آپ انوار جلیلہ اور مدارج عالیہ کے مالک تھے علوم دینیہ اور دنیاوی میں یکتائے زمانہ تھے۔ خوارق و کرامت میں مشہور تھے۔ سلسلہ قادریہ کے بزرگ نعمت اللہ سے فیض پایا تھا۔ دوسرے سلاسل میں بھی بیعت تھی۔ حالت ذوق و وجد میں اشعار بے نظیر پڑھتے تھے۔ کلام میں حقایٔق و دقایٔق ہوتے کشفی تخلص تھا۔ ۱۰۶۰ھ میں فوت ہوئے۔ مخبرالواصلین میں ۱۰۳۵ھ لکھا ہے۔ شد چو از دنیا بفردوس بریں شیخ طیب و صالح و صلش بگو ۱۰۶۰ھ شیخ عالم پیر و صالح متقی قطب ہادی میر صالح متقی ۱۰۶۰ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ خواجہ مسعود پان پوری کے فرزند ارجمند تھے۔ زہدو تقوی عبادت و ریاضت میں بے نظیر تھے۔ توحید پر گفتگو فرماتے اور برملا فرماتے ایک دن ملا شاہ جو حضرت میاں میر لاہوری کے خلیفہ تھے آپ کی ملاقات کو کشمیر میں گئے۔ بابا علی کی خدمت میں ایک بوریے پر بیٹھ گئے۔ چونکہ بابا علی کشمیر زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اور ملا شاہ سوائے فارسی کے دوسری زبان استعمال نہ کرتے تھے۔ دونوں بزرگوں نے باہم گفتگو نہ کی۔ آخر ملا شاہ اٹھے اور اپنا منہ دروازے کے طرف کرکے جانے لگے۔ اور زبان نے کہا۔ ’’یہاں بوریے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ بابا علی نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ ملا قادری کیا فرماتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ فرماتے ہیں۔ کہ ’’یہاں بوریے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔‘‘ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ازرہ تاسف زمین پر مارے اور فرمایا۔ اگر یہ بزرگ توحید ۔۔۔
مزید
آپ ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے۔ ہزاروں لوگ بلکہ لاتعداد مخلوق آپ کی صحبت سے خدا رسیدہ ہوگئے۔ تذکرۃ القد ماء کے مولّف (یہی بزرگ مخبرالواصلین کے مصنّف ہیں) فرماتے ہیں کہ دیو جن طیو رو د حوش آپ کے زیر فرمان تھے۔ ایک دن آپ کی مجلس میں کیمیا گری کے موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ شیخ نے زمین سے تھوڑی خاک اٹھائی۔ ایک خادم کے ہاتھ پر رکھی۔ دیکھتے دیکھتے زر خالص بن گئی۔ ایک دن آپ نے برف کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی تو وہ سبز زمرد بن گیا۔ آپ کے ہاتھ میں تسبیح کے دانے یاقوت خالص بن گئے۔ ایک شخص ایک دوسرے علاقہ سے اکبر آباد حاضر ہوا۔ حضرت شیخ ناظر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا حضور میرے علاقے میں اس سال بارش نہیں ہوئی۔ سارا علاقہ قحط کی زد میں ہے۔ لوگ اور مویشی بھوکے مرنے لگے ہیں۔ توجہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارانِ رحمت سے نوازے۔ آپ نے فرمایا ان شاء اللہ اللہ کی رحمت آئے گی۔ وہ شخص اپنے وطن گیا۔ تو معل۔۔۔
مزید
