ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت زاہد رحمۃ اللہ علیہا

  امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک خادمہ تھیں جن کا نام حضرت زاہدہ تھا، ایک دن یہ بی بی جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور سلام عرض کیا، حضور نے دیکھا اور فرمایا زاہدہ تم بہت دیر کے بعد آئی ہو، خیر تھی، کہنے لگیں، یا رسول اللہ! آج میں نے اللہ تعالیٰ کے عجائبات سے ایک عجیب و غریب واقعہ دیکھا ہے، حضور نے تفصیل دریافت  کی تو کہنے لگی۔ ’’علی الصباح لکڑیاں لینے جنگل کی طرف نکل گئی، میں نے لکڑیوں کا ایک گٹھا اکٹھا کیا، باندھا اور ایک پتھر پر رکھا، میں نے دیکھا کہ ایک تیز رو سوار آسمان سے اتر رہا ہے، اس نے میرے پاس آکر مجھے سلام کیا، اور کہنے لگا کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر میرا سلام کہنا، اور عرض کرنا کہ رضوان کلید بردار بہشت نے کہا ہے کہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ کی اُمت کو جنت میں داخل ہونے کے لیے تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہ۔۔۔

مزید

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضل اور اکرم بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا تھیں، کنیت ام محمد۔ لقب  مبارک طاہرہ، اذکیہ، راضیہ، مرضیہ اور بتول  تھا اگرچہ حضرت فاطمہ حضور کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں، مگر جتنی محبت اور الفت آپ کو اس بیٹی سے تھی۔  دوسری کسی بیٹی سے نہیں تھی، حضرت علی کرم اللہ  وجہہ غزوہ بدر سے واپس آئے تو حضور کی بارگاہ میں حضرت فاطمہ کے رشتہ کی درخواست کی، اس وقت سیدہ کی عمر پندرہ سال تھی، آپ کی درخواست قبول ہوئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے بطن سے تین لڑکے، حسن، حسین اور محسن دیے (رضی اللہ عنہم) تین بیٹیاں اُم کلثوم، زینب اور رقیہ ہوئیں (رضی اللہ عنہن) محسن اور رقیہ تو خورد سالی میں ہی فوت ہوگئے، حضرت زینب عبداللہ جعفر سے بیاہی گئیں، حضرت ام کلثوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں حضرت فاطمہ کی اولاد جو آج تک موجود ہے۔ وہ حسن و حسین رضی الل۔۔۔

مزید

بنات مطہرات رضی اللہ عنہن

  حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ کی بیٹیوں میں افضل ترین بیٹی حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہراء تھیں،  اور معمر ترین حضرت زینب تھیں مگر ہم سن وصال کی ترتیب سے حالات تحریر کر رہے ہیں۔ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

مولانا محمد قاسم جبلپوری

آستانہ رضویہ مصطفویہ برھانیہ جبلپور ولادت حضرت مولانا محمد قاسم عبدالواحد شہید القادری تاج محمد قادری بن حاجی عبدالکریم چشتی ۱۴؍محرم الحرام ۱۳۶۲ھ؍۱۹؍جنوری ۱۹۴۳ء شب دو شنبہ بوقت ۱۲ بجے قصبہ ممبر کھا ضلع الیہ آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانی حالات مولانا محمد قاسم رضوی کے جد امجد حاجی عبدالکریم چشتی ۱۸۵۷ء میں بمعر ۱۹یا ۲۰ سال جبل پور تشریف لائے اور ایک سو اٹھارہ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ جامع مسجد منٹری جبل پور کے بڑے قبرستان میں دفن ہوئے۔ مولانا محمد قاسم کے والد تاج محمد قادری نے ۱۳؍صفر المظفر ۱۳۹۹ھ شب یکشنبہ فجر بعمر ۸۵ سال انتقال فرمایا۔ یہ خاندان آج بھی مشہور اور وقار وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو حضرت شیر علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد سے ہے۔ تعلیم وتربیت مولانامحمد قاسم رضوی کی تعلیم کا آغاز جمادی الاخریٰ ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۰ء کو جامعہ عربیہ ناگپور سے ہوا۔ ۱۹۶۵ء میں مولانا مشتاق احمد ر۔۔۔

