آپ روس کے علاقہ بسرام میں پیدا ہوئے بخارا میں نشو و نما پائی۔ سید محمد شریف بخاری قدس سرہ کی خدمت میں رہ کر روحانی تربیت پائی ظاہری و باطنی علوم پر دسترس حاصل کی۔ کمالات علمی و معنوی پر فائز ہوئے سالہا سال ماؤرالہنر اور شمالی ترکستان کے علاقوں میں لوگوں میں فیض پھیلاتے رہے عمر کے آخرین حصہ میں حرمین الشرفین کی زیارت کو گئے دوران سفر کاشخر سے ہوتے ہوئے وادیٔ کشمیر میں پہنچے تین سال سے زیادہ کشمیر میں قیام پذیر رہے ایک کثیر مخلوق کو خدا رسیدہ بنایا ہندوستان کا رُخ کیا تاکہ حج کو جائیں دہلی پہنچے مگر بادشاہ کی التماس پر کچھ عرصہ دہلی میں قیام فرمایا اور اسی دوران فرشتہ اجل آپہنچا۔ چنانچہ ۱۵؍شوال ۱۱۲۶ھ میں فوت ہوئے۔ رفت چوں ازجہاں بخلد بریں گفت تاریخ رحلتش سرور شاہ دولت ولی عالی جاہ شاہ ابدال اہل دولت شاہ ۱۱۲۶ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کی والدہ ماجدہ میر محمد علی سہروردی کی بیٹی تھیں چونکہ میر محمد علی قدس سرہ کی اپنی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ آپ نے اپنے نواسے کی تربیت اور تعلیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ رحلت کے وقت انہیں مسند ارشاد پر بٹھایا حضرت میر کے بعد میرابوالفتح نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس سلسلہ طریقت کو جاری رکھا اور مخلوق خدا کو بڑی تن دہی سے راہ ہدایت دکھاتے رہے۔ آپ کی وفات ۱۱۲۵ھ میں ہوئی تواریخ اعظی نے خلیفہ شاہ جیلانی سے تاریخ وفات لی ہے۔ حضرت بوالفتح میر با کمال سال تاریخش بقول اہل خبر شد چو از دنیا بحنت جائے گیر داں معلّی اشرف الاخلاق میر ۱۱۲۵ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ خلیفہ نور محمد پروانہ کے برادر زادہ تھے۔ آپ نے ظاہری اور باطنی تربیت خلیفہ نور محمد سے پائی دنیاوی مصروفیتوں کے باوجود ریاضت اور عبادت میں وقت گزارتے شیخ محمد امین ڈار اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ سلطان میر بزرگان دین میں سے تھے۔ اور چاروں سلسلوں سے فیض یافتہ تھے نسبت قادریہ اور نقشبندیہ آپ کی وفات پر غالب تھی۔ ۱۱۲۵ھ میں انتقال فرمایا۔ چو سلطان میر از جہاں رفت بست شد از دل بتاریخ ترحیل او بجنت شد آن جلوہ گر ماہ و دین میاں میر سلطان شہنشاہ دین ۱۱۲۵ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کشمیر کے مشہور طبیب حافظ محمد شریف کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ ظاہری اور باطنی علوم میں یکتائے روزگار ہونے کے باوجود علم طب میں یدعیسیٰ کے مالک تھے۔ تاریخ دومری کے مولّف نے لکھا ہے ایک بار شیخ عنایت اللہ کافی اپنے احباب کے ساتھ ایک تقریب میں کشمیر کے خوبصورت علاقوں کی سیر کے لیے نکلے۔ آپ نے فرمایا۔ اگرچہ میرا مصمم ارادہ تھا۔ کہ چند روز مزید سیر و سیاحت میں صرف کرتا۔ مگر میرا دل کہتا ہے کہ مجھے جلدی سے شہر کی طرف واپس جانا چاہیئےاسی دن مجلس میں سے ایک دوست گھوڑے سے گرپڑا۔ ادھر بے پناہ بارش برسنے لگی۔ اسی دوران ناظم کشمیر جعفر خان کا پیغام آیا۔ کہ چونکہ وہ شدید بیمار ہے اس لیے حکیم صاحب فوراً سرینگرپہنچیں آپ گھوڑے پر سوار ہوئے برستی ہوئی بارش میں سفر کرنے لگے راستہ میں گھوڑا پھسلا۔ حکیم صاحب گرپڑے ابھی شہر نہ پہنچے تھے۔ کہ خبر آئی کہ جعفر خان کا انتقال ہوگیا ہے۔ شیخ عنایت اللہ تو۔۔۔
مزید
آپ کشمیر کے متاخرین مشائخ اور جیّد علماء میں سے تھے۔ مولانا ابوالفتح کلو مولانا عبدالرشید زرگر۔ اور خواجہ حیدر چرخی رحمۃ اللہ علیہم کے بیٹوں سے تحصیل علم کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں اپنے عہد کے علما کرام میں چمکے آپ نے صحاح ستّہ کو حفظ کرلیا۔ احادیث کی ترجمانی اور شرح میں یکتائے زمانہ ہے مولانا روم کی مثنوی بڑے ذوق سے پڑھتے اور اس کے اسرار و رموز کی وضاحت فرماتے ظاہری علوم میں کامل و اکمل ہوگئے تو طریقت کی راہ پر قدم زن ہوئے۔ شیخ صنبعتہ اللہ فاروقی سرہندی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ عالیہ مجدّدیہ میں داخل ہوئے۔ پہلی ہی توجہ سے سلطان الاذکار کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔ کشمیر آئے مشائخ کبرویہ سہروردیہ میں فیض خاص حاصل کیا تکمیل کے مراحل طے کیے خرقہ خلافت حاصل کیا وعظ و نصیحت سے خلق خدا کو نفع رسانی کی ماہ شعبان ۱۱۲۵ھ میں واصل بحق ہوئے۔ چو شیخ عنایت للبطف الہہٰ بتاریخ ترحی۔۔۔
مزید
آپ میر محمد کبروی کے خلفائے عظام میں سے تھے۔ بڑی ریاضتیں کیں۔ بڑے مجاہدوں میں سے گزرے۔ دنیا کے مختلف خطوں کے سفر کئے عجیب و غریب حالات سے گزرے حرمین الشریفین میں حاضری دی واپسی پردکن میں قیام کیا۔ سینکڑوں لوگوں کو سلسلہ کبرویہ میں داخل کیا شاہ عالم اورنگ زیب بہاءالدین ان دنوں دکن میں ناظم تھے۔ وہ آپ کے معتقد ہوگئے بڑے اخلاص سے پیش آئے حضرت شیخ حسین نے آپ کو بلایا اور کہا کہ آپ اپنے والد شاہجہان کی وفات کے بعد سارے ہندوستان کے حکمران نبوگے۔ دکن سے کشمیر کو روانہ ہوئے راستہ میں سخت بیمار ہوگئے بڑی مشکل سے وطن پہنچے ۱۱۲۲ھ میں واصل بحق ہوئے۔ سید والا حسین اہل دل سال ترحیلش چو جستم از خرد بود درچشم دو عالم نور عین شد عیاں ہادی و دین فضل حسین ۱۱۲۲ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کشمیری ہندووں میں سے تھے حضرت شیخ نجم الدین المعروف بہ بابا سخی کی مجلس میں پہنچے تو دولت اسلام سے مشرف ہوگئے زیر تربیت رہے۔ تلقین و تکمیل کی راہین کھلیں۔ اور اہل اللہ سے ہوگئے اور اسی راہ میں عمر عزیز وقف کردی۔ صاحب تواریخ اعظمی فرماتے ہیں کہ شیخ عبدالرحیم نے شیخ نجم الدین کے علاوہ شمس الدین کبروی سے بھی فیضان پایا شوال کے مہینہ میں ۱۱۲۰ھ میں وفات پائی۔ ز دنیائے دون شد بحنت رواں بتاریخِ ترحیل اوگفت دل چوں آں صاحبِ حال عبدالرحیم کہ مخدوم اجلال عبدالرحیم ۱۱۲۰ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ حسینی سادات کرام میں سے تھے۔ آپ کو حضرت غوث الاعظم سے نسبت سادات تھی۔ سید شاہ محمد بن سید عبداللہ۔ بن سید محمود بن عبدالقادر گیلانی۔ بن سید عبدالباسط۔ بن سید حسین بن سید حسن بن سید احمد بن سید شرف الدین قاسم بن سید شرف الدین علی۔ بن سیّد حسن ثانی بن سید علی۔ بن شمس الدین۔ بن سیّد محمد بن سید شرف الدین یحییٰ۔ بن شہاب الدین احمد۔ بن سید عمادالدین۔ بن سید ابی صالح نصر بن قطب آلافاق سید عبدالرزاق بن حضرت غوث العالمین قطب المتتقین محی الدین ابو محمد سلطان سعید شیخ عبدالقادر گیلانی قدس سرہ نو جوانی میں تن تنہا رہتے تھے۔ عورتوں سے دُور رہتے اختلاط نسواں تو درکنار نکاح سے بھی دور رہتے۔ آخر کار اجازت غیبی سے نکاح کیا۔ ۱۰۹۰ھ میں تا تار کے علاقہ کشمیر میں تشریف لائے۔ آپ کے گھر میں تقریباً ایک سو افراد خانہ گزر اوقات کرتے تھے۔ جن میں آپ کے اہل و عیال غربا و فقراء خدام و عقیدت مند شامل تھے۔ آ۔۔۔
مزید
فاضل اکبر اور عالم متجر تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ حیدر چرخی کے شاگرد تھے۔ خواجہ محمد سے بھی استفادہ کیا۔ ساری عمر درس و تدریس میں گذاری اور متوکلانہ زندگی گذاردی ۱۱۱۱ھ میں وصال ہوا۔ تواریخ اعظمی نے آپ کی تاریخ وفات شیخ عالمین سے نکالی ہے۔ چو از دنیا بفردوس بریں رفت شہنشاہ محبت گو وصالش ۱۱۱۱ھ جناب شیخ تا جو پیر حق باز دوبارہ پیر کامل تاج ابرار ۱۱۱۱ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ عمدہ علماء مدققین اور فقہائے محققین میں سے تھے۔ آپ نے بہت سے علوم میں مفید کتابیں تصنیف کیں اور بہت سی کتابوں پر قابل قدر حواشی لکھے۔ بعض کتابوں کی شرحیں لکھیں علم فرائض میں نظم و نثر میں رسالے لکھے۔ موخبر آپ ہی کی تصنیف ہے آپ اپنے اوقات کو توکل اور جد سے بسر کیا کرتے تھے۔ علماء کشمیر میں سے اکثر علماء آپ کے شاگرد تھے۔مولانا عنایٔت اللہ شال اور ملامحسن وغیرہ نے آپ سے ہی اکتساب علوم کیا۔ اپنی جوان سال بیٹیوں کے جہیز کی خاطر ہندوستان گئے دہلی پہنچے بچیوں نے ایک غلط دواء پی لی جو دراصل زہریلی تھی۔ اور وہ اس طرح انتقال کرگئیں۔ حضرت مولانا نے یہ سانحہ خواب میں دیکھا۔ تو واپس تو واپس کشمیر آئے اور باقی عمر تدریس میں مشغول رہے۔ تاریخ دومری نے آپ کا سن وصال ۱۱۰۹ھ لکھا ہے۔ رفت از دنیا بفردوس برین قطب جنت مقتدا گو رحلتش ۱۱۰۹ھ چوں امین نور یقین شیخ زماں ہم دگر فرما علی شیخ زم۔۔۔
مزید