آپ سلسلہ شطاریہ کے اعاظم خلفاء اور کبری مشائخ میں سے تھے بڑے صاحب تصرف اور مظہر خوارق و کرامت تھے۔ بڑے صاحب ذوق و شوق سکر و جذب تھے۔ آپ کے لاتعداد مرید تھے شہر میرٹھ میں سکونت پذیر تھے۔ مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر بادشاہ آپ کے معتقدین میں سے تھا۔ مخبرالواصلین نے آپ کا سن وصال ۱۰۴۲ھ لکھا ہے۔ اور آپ کا مزار پر انوار میرٹھ کے مضافات میں ایک قصبہ میں ہے۔ ولی جہاں حضرت شیخ پیر بتاریخ وصلش ندا شد ز دل کہ تم شُد براد کار علم و عمل کہ پیر زماں دستگیر ازل ۱۰۴۲ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ سودا گر زادہ تھے۔ ابتدائی عمر میں تجارت کیا کرتے تھے۔ حضرت خواجہ حبیب اللہ نو شہری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوگئے مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول رہنے لگے۔ اور اپنے زمانے کے کامل ہوگئے۔ آپ کو اپنے پیر و مرشد سے اتنی عقیدت تھی۔ کہ ایک دن عیدگاہ کے قریب بر سرراہ خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی آپ نے اپنی صحبت میں رکھنا چاہا۔ مگر آپ نے قائل کیا اور کہا مجھے اپنے پیر و مرشد کی صحبت ہی کافی ہے۔ آپ بیالیس (۴۲) سال کی عمر ۱۰۴۲ھ میں فوت ہوئے۔ آپ کا مزار پُر انوار محلہ کائل کشمیر میں ہے۔ اور زیارت گاہ عام و خواص ہے۔ جناب زیں دین شیخ معلی چو تاریخ وصال او بجستم کہ مثل او نہ بر روئے زمین است خرد گفتا کہ فاضل زیں دین است ۱۰۴۲ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ میر شمس الدین شامی قدس سرہ السامی کی اولاد میں سے تھے آپ حضرت میر ہمدانی قدس السرہ العزیز ہمرکاب خطۂ کشمیر میں وارد ہوئے۔ اور پھر کشمیر میں ہی قیام فرما ہوگئے۔ شاہ قاسم کو ابتدائی زندگی میں ملا قاسم اور حامی قاسم کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد شیخ محمد خلیفہ کشمیری کی خدمت میں بیعت ہوئے۔ کمالات حاصل کیے اور شاہ کے خطاب سے مخاطب ہوئے۔ زہدو تقوی مجاہدہ و ریاضت میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ کے سینہ بے کینہ میں یاد خداوندی کی یادوں کی آگ سُلگتی رہتی تھی۔ بسا اوقات آپ کی اس آتش دل سے آپ کا حجرہ جل اٹھتا لوگ بجھاتے مگر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہوتی آپ کے بدن کے رواں رواں سے خون کے قطرے بہتے اگر کسی کو یہ نظر اخلاص دیکھ لیتے خدا تک پہنچادیتے۔ اگر نظر قہر اٹھاتے تو تڑپا کر رکھ دیتے۔ اپنے پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد آپ حرمین الشریفین کے سفر کو روانہ ہوئے عراق ش۔۔۔
مزید
یہ بزرگ پہلے تو حصار میں رہتے تھے سلاطین چکان (جو شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے)کے عہد حکومت میں کشمیر میں تشریف لائے۔ آپ کشمیر میں آئے اور محلہ چحپہ پل میں قیام کیا۔ آپ ہر وقت عبادت خدا وندی میں مشغول رہتے تھے ایک بار آپ ایک دنیا دار مالدار شخص کے ہاں دعوت پر گئے۔ کھانا کھایا تمام روحانی احوال ضبط ہوگئے قبض کی اس کیفیت نے آپ کے دل کو بند کردیا۔ کئی دن اسی کیفیت پر گزرے ان دنوں میر نازک قادری قدس سرہ کی مشیخیت کا جھنڈ فضائے شہرت میں لہرا رہا تھا۔ آپ بھی ان کی خدمت میں پہنچے۔ قلبی کیفیت بیان کی حضرت میر نے روٹی کا ٹکڑا دیا۔ وہ کھاتے ہی دلی عقدے کھل گئے میر نازک نے نے فرمایا۔ یا سید آپ کو اپنے حال دل کی خبر تھی ورنہ میر نازک کا لقمۂحلال ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ تواریخ اعظمی نے آپ کا سن وفات ۱۰۲۸ھ لکھا ہے اور آپ کا مزار پُر انوار چچہ پل کشمیر کے پاس ہے جو زیارت گاہ خلق ہے۔ ۔۔۔