مزید

مفتی محمد احمد جہانگیر خاں رضوی

مفتی محمد احمد جہانگیر خاں رضوی﷫ فتح پور تال نرجا ضلع اعظم گڑھ یو۔ پی میں ایک قدیم آبادی ہے۔ کہتے ہیں کہ اکبر بادشاہ کے دورِ حکومت میں فتح محمد خاں نے اپنے بھائی عبد الحمید خاں کے ساتھ مل کر ان اطراف کے راجوں شکست فاش دی۔ پھر فتح محمد خاں نے فتح پور آباد کیا۔ اور عبدالحمید خاں نے حمید پور آباد کیا دونوں گاؤں میں دو میل کا فاصلہ ہے۔ تال نرجا ایک قدرتی تالاب ہے جس کےشمالی ساحل پر فتح پور آ﷜باد ہے اور مغربی ساحل پر حمید پور آباد ہےاور جنوبی ساحل پر نظام الدین پور وغیرہکئی آبادیاں ہیں۔ فتح پور خالص بٹھانوں کی آبادی ہے۔ البتہ ان زمیندار پٹھانوں نے مچھلی کا شکار کرنے کے لیے ملاحوں کو آباد کیا اور کچھ تیلی وغیرہ بھی آباد کیے۔ ولادت اس فتح پر تال نرجا میں شب آشورہ ۱۰؍محرم الحرام ۱۳۵۲ھ میں حضرت علامہ مفتی احمد جہانگیر خاں رضوی اعظمی کی ولادت باسعادت ہوئی۔ محمد نام رکھا گیا اور عرف جہانگیر قرار۔۔۔

مزید

عبد الغنی کانپوری

حضرت مولانا عبد الغنی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت:حضرت مولانا عبد الغنی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کان پور میں پیدا ہوئے، علوم کی تکمیل وتحصیل والد ماجد حضرت مولانا قاضی عبدالرزاق کانپوری سے کی، بالغ الاستعداد وعالم وفاضل، متورع ومتقی، مذہب اہل سنت کے سر گرم رکن اور مشہور مناظرومتکلم وفقہیہ تھے، بہت کم عمر پائی، ۳۳ برس کی عمر میں ۱۳؍محرم ۱۳۵۸ھ میں انتقال کیا، راقم سطور کے محب مخلص مولانا قاری عبدالسمیع صاحب آپ کے فرزند کان پور کے دینی قائدوں میں ہیں۔۔۔۔

مزید

نور احمد حنفی پسروری

حضرت مولانا نور احمد حنفی پسروری سیالکوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شاہ مصباح الحسن پھپھوندی

حضرت شاہ مصباح الحسن پھپھوندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

  آپ کے والد کا نام حی بن اخطب بن ثعلبہ بن تعینہ اور والدہ کا نام بنت سموال تھا، آپ جنگ خیبر کی فتح کے بعد قیدی کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں آئی تھیں، حضور نے آپ کو ازرۂ شفقت آزاد کردیا، اور اپنی قوم کی طرف جانے کی اجازت دے دی، آپ نے انہیں اجازت دی کہ وہ اسلام لے آئیں تو حضور انہیں اپنے نکاح میں لائیں گے حضرت صفیہ نے اسلام قبول فرمایا اور کہا مجھے اسلام کی حقانیت پر یقین ہے اور یہی میری آزادانہ اور دلی آرزو ہے، اب میں آزاد ہوں مجھے یہودیوں سے کوئی دلچسپی نہیں، یارسول اللہ مجھے کفر و اسلام کے درمیان اللہ اور اس کا رسول زیادہ محبوب ہے مجھے آزادی اور اسلام ہی پسند ہے حضرت صفیہ کے جذبات سن کر حضور کو بڑی مسرت ہوئی، اپنے نکاح کا پیغام دیا مورخین لکھتے ہیں حضرت صفیہ کی آزادی کا پروانہ ہی آپ کا حق مہر تھا، آپ ازواج مطہرات کے زمرے میں آگئیں۔ آپ کی وفات ۳۶ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار گوہر بار جنت الب۔۔۔

مزید

امام محدث محمد چشتی

حضرت امام محدث محمد چشتی نظامی فیض آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن یوسف کرمانی شارح بخاری  ۔۔۔

مزید