ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ رکن الدّین فردوسی قدس سرہٗ

  شیخ بدرالدین سمر قندی کے خلیفہ اور مرید تھے آپ کے بعد سجادہ مشیخیتپر جلوہ فرما ہوئے سلسلۂ فردوسیہ آپ کی وجہ سے ہندوستان میں مقبول ہوا۔ ہندوستان میں جہاں کہیں بھی سلسلہ فردوسیہ کا کوئی درویش موجودہ ہے اس کی نسبت آپ سے ہی ہے بچپن سے ہی شیخ بدرالدین کے زیر ترتیب رہے آپ کو خلق میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھی جس وقت سلطان کیتجا حضرالدین نے دہلی میں ایک نیا محل بنایا وہ شہر سے باہر آئے اور شہر کے باہر دریا کے کنارے پر خانقاہ بنائی آپ ۷۲۴ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ رکن الدین چو از دارفنا ہست مخدوم اجل ترحیل او ۷۲۴ھ   گشت خلد بریں سرا منزل گرین نیز رکن دین ولی پیر امین ۷۶۴ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ نجم الدّین اصفہانی قدس سرہٗ

  آپ کا اسم گرامی عبداللہ بن احمد بن محمد اصفہانی تھا صاحب مقامات بلند اور مدارج ارجمند تھے ارجمند تھے حضرت ابوالعباس شاذی کے مرید تھے ایک طویل عرصہ تک مکہ مکرمہ میں مجاور رہے صاحب نفحات الانس فرماتے ہیں کہ علماء کرام میں سے ایک عالم دین نے مجھے بتایا کہ میں اپنے والد کی بیماری کے باوجود سفر حج پر روانہ ہوا حج کیا مناسک حج ادا کیے مگر میرے دل میں والد کی بیماری کے خدشات رہے میں نے شیخ نجم الدین سے اپنا حال بیان کیا۔ وہ چند لمحوں کے لیے متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے تمہارے والد صحت یاب ہوگئے ہیں اپنی مسند پر بیٹھے مسواک کر رہے ہیں اِدھر اُدھر کتابوں کا ڈھیر رکھا ہوا ہے ان کا حلیہ اور شکل و صورت ایسی ایسی ہے میرے والد کی دوسری نشانیاں بھی بتائیں حالانکہ آپ نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا میں نے وہ تاریخ اور وقت لکھ لیا گھر آیا تو واقعی اس وقت میرے والد اسی حالت میں تھے۔ آپ نے ساری عمر شادی نہیں کی۔۔۔

مزید

شیخ بدرالدّین اسحاق سمر قندی قدس سرہٗ

  آپ شیخ نجم الدین کبریٰ کے مرید اور خلیفہ تھے شیخ سیف الدّین باخرزی سے بھی بیعت ہوئے ہندوستان آئے تو سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین دہلوی کی صحبت میں رہتے اور آپ سے خرقہ خلافت حاصل کیا سماع کے رسیا تھے آپ کی وفات ۷۱۶ھ میں ہوئی تھی آپ کا مزار منگولہ میں ہے آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مشائخ فردوسیہ کا سلسلہ برصغیر میں رائج فرمایا پہلے خواجہ قطب الدین بختیار کے عہد ولایت میں بر صغیر میں آئے دہلی میں قیام پذیر ہوئے اور تمام عمر بسر کردی۔ شیخ بدرالدین سمر قندی ولی وصلش عالی قدر بدرالدین بگو ۷۱۶ھ   شد چو روشن از جہاں اندر خباں ہم ولی بدر سمر قندی نجوان ۷۱۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ سلیمان ترکمان قدس سرہٗ