مزید
آپ خطۂ کشمیر کے دنیا دار فراد میں سے تھے۔ ارادت غیبی سے ایک حالت استغراق طاری ہوئی۔ پہلے تو لوگوں نے آپ کو دیوانہ کہنا شروع کردیا۔ اور جنوں کی حالت میں خواجہ مسعود کشمیری کی خدمت میں لے گئے۔ آپ نے اپنے حجرۂ خاص میں طلب کیا۔ عبادت الٰہی میں مشغول کیا اور مرید بنالیا۔ آپ نے اپنے دوسرے مریدوں کو آپ ہی کی تربیت میں دے دیا۔ مرشد گرامی کی وفات کے بعد آپ نے مسند ارشاد بچھائی اور خلق خدا ہدایت میں مشغول ہوگئے۔ تواریخ اعظی کے مولّف نے آپ کی وفات بتایخ اکیس (۲۱) محرم الحرام ۱۰۲۷ھ لکھی ہے آپ اپنے مرشد کے مزار کے پاس ہی دفن کیے گئے۔ شریف از جہاں چوں بجنت شتافت بگفتا کہ شیخ زمنِ ہادے است ۱۰۲۷ھ خرد سال آں شیخ عالم حنیف دوبارہ نجواں اہل عرفاں شریف ۱۰۲۷ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کشمیر جنت نظیر کے اولیاء کبار میں سے تھے۔ ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد طلب خدا وندی میں نکلے سفر کیے۔ حرمین الشریفین پہنچے۔ حج کیا۔ زیارت روضہ منورہ کی واپس کشمیر آئے۔ اور شیخ بابا ولی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے۔ ابھی تکمیل حاصل نہ ہوئی تھی۔ کہ حضرت مرشد کا انتقال ہوگیا۔ خواب میں حضرت مرشد نے حکم دیا کہ وہ شیخ خلیل اللہ جو حضرت شیخ حسنی خوارزمی کے خلیفہ تھے۔ کی خدمت میں جائیں۔ شیخ موسیٰ کشمیر سے بلخ پہنچے۔ مگر وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے حضرت شیخ خلیل اللہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ آپ کو بڑا افسوس ہوا۔ اور اس تلاش حق میں بڑے مایوس اور حیران ہوئے۔ الہامی طور پر آپ کو حکم ہوا کہ حضرت شیخ پایندہ ساکڑی کبروی قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ گئے اور مرید ہوگئے۔ تین سال تک آپ کی خدمت میں رہے۔ پایۂ تکمیل کو پہنچے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اور کشمیر میں چلے آئے۔ دل میر میں سکون۔۔۔
مزید
آپ کشمیر میں شال کے تاجر تھے۔ اللہ کی تلاش دامن گیر ہوئی تو حضرت شیخ یعقوب علی کشمیری کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مرید ہوگئے تارک الدنیا ہوگئے۔ عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے لگے۔ آپ پر ظاہری اور باطنی فتوحات کے دروازے کھل گئے خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ جذب و سُکر میں استغراق پایا۔ دنیا اور اہل دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ سماع اور وجد کو اپناتے۔ غلبۂ شوق میں عاشقانہ اشعار ترنم سے پڑھتے۔ یہ شعر انہی کی زبان سے نکلا۔ اے کہ بہشت بریں بے تو عذابم عذاب گرمی شوقت چہ کر و نرمی ذوقت چہ کرد بے تو نہ سر و د گل بے تو نہ جامم نہ مل حسبی بیچارہ بیں اَشک فشاں بر زمیں آتش دوزغ ہمہ باتو گلا بم و گلاب سینہ کبابم کباب دیدۂ پُر آبم پُر آب بے تو کدام ست ماہ بے توکدام آفتاب کرد زراعت چیں دست و طعام و شراب شعری دیوان کے علاوہ بھی آپ کی بہت سی کتابیں نثر و نظم میں مشہور ہ۔۔۔
مزید