زبدۃ العافین، قدوۃ السالکین حضرت خواجہ محمد عبد الکریم ابن نذر محد قدس سرہما ۱۱ ،اپریل ، رجب المرجب (۱۳۶۴ھ/۱۸۴۸ئ) بروز شنبہ بوقت صبح پیدا ہوئے تین ماہ کی عمر میں عالدہ مجا دہ کا انتقال ہو گیا اور ابھی آپ کی عمر دو برس بھی نہیں ہوئی تھی کہ والد ماجد کا سایۂ شفقت بھی سر سے اٹھ گیا لہٰذا آپ کی پرورش آپ کے چچا میاں پیر بخش اور عادہ و زاہد ہ پھوپھی نے بحسن وخوبی انجام دی۔آپ جب پھوپھی صاحبہ تہجد کے بعد دعا کیا کرتی تھیں کہ اے اللہ اس بچے کو اپنا بندہ بنا اور دین و دنیا میں اس پر برکت نازل فرما! حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اس دعا کی ٹھنڈک اب بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں اور یہ سب اسی دعا کا نتیجہ ہے ۔ جب آپ کی عمر ۸ برس ہوئی تو آپ کو محلہ کی مسجد کے امام قاضی ۔۔۔
مزید
(۸۴۶ھ/ ۱۴۴۴ء/ ۹۷۰ھ/ ۱۵۶۲ء) اسفزار (ماوراء النہر) ترکی قطعۂ تاریخ وصال مصروف رہا کرتے تھے وہ ذکر خدا میں صاؔبر سنِ وصال ہے اُس فخرِ ملک کا مست کمال تھے شہرِ درویش محمد ’’یوسف جمال تھے شہِ درویش محمد‘‘ ۱۵۶۲ء (صاؔبر براری، کراچی) آپ کی ولادت ۱۶؍شوال ۸۴۶ھ مطابق ۶؍فروری ۱۴۴۴ء کو ہوئی۔ آپ کو اپنے ماموں محمد زاہد قدس سرہ سے اجازت و خلافت ہے۔ بیعت سے پندرہ سال پہلے زہد و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے اور تجرید وتفرید (خلوت، تنہائی، گوشہ نشینی) کی حالت میں بے خور و خواب (بغیر کھانے پینے کے) ویرانوں میں بسر اوقات کرتے تھے۔ ایک روز بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف منہ اٹھایا تو اُسی وقت حضرت خضر علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اگر صبر و قناعت مطلوب ہے تو خواجہ محمد زاہد کی خدمت میں قدمبوسی کرو، وہ تم کو صبر و قن۔۔۔
مزید
عارف کامل حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر قصوری قدس سرہ مولانا دستگیر ہاشمی قریشی صدیقی ابن مولانا حسن بخش صدیقی محلہ چلہ بیبیاں ادرون موچی دروازہ ،لاہور میں پیدا ہوئے اور حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو کر علوم و معارف کے دریاد امن مراد میںسمیٹے ۔ مولانا غلام دستگیر کو حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری کا شاگرد ،خواہر زادہ ، داما، مرید با صفا اور خلیفہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔۱۸۹۰ء میںحج و زیارت سے مشرف ہوئے تبلیغ اسلام اور مخالفین اسلام کی سر کوبی میںآپ کے خدمات نا قابل فراموش ہیں، بر صغیر پاک و ہند میں کوء مناظر آپ کا ہمسر نہ تھا۔ مناظرئہ بہاولپور وہ یادگار مناظرہ ہے جس میںآپ کو مولوی خلیل احمد انبھیٹوی کے مقابلہ میں زبر دست کامیابی ہوئی۔  ۔۔۔
مزید
آپ بابا محمد صدق کبروی کشمیری قدس سرہ کے خلف الصدق تھے۔ وقت کے عظیم مشایخ میں سے تھے۔ عبادت زہد۔ ورع اور تقویٰ میں بلند مرتبہ رکھتے تھے اپنے والد مکرم کی وفات کے بعد چھوٹی عمر میں ہی سجادۂ ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے اور خواجہ شاہ حسین بہکھیلی کی صحبت سے تربیت و تکمیل پائی جوانی کے عالم میں سفر پر نکلے اور حضرت خواجہ میر ہمدانی قدس سرہ کی قبر کی زیارت کے لیے ختلان کو روانہ ہوئے چونکہ ان دنوں اس علاقہ میں سیاسی ابتری اور فسادات کا دَور دورہ تھا۔ کابل سے واپس ہندوستان آگئے اور وہاں سے حرمین الشریفین کی زیارت کو جا پہنچے۔ اس طرح مدینہ پاک کی زیارت کے بعد مختلف اسلامی ممالک سے ہوتے ہوئے سال سال کے بعد واپس آئے۔ اور کشمیر میں قیام پذیر ہوکر ہدایت خلق میں مشغول ہوگئے۔ صاحب تواریخ اعظمی نے آپ کی سالِ وصال ۱۱۵۷ھ لکھا ہے آپ کا مزار بابا ولی کشمیری کے روضہ کے متصل سری نگر میں ہے اور زیارت گاہ خو۔۔۔
مزید
حضرت میاں میر جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ فقہ، حدیث اور تفسیرِ قرآن کے جیّد عالم ہونے کے علاوہ واقفِ اسرارِ ربانی بھی تھے۔ شہر حاجی پورہ میں مقیم تھے جو قصبہ گواپور(بہار) میں واقع تھا۔ آپ چھوٹی عمر ہی میں علم حاصل کرنے کے لیے اپنے وطن سے نکلے۔ کچھ مدت تک قصبہ کورا میں شیخ جمال اولیاء کے پاس رہے، ان سے فیض حاصل کر کے لاہور آئے اور ملّا فضل لاہوری سے علومِ ظاہری کی تکمیل کی۔ ملّا اپنے ہو نہار شاگرد سے اس قدر خوش تھے کہ انہیں اپنے گھر ہی میں رہنے کی اجازت دے دی۔ ان ایّام میں حضرت شیخ میاں میر کا باطنی فیض عام تھا۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علومِ باطنی کی تکمیل کی۔ وفاتِ مرشد کے بعد مرجع خلائق تھے۔ آپ نے تمام عمر ہدایتِ خلق اور درس و تدریس میں گزاری۔ آپ کامدرسہ دہلی دروازے کے اندر واقع تھا۔ جو بہت مشہور تھا۔ نواب سعداللہ خاں اسی مدرسہ کے فارغ التحصیل تھے۔ کسبِ علوم کے لیے دور دور سے طلب۔۔۔
مزید