  آپ دمشق میں رہا کرتے تھے بلا اشد ضرورت اپنی جگہ سے نہ اٹھتے کم کھاتے اور کم سوتے اور کم بولتے ظاہری علماء اپنی علمیت اور جلالت کے باجود آپ سے گفتگو کرتے وقت ادب ملحوظ خاطر رکھا کرتے تھے عام لوگوں کے سامنے نماز ادا نہ کرتے تھے کشف پر کمال حاصل تھا بسا اوقات نا دیدہ واقعات اور ناشنیدہ حالات بیان کردیتے۔ امام یافعی فرمایا کرتے تھے کہ آپ کا ظاہری احوالِ شریعت کی پاسداری نہ کرنا عوام الناس سے اپنے آپ کو چھپانا مقصود تھا لیکن تنہائی میں آداب شرع کو ملحوظ حاظر رکھتے آج تک کسی نے انہیں کھانا کھاتے کفارہ ادا کرتے یا قضا پڑھتے نہ دیکھا تھا۔ آپ ۷۱۴ھ میں فوت ہوئے۔ چو شد روشن ازین دنیا بجنّت بسالِ وصل آں شہ جہانگیر ۷۱۴ھ   منور ترمہِ عالم سلیمان بگو عابد شہِ عالم سلیمان ۷۱۴ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ سلطان وَلَد قدس سرہٗ

  آپ حضرت مولانا جلال الدین رومی کے فرزند رشید تھے۔ اپنے والد کے سجادہ اور مسندِ ارشاد پر بیٹھے۔ ظاہری اور باطنی علوم اپنے والد مکرم سے حاصل کیے شیخ حسام الدّین چلپیٔ اور شیخ شمس الدین تبریزی سے بھی بڑا فائدہ حاصل کیا شیخ صلاح الدین زرکوب سے جو آپ کی بیوی کے والد تھے بڑی عقیدت رکھتے تھے آپ نے حدیقہ سنائی کی طرز پر ایک مثنوی لکھی تھی آپ کے والد فرمایا کرتے تھے بیٹا میرا آنا تو تمہارے ظہور کی خاطر تھا میری مثنوی میرے اقوال کا آئینہ ہے اور تم عملی طور پر میری تصویر ہو والد کی وفات کے بعد گیارہ سال تک حضرت رومی کے سجادہ پر بیٹھے۔ آپ کی ولادت بمقام لار ۶۲۳ھ میں ہوئی مگر وفات بروز ہفتہ دہم رجب المرجب ۷۱۲ھ میں ہوئی جس رات آپ کا وصال ہوا یہ شعر زبان پر تھا۔ امشب شب آنست کہ بینم شادی شیخ سلطان وَلَد پیر دستگیر پس امام العصر سلطان شد رقم ۶۲۳ھ ہست رکن العارفین ترحیل او ۷۱۲ھ   دریا ب۔۔۔

مزید

شیخ حافظ الدّین نسفی قدس سرہٗ

  آپ کے والد کا نام احمد تھا۔ وقت کے جلیل القدر عالمِ دین تھے تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التاویل آپ کی تصنیف ہے آپ کی وفات ۷۱۰ء میں ہوئی تھی۔ شد ز دار فنا بخلد بریں مخزن جود گو بتاریخش   ہاتف دین و متقی نسفی ہم بفر ما دگر تقی نسفی ۷۱۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

قطب الدّین علامہ قدس سرہٗ

  آپ ظاہری و باطنی علوم میں جامع تھے علامہ عصر تھے وحیدالدھر اپنے زمانہ میں آپ کا ثانی نہیں تھا اکثر علماء کرام آپ کی شاگردی پر فخر کرتے تھے شرح شمسیہ جو قطبیہ کے نام سے مشہور ہوئی آپ ہی کی تصنیف ہے۔ آپ کی وفات ۷۱۰ھ میں ہوئی تھی۔ شیخ قطب الدّین علامہ ولی شاہ ابرار است سالِ وصل او   شد چو زین دنیا بفردوس بریں نیز قطب الدین تاج اہل دین (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوعبداللہ ابن مطرف اندلسی قدس سرہٗ

