ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ سعدالدین حموی قدس سرہٗ

  اسم مبارک محمد بن موّید بن ابی بکر بن ابی حسین تھا شیخ نجم الدین کبریٰ کے مرید تھے عالم اور فاضل عامل کامل تھے یگانۂ روزگار تھے سجل الارواح آپ کی مقبول و معروف تصنیف ہے اس کتاب کے معانی بجز اصحاب اسرار و بصیرت دوسرے نہیں جانتے اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور بھی بہت سی تصانیف ہیں۔ صدرالدین قونیوی قدس سرہٗ سے خصوصی صحبت رکھتے تھے شرح خصوص الحکم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک دن سعد الدین حموی جناب صدرالدین قونیوی کے ساتھ ایک مجلس سماع میں موجود تھے شیخ سعدالدین پر ایک کیفیت طاری ہوئی تو آپ چشم بستہ خانقاہ کی طرف متوجہ ہوکر کھڑے رہے تھوڑی دیر بعد آواز دے کر کہنے لگے صدرالدین آگئے ہیں آپ سامنے حاضر ہوئے تو فرمانے لگے مجھے حضور سرور کائناتﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ میں آنکھیں کھول کر اس نعمت سے محروم رہوں اب میرا دل چاہا کہ آنکھیں کھولوں تو تمہارے چہرے پر نظر پڑے۔ ایک د۔۔۔

مزید

شیخ رضی الدّین علی لا لا قدس سرہٗ

  کنّیت ابوسعید اسمِ گرامی علی بن سعید بن عبدالخلیل لالا تھا۔ غزنی کے رہنے والے تھے آپ کے دادا حضرت حکیم سنائی کے بیٹے تھے اور وہ شیخ نجم الدّین کبریٰ کے مرید تھے شیخ احمد یسوی خواجہ ابو یوسف اور دوسرے مشائخ کی صحبت سے فیض پایا تھا آپ نے ایک سو چوبیس بزرگانِ دین سے خرقہ تبرک حاصل کیا تھا ہندوستان میں آئے تو رتن ھندی ابوالرضا قدس سرہ کی صحبت میّسر آئی آپ کا مزار حصار میں تتباہ کے مقام پر ہے آپ نے حضرت ابوالرضا سے وہ شابہ مبارک لیا جو رتن ہندی کو حضور نبی کریمﷺ سے ملا تھا۔ آپ کی وفات سوم ماہ ربیع الاوّل ۶۴۲ھ کو ہوئی مزار غزنی میں واقع ہے۔ سلطان محمود غزنوی کے مزار کے پہلو کے ساتھ ہے صاحب سکینۃ الاولیاء شہزادہ داراشکوہ بذاتِ خود غزنی گئے آپ کے روضے کی زیارت کی آپ کے مزار کے ساتھ شیخ ملک یاریرندہ خواجہ شمس العارفین۔ شیخ اجّل شیرازی۔ حکیم سنائی غزنوی۔ امام محمد حداد۔ ابی محمد اعرابی۔ خواجہ۔۔۔

مزید

شیخ صوفی بدہنی قدس سرہٗ

  آپ ہندوستان کے عظیم مشائخ میں سے تھے زہدو ورع میں بے مثال تھے۔ قطب الاقطاب قطب الدین بختیار کاکی﷫ کے ہم عصر تھے حضرت حضرت شیخ نظام الدین قدس سرہٗ فرماتے ہیں حضرت صوفی بدہنی ہر وقت مسجد میں رہتے نماز و روزہ کے علاوہ کسی چیز سے سروکار نہیں تھا ایک دن شہر کے علماء کرام جمع ہوئے آپ نے ان سے پوچھا کیا بہشت میں نماز ادا کی جایا کرے گی علماء نے آپ سے فرمایا بہشت جائے عبادت اور نماز نہیں وہ تو عیش و ناز کی جگہ ہے آپ نے فرمایا پھر مجھے وہ جنت قبول نہیں جہاں اللہ کی عبادت اور نماز نہیں ہوگی۔ شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت شیخ بدہنی کے پاس آیا کرتے تھے ایک دن اس شخص نے ایک شخص سے ملاقات کی جو رجال الغیب سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے پوچھا شیخ بدہنی کیسے شخص ہیں اور وہ کس مقام پر ہیں اس نے بتایا وہ بزرگ مرد ہیں مگر افسوس وہ استغفراللہ کہہ کر بھاگ گیا وہ شخص حضرت کی خدمت میں۔۔۔

