اتوار , 21 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 07 June,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت سید شیخ محمد جعفر مکی

آپ شیخ نصیرالدین محمود کے ممتاز خلفاء میں سے تھے، مقام توحید و وحدت میں عالی مرتبہ رکھنے کے علاوہ بڑے بلند پایہ بزرگ اور ولی تھے، آپ نے جو اپنے ظاہری و باطنی حالات تحریر فرمائے ہیں ان کو دیکھ کر انسانی عقل حیران رہے بغیر نہیں رہ سکتی اگر ان تمام احوال کو بغیر کسی تاویل کے اپنے ظاہر ہی پر محمول کرلیا جائے تو یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ واقعی آپ اپنے وقت کے بہت بڑے کامل بزرگ تھے۔ آپ نے اپنی کتاب ’’بحرالمعانی‘‘ میں توحید کے اکثر دقائق اور مختلف قوموں کےعلوم اور معرفت کے اَسرار کو بیان فرمایا ہے اور آپ کی تحریر کا انداز بڑا ہی پیارا اور مستانہ  وارانہ ہے۔ آپ نے اور بھی دو کتابیں جن میں ایک کا نام وقائق معانی اور دوسری کا نام حقائق معانی لکھنے کا وعدہ کیا ہے، اللہ معلوم آپ کی یہ کتابیں لکھی گئی ہیں یا نہیں، علاوہ ازیں آپ کے یہ رسالہ جات بھی ہیں۔ (1) یہ رسالہ روح کے بیا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ شہاب الدین

آپ حق گو کے لقب سے مشہور تھے، آپ کے والد  محترم کا نام شیخ فخرالدین زاہدی تھا، آپ کو حق گو اس لیے کہتے تھے کہ ایک بار سلطان محمد تغلق نے یہ حکم جاری کیا کہ تمام لوگ مجھے عادل کہا کریں، تمام لوگوں نے اس حکم کو تسلیم کرلیا مگر انہوں نے انہیں عادل کہنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ ہم ظالموں کو عادل نہیں کہا کرتے۔ اس جرم میں سلطان  نے آپ کو دہلی کے قلعہ سے نیچے پھنکوادیا، آپ کی قبر وہیں ہے۔ آپ شیخ فخرالدین ثانی کے مرید تھے جو بہت بڑے بزرگ تھے، ان کی قبر بھی دہلی شہر میں فیروز آباد کی جانب ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو بکر موئے تاب

آپ بدایوں کے رہنے والے تھے، ضیا نخشبی نے اپنی کتاب بنام سلک السلوک میں لکھا ہے کہ شیخ ابوبکر موئے تاب ذکر الٰہی میں ایسے فنا تھے کہ ان کا بال بال ذکر الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور وہ عالم بالا میں جانے ہی والے تھے کہ میں ان کی عیادت اور مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوا دیکھا کہ اس پُر اَسرار شعر کو پڑھ رہے تھے۔ قالب چوں غباراست میان من وتو امید کہ اینک ازمیاں برخیزد   ترجمہ: (اے اللہ یہ جسم آپ کے اور میرے درمیان غبار کی طرح حائل ہے امید ہے کہ یہ پردہ بہت جلد اٹھ جائے گا) اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عثمان سیاح

آپ شیخ رکن الدین  ابوالفتح کے مریدوں میں سے تھے بہت زیادہ سیر و سیاحت کے شوقین تھے اسی لیے ہمیشہ سیر و سیاحت میں رہتے، لیکن بالاآخر اپنے وطن دہلی تشریف لائے، سماع کے بہت شائق تھے۔ شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کی محفلوں میں ہمیشہ تشریف لاتے اور سماع سے محظوظ ہوتے اور وجد و حال میں رقصاں رہتے پُرانی دہلی میں ہفت پل جسے سلطان محمد عادل نے بنوایا تھا اس کے قریب آپ کا مزار ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ شرف الدین

آپ پانی پت کے رہنے والے تھے، آپ کو بو علی قلندر بھی کہتے ہیں، بڑے مشہور مجذوب اور ولی اللہ تھے، مشہور ہے کہ اوائل عمر میں آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی تمام تر توجہات کو سلوک و طریقت کی طرف مبذول کردیا تھا اور تمام کُتب کو دریا برد کرکے مجذوب بن گئے، یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کس سے بیعت تھے البتہ بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ آپ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید تھے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ خواجہ نظام الدین  اولیاء سے بیعت تھے ، لیکن یہ دونوں روایتیں بلا دلیل و بلا حجت ہیں آپ کے کچھ مکتوبات بھی ہیں جو آپ نے عشق و محبت کی زبان  میں اختیار الدین کے نام تحریر فرمائے جس میں یہ مضامین ہیں۔ (1) توحید کے معارف و حقائق (2) ترک دنیا (3) طلب آخرت (4)محبت الٰہی آپ کا ایک دوسرا رسالہ بھی عوام الناس میں حکم نامہ شیخ شرف الدین کے نام سے مشہور ہے لیکن ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رس۔۔۔

مزید

حضرت شیخ شرف الدین احمد

آپ حضرت یحییٰ منیری کے فرزند تھے آپ کا ہندوستان کے مشہور مشائخ میں شمار ہے۔ آپ کے فضائل و مناقب محتاج بیان نہیں، آپ کی تصنیفات بھی کثرت سے ہیں، جن میں سے ’’مکتوبات‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بھی بے نظیر اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں آداب طریقت اور رموز حقیقت درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ آپ کے ملفوظات بھی ایک مرید نے جمع کیے ہیں، لیکن مکتوبات میں لطافت و شیرینی کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ نیز  یہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے رسالہ آداب المریدین کی بھی ایک (نامعلوم) شرح لکھی تھی۔ آپ شیخ نجیب الدین فردوسی کے مرید تھے۔ کہتے ہیں کہ شیخ شرف الدین احمد ایک مرتبہ اپنے وطن سے خواجہ نظام الدین سے مُرید ہونے کے شوق سے دہلی روانہ ہوئے۔ ابھی آپ دہلی پہنچے بھی نہ تھے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کا انتقال ہوگیا۔ شیخ نجیب الدین اس زمانہ میں دہلی میں موجود تھے۔ جب شرف الدین احمد آپ کے پاس ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی

آپ شیخ رکن الدین فردوسی کے مرید تھے، آپ کی قبر حوض شمسی کے مشرقی جانب ایک بلند اور اونچے مقام پر مولانا برہانُ الدین بلخی کی قبر کے نزدیک ہے۔ آپ کا وصال 761ھ کو ہوا۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

معاویہ بن یزید

  یزید کےبعد معاویہ ابن یزید تخت نشین ہوا۔ اس  نےچالیس دنحکومت کرنےکے بعد منبل پر چڑھ کر  اعلان کیا کہ میرے آباؤ اجداد نے پیغمبر اسلام علیہ السلام کےاہل بیت کےساتھ ظلم کیا ہے۔ خلافت اہل بیت کا حق تھا میں اس سےدست بردار ہوتا ہوں۔ چانچہ انہی ایام میں نبی امیہ نے متفق ہوکر اس بچارے کو تعصب کی و جہ سے زہر دے دی اور مروان بن حکم کو تخت پر بٹھایا۔ روایت ہے کہ جب امام حسین شہید ہوگئے۔ تو ابو القاسم محمدﷺ حنفیہ بن علی جو بڑے صاحب علم و معرفت اور شجاعت میں مشہور تھے سب کچھ چھوڑ کر گوشہ نشین ہوگئے بس طوافِ کعبہ کرتے تھے اور عبادت اور شغل باطن میں مصروف رہتے تھے۔ آخر عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں سال ۸۱ھ میں مدینہ منورہ میں واصل بحق ہوئے۔ کتاب شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ امیر المؤمنین حسین کے قاتلوں میں سے کوئی شخص ایسا نہ رہا جو موت سے پہلے مصیبت اور عذاب میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ ۔۔۔

مزید

امیرالمؤمنین حضرت امام ابو عبداللہ حُسین

 امیرالمؤمنین حضرت امام ابو عبداللہ حُسین  آں شہید تیغ محبتو فنا، قتیل معرکہ کربلا، مست شراب مازاغ البصر دماطغیٰ ساقئی کوثر ثم دنےٰ تدلےٰ، شاہد نور بے چوں اور عرایاکونین، ابو الائمہ امام ابو عبداللہ الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ائمۃ اہل بیت میں سے تیسرے امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید اور سید ہے۔ آپ کی ولادت بروز سہ شنبہ ماہ شعبان سال ۴ھ کو مدینہ منورہ  میں ہوئی۔ آپ شش ماہی ہیں۔ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام بھی ششماہی تھے۔ رسول خداﷺ نے آپ کا اسم گامی حسین رکھا۔ آپ اس قدر حسین و جمیل تھے کہ اگر اندھیرے میں بیٹھتے تو آپ کے چہرۂ انور کے نور کی روشنی سے لوگ آپ تک پہنچ سکتے تھے۔ آپ از سرتاپاء رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے۔ آنحضرت صلعم فرمایا کرتے تھے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے! اے اللہ! دوست رکھ اس کو جو حسین کو دوست رکھے۔ کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ حضرت ام۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بدرالدین سمر قندی

ملفوظات شیخ شرف الدین یحییٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شیخ نجم الدین کے مرید تھے۔ سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ شیخ سیف الدین باخرذی کے خلیفہ تھے۔ شیخ  نجم الدین سے دریافت کیا گیا اور نیز سیرالاولیاء میں بھی ہے کہ آپ بہت بڑی ولی اللہ تھے۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے ہاں سماع بھی سنا کرتے تھے اور بہت وجیہہ اور حد درجہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے اور جب شیخ سمر قندی فوت ہوئے تو آپ کو سنگولہ میں دفن کردیا گیا۔ آپ کی وفات کے تیسرے روز شیخ نظام الدین اولیاء تشریف   لائے۔ مجلس سماع قریب اختتام تھی۔ آپ مجلس سے اٹھ کر دوسری جگہ چلے گئے۔  لوگوں نے چاہا کہ آپ کو بھی شریک کیا جائے۔ جب آپ سے درخواست کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے اور ان کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے  تم بیٹھو میں نہیں بیٹھتا۔ نیز فرمایا کہ موافقت شرط ہے۔ (اور چونکہ میرے اور تمہارے مابین مناسبت نہیں، اس لیے میں اس۔۔۔

مزید