی کوکنی (ممبئی) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
آپ نصیرالدین محمود دہلوی کے بھانجے، خلیفہ، اور خادِم تھے، شیخ نصیرالدین کی کتاب ’’خیرالمجالس‘‘ اور ملفوظات میں آپ کا ذکر ہے۔ آپ کے ایک مرید نے اپنی کتاب ’’جندائن‘‘ کی ابتداء میں آپ کی مدح و تعریف کی ہے، آپ کی قبر شیخ نصیرالدین کے گنبد کے پائیں والے اُس گنبد میں ہے جو قبرستان کے صحن والے حصہ میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ کے آباء و اجداد نے مشہد سے آکر ملتان میں سکونت اختیار کی، سلطان فیروز کے زمانہ میں آپ ایک فوجی کی حیثیت سے ملتان سے دہلی تشریف لائے۔ آپ فوج ہی میں تھے کہ سلطان فیروز نے آپ کی بزرگی اور علمی کارناموں کے پیش نظر آپ کو اپنے اس مدرسہ میں جہاں اس نے حوض خاص علائی اور اپنا مقبرہ بنوایا تھا مدرس مقرر کردیا، آپ نے برسوں تک اس مدرسہ میں تعلیم دی اور لوگوں کو علم سے نوازا، آپ جمعرات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کیا کرتے تھے، آپ نے قاضی نصیرالدین بیضاوی کی مشہور کتاب ’’لب اللبا ب فی علم الاعراب‘‘ کی ایک مفصل شرح بھی لکھی ہے جو ’’یوسفی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ’’لب اللباب‘‘ ایک مختصر اور مفید کتاب ہے جو ہمارے ہاں دہلی میں بہت مشہور ہے، نیز آپ نے مشہور کتاب منار کی بھی ایک شرح لکھی ہے جو ’&rsq۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے عقلمند تھے، سلطان محمد تغلق کے زمانے میں دہلی سے نارنول میں تشریف لے گئے تھے، ابتدائی زمانہ میں شادی سے پہلے آپ حج کے اِرادہ سے نکلے راستہ میں جب گجرات پہنچے تو ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک معتزلی منبر پر اپنے مذہب معتزلہ کے پیش نظر بندوں کے خالق افعال ہونے پر تقریر کر رہا ہے، اس نے اپنی تقریر کے دوران لوگوں سے کہا کہ دیکھو یہ میرا ہاتھ ہے، اگر میں اسے کھولنا چاہتا ہوں تو یہ کھلتا ہے اور اگر مٹھی بند کرنا چاہتا ہوں تو بند ہوجاتی ہے۔ قاضی شمس الدین صاحب کھڑے ہوئے اور آپ نے اس معتزلی سے فرمایا کہ اگر آپ اپنے تمام افعال کے خالق ہیں اور اپنے وجود کے متعلق سب کچھ کرسکتے ہیں تو پھر اپنے ہاتھ کو اپنی پیٹھ پر لے جا کر کیوں نہیں ملا سکے؟ قاضی شمس الدین کا یہ اعتراض حاکم گجرات کو بہت پسند آیا اور اس پسندیدگی کا اظہار اس طرح کیا کہ دارالحرب سے جو لونڈیاں آئی تھیں ان میں سے ایک لون۔۔۔
مزید
آپ کا مزار نار نول میں ہے، آپ شیخ قطب الدین ہانسوی کے مریدوں میں سے تھے، آپ نے نازنول کے جنگلوں اور پہاڑوں میں اتنی کثرت سے ریاضت کی کہ چرند و پرند بھی آپ کے فرمانبردار ہوگئے اور درندے اور چڑیاں آپ سے محبت کرنے لگے۔ شیر کی سواری سانپ کا کوڑا مشہور ہے کہ جب آپ اپنے مرشد کے پاس ہانسی جانا چاہتے تو جنگل سے ایک شیر پکڑتے اور اس پر سوار ہوتے اور سانپ کو پکڑ کر اس کا ہنٹر بنالیا کرتے، ایسی حالت میں اپنے مرشد کی ملاقات کے لیے روانہ ہوتے اور جب شہر ہانسی کے قریب پہنچتے تو شیر اور سانپ کو باہر چھوڑ کر پیدل مرشد کی خدمت میں حاضر ہوتے ایک دن شیخ قطب الدین منور ایک دیوار پر بیٹھے تھے، سید قطب الدین پر وجد کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ شیر پر سوار ہونے کی حالت میں اپنے پیر صاحب کے پاس پہنچے، آپ کے پیر صاحب نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ سید یہ تو حیوان ہے، اللہ والے اگر دیوار کو حکم دیں جو بے جان ہے تو وہ بھی چلن۔۔۔
مزید
آں دلیل سالکان بادیہ وجود، و حجتِ واصلان ناصیہ مقصود، وسلیمان ملک لایزالی وسر حلقۂ شاہدان لاوبالی، وفائز کمالات الفقر فخری، غوثدوران حضرت خواجہ ہبیرہ البصری قدس سرہٗ علماء واولیاء وقت کے پیشوا تھے۔ آپ معرفت حق میں مشائخ کبار کے درمیان مشہور و معروف تھے۔ آپ کےدرجات رفیع اور مقامات اعلیٰ تھے۔ آپ حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ آپ بڑے مرقاض وعبادت گزار تھے۔ تربیت مریدین میں آپ کی نسبت بہت قوی تھی۔ آپ مقبولیت تامہ رکھتے تھے اور اسرار ور موز کی محافظت میں میں اس قدر پختہ تھے کہ آپ کا لقب امین الدین ہوگیا تھا۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ہبیرہ البصری صاحب الطائفہ تھے اور آپ کے مریدین ہبیریان کہلاتے ہیں۔ آپ کا اور آپ کے مریدین کا طریق یہ تھا کہ ہمیشہ باوضو رہتے تھے، نماز حضور دل کے ساتھ گزارتے تھے۔ اور ان کی مجالس میں غیر کا ذکر ہر گز نہیں ۔۔۔
مزید
آپ کے والد بزرگوار کا نام عالم اور دادا کا نام قوام الدین تھا، آپ شیخ زین الدین الخونی کے اصحاب اور خلفاء میں سے تھے، علوم ظاہری اور باطنی میں اپنے زمانے کے ماہر و کامل عالم تھے، اگرچہ آپ کے آباء و اجداد ملتان کے رہنے والے تھے مگر آپ کی پرورش ہرات میں ہوئی، شیخ زین الدین الخوانی کے انتقال کے بعد مرشد کی وصیت کے مطابق لوگوں نے آپ کو پیر صاحب کا جانشین مقرر کردیا تھا، چنانچہ آپ اپنے پیر صاحب کے مسلک کو زندہ رکھنے کے لیے ہرات ہی میں مستقل رہائش پذیر ہوگئے اور وہیں عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ شیخ زین الدین الخوانی نے ایک بار فرمایا کہ ہزاروں لوگ میرے مرید ہوئے مگر سوائے سراج الدین کے کسی نے میری خوشنودی کو ملحوظ نہیں رکھا، اور انہوں نے برسوں میری خدمت کی اور کبھی میری رضا کے خلاف کام نہیں کیا، مشائخ ہرات کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ جن اولیاء اللہ کو میں جانتا ہوں ان میں سے ۔۔۔
مزید
آپ شیخ نصیرالدین محمود کے اجلاء خلفاء میں سے تھے علاوہ خواجہ نظام الدین اولیاء کے منظور نظر تھے، آپ کے والد بزرگوار ایک بڑے تاجر تھے، اور خواجہ صاحب کے معتقدین میں سے تھے، ان کی عمر تقریباً بڑھاپے تک پہنچ چکی تھی اور اس عرصہ میں ان کے کوئی اولاد نہ ہوئی (جیسے عموماً لوگوں کو اولاد کے نہ ہونے کا قلق ہوتا ہے) ان کو بھی اس کا قلق اور افسوس تھا، ایک دن خواجہ نظام الدین پر حال کی کیفیت طاری ہوئی تو اسی عالم میں خواجہ صاحب نے اپنی پیٹھ ان کے والد بزرگوار کی پیٹھ سے رگڑی اور فرمایا کہ جاؤ تمہارے لڑکا ہوگا آپ نے چونکہ خواجہ صاحب کے نہایت ہی عقیدت مند تھے اس لیے بچے کی خواہش میں اپنی بیوی کے پاس گئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ عزوجل کے حکم سے ان کی بیوی کو حمل ہوگیا، جب صدرالدین پیدا ہوئے تو ان کے والد ان کو خواجہ صاحب کے پاس لے گئے چنانچہ شیخ نے انہیں اپنی گود میں لے۔۔۔
مزید