  آپ حرمین الشرفین کے عظماء مشائخ میں سے تھے۔ کئی سال تک بیت اللہ شریف کے مجاور رہے اسی جگہ سکونت اختیار کرلی ہرروز پچاس بار بیت اللہ شریف کا طواف فرماتے شیخ ابو محمد مرجان فرماتے ہیں ایک بار میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ شیخ ابوعبداللہ مطرف مجھے الوداع کہنے کے لیے آئے آپ نے فرمایا میں نے سنا ہے کہ راستے میں پانی کی تکلیف ہے تم لوگوں کو بھی مشکل پیش آئے گی مگر اللہ کی رحمت بارش میں برسے گی اور وافر پانی ملے گا ہم چار اشخاص مکہ سے چلے ایک مقام پر پہنچے واقعی ہمارے پاس پانی نہ رہا۔ گرم لو۔ اور سخت دھوپ نے آلیا ہم مرنے کے قریب تھے مگر ہمیں حضرت شیخ کی بات یاد آرہی تھی حوصلہ بلند تھا۔ بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا۔ اور ہمارے اوپر آکر برسنے لگا راستے میں تمام گڑھے پُر ہوگئے مگر ہم کچھ فاصلہ آگے بڑھے تو پانی اور بارش کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ شیخ مطرف رمضان ا۔۔۔

مزید

شیخ ابو محمد مرجان قدس سرہٗ

  آپ کا اسم گرامی عبداللہ بن محمد ہے مرجان کے رہنے والے تھے مشائخ کبار سے تھے آپ کے دل پر اللہ کے علم علوم معرفت کے دروازے کھلے تھے ایک شخص نے آپ کی مجلس میں بتایا کہ فلاں شخص کہتا ہے۔ کہ جب شیخ ابو محمد بات کرتے ہیں تو ان کے منہ سے لے کر آسمان تک نور کی ایک کرن جاتی ہے جب شیخ خاموش ہوتے ہیں تو وہ نور کی کرن ٹوٹ جاتی ہے آپ نے تبسم فرمایا اور کہا وہ غلط کہتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ کے نور کی کرن آتی ہے تو میرا منہ کھل جاتا ہے جب رک جاتی ہے تو منہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ آپ ۹۹۹ھ میں فوت ہوئے تھے۔ جناب بو محمد پیر مرجان چو مثل ماہ شد روشن بجنّت   شہ دنیا و دین شیخ معلیٰ بخواں تاریخ او نور تجلیٰ ۹۹۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

نورالدّین ملک یار پَراں قدس سرہٗ

  آپ دہلی کے مشہور مشائخ میں سے تھے آپ کا اصل وطن لار تھا۔ وہاں سے اپنے پیر اور روشن ضمیر کے ارشاد کے مطابق دہلی آئے اور بڑی مقبولیت حاصل کی سلطان غیاث الدین بلبن آپ کا بڑا معتقد تھا آپ کو شیخ عزیزالدین دانیال خلجی قدس سرہٗ سے خرقہ خلافت اور اجازت ملی تھی انہیں علی خضر اور انہیں شیخ ابواسحاق گار رونی سے نسبت حاصل تھی۔ جب نورالدین ملک یار غیاث الدین بلبن کے عہدے میں دہلی پہنچے آپ نے دریا کے کنارے جو شیخ ابوبکر طوسی قلندر کے مکان کے ساتھ تھا قیام فرمایا شیخ ابوبکر طوسی کو آپ کا یہ قیام کرنا ناگوار گزرا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ یہاں اپنے مرشد یا بادشاہ کی اجازت کے بغیر قیام کرنا اچھا نہیں یہاں سے چلے جاؤ یا تو بادشاہ سے فرمان لاؤ یا اپنے پیر و مرشد سے اجازت نامہ حاصل کرو یہاں سے اٹھو اور اپنا راستہ لو حضرت نورالدین پہلے بعالم طیر (اڑکر) دہلی سے ٹھٹھہ پہنچے سلطان غیاث الدین سے فرمان حاصل ک۔۔۔

مزید