مزید

شیخ بہاء الدین قدس سرہٗ

  آپ شیخ نجم الدین کبرٰی کے مرید تھے آپ کے خلفاء میں سے محمد بن حسین بن احمد الخطیبی قدس سرہٗ بہت مشہور ہوئے ہیں آپ حضرت ابوبکر صدیق﷜ کی اولاد میں سے تھے آپ کی والدہ علاءالدین بن محمد بن خوارزم شاہ کی بیٹی تھیں کہتے ہیں کہ اس لڑکی کے والد کو حضور نبی کریمﷺ نے خواب میں اشارہ فرمایا تھا۔ کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی آپ کے والد حسین بن احمد سے کردے شیخ بہاءالدین اسی بیٹی سے پیدا ہوئے تھے اور اپنے زمانے میں قطب الارشاد اور قطب الوقت ہوئے۔ آپ شیخ شہاب الدین سہروردی کی صحبت میں رہے حضور نبی کریم نے آپ کو خواب میں سلطان العلماء کے لقب سے نوازا تھا۔ جب شیخ بہاءالدین علم و فضل میں مشہور ہوئے تو امام فخرالدین رازی جیسے علماء بھی آپ سے حسد کرنےلگے اور آپ کے متعلق مشہور کردیا کہ آپ بادشاہ وقت کے باغی ہیں آپ نے ان لوگوں کی الزام تراشی سے تنگ آکر بلخ سے ہجرت کی اس وقت آپ کے فرزند حضرت جلال الدین رومی چھ۔۔۔

مزید

شیخ علی ادریس یعقوبی قدس سرہٗ

  کنیت ابوالحسن اسم مبارک علی تھا۔ صاحب اسِرار ربانی اور واقف احوال و مقامات عالی تھے آپ اپنے زمانہ میں قطب وقت تھے بے پناہ مرید رکھتے تھے ۶۲۱ھ میں فوت ہوئے۔ شہ ہر دوجہاں اعلی علی ادریس یعقوبی ز عاشق طالب حق سال ترحیلش بجوسرور   برتبہ از ہمہ بالا علی ادریس یعقوبی دگر تحریر کن والا علی ادریس یعقوبی ۶۲۱ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

یونس بن شیخ یوسف ثبانی قدس سرہٗ

  کنیّت ابو محمد تھی صاحب اسرار و معارف و کرامت بزرگ تھے آپ نے حضرت سید عبدالقادر غوث اعظم  کی مجالس سے بڑا فیض حاصل کیا خرقۂ خلافت حضرت شیخ علی ہیتی سے پایا شیخ علی ہیتی تاج العارفین ابوالفرماء کے خلیفہ اور وہ شیخ ابو محمد شنبگی اور وہ شیخ ابوبکر بطانجی کے خلیفہ تھے شیخ ابوبکر بطانجی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق  کے اویسی تھے حضرت بطانجی ان سے روحانی فیض حاصل کیا حضرت صدیق اکبر  نے آپ کو خواب میں خرقہ عالیہ عطاء فرمایا تھا جو شیخ علی ہیتی تک پہنچا اور پھر یہ خرقہ شیخ یونس کو عطا کیا گیا آپ کے بعد یہ خرقہ عالیہ غائب ہوگیا وہ تصوف کے فرقہ یونسیہ کے بانی تھے۔ حضرت شیخ یونس ذیعقدہ ۶۱۹ھ میں فوت ہوئے تھے آپ کا مزار پُر انوار رباط یعقوبی میں ہے۔ رفت چوں درجنت والا رزین دار فنا رحلتش یونس مقدس پیر عابد کن شمار ۶۱۹   یونس دین محمد مقتدائے دوجہاں نیز یونس ابن یوسف صوفی مح۔۔۔

مزید

شیخ مجّددالدین بغدادی قدس سرہٗ

  کنیت ابو سعید ابو شریف تھی نام نامی شرف الدین ابن الموید بن ابوالفتح تھا بغداد کے رہنے والے تھے آپ حضرت نجم الدین کبٰری کے خلیفہ اور حلبیس خاص تھے آپ پر حضرت شیخ نجم الدین کبٰری کی نظرِ خاص تھی آپ بغداد سے خوارزم اس وجہ سے آئے کہ بادشاہ خوارزم نے خلیفہ بغداد سے التماس کی کہ بغداد سے کوئی ایسا طبیب بھیجا جائے جسے اپنا ذاتی معالج رکھیں خلیفہ بغداد نے شیخ مجددالدین کو اس لیے شاہ خوارزم کے پاس ایک طبیب کی حیثیت سے بھیج دیا آپ کے والد اور والدہ بھی طبیب کامل تھے آپ خوارزم میں آگئے مگر طب کی بجائے حضرت نجم الدین کبٰری کی مجالس میں حاضری دینا شروع کردی اور ان کی زیر تربیت رہ کر خاصَاں خدا میں شمار ہونے لگے۔ آپ ظاہری حسن کے لحاظ سے خوبصورت سے جوان رعنا تھے پہلے نجم الدین کبٰری کے وضو کرانے کی خدمت میں رہے ایک دن عالم سُکر میں کہنے لگے میں تو بطخ کا انڈا تھا اور دریا کے کنارے بیکار پڑا ہوا ت۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن گرد دیہ قدس سرہٗ

  اسم گرامی علی بن حمید السعیدی تھا۔ ابن صباع کے نام پر مشہور تھے آپ سے بے شمار خوارق اور لاتعداد کرامات ظاہر ہوئیں آپ کے والد رنگریزی کرتے تھے ان کی دلی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی ان کے کام میں شریک ہو لیکن بیٹے کو اس کام میں دلچسپی نہیں تھی وہ عام طور پر صوفیہ کی خدمت میں رہتا علماء کی مجالس میں بیٹھتا اور پھر اولیاء اللہ کی تلاش میں نکل جایا کرتا تھا اور لوگوں کے کپڑے رنگنے سے خالی پڑے رہتے تھے صوفیہ کی صحبت سے جو وقت بچتا اُسے عبادت خداوندی میں صرف کردیتا ایک دن باپ دکان پر آیا شیخ ابوالحسن دکان میں نوافل اداکرنے میں مشغول تھے اور کپڑوں کا ڈیر لگا ہوا تھا۔ باپ اس صورت حال کو دیکھ کر بہت ناراض ہوا۔ بیٹے نے باپ کو غضب ناک دیکھا تو سارے کپڑے اکٹھے کیے اور تغار میں پھینک دئیے یہ دیکھ کر باپ کو اور غصہ آیا اورکہنے لگا تم نے لوگوں کے کپڑوں کوتباہ کردیا ہے تمام کے تمام ایک رنگ میں ڈبو د۔۔۔

مزید

سیّد میر حسین خنگ سوار قدس سرہٗ

  آپ مشہور شریف کے سادات کرام میں سے تھے نسبت ارادت اپنے آباو اجداد سے تھی اپنے حالِ کرامت کو چھپانے کے لیے آپ دنیا داروں سے ملتے جلتے اور اپنے آپ کو ظاہر نہ ہونے دیتے سلطان معزالدّین سام کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آوروں کے ساتھ آئے سلطان معزالدین نے ہندوستان کو فتح کرلیا اور قطب الدین ایبک کو دہلی کا گورنر مقرر کرکے خود واپس ایران چلاگیا میر حسین خنگ سوار بھی قطب الدین ایبک کے ساتھ رہے قطب الدّین ایبک نے آپ کو اجمیر شریف پر گورنر مقرر کردیا ان دنوں اجمیر میں راجہ پتھورا حکمرانی کرتا تھا۔ میر حسین اجمیر پہنچے تو آپ کو حضرت خواجہ معین الدین سنجری سے بڑی عقیدت ہوگئی اور بڑی خوش اعنقادی سے آپ کی صحبت اختیار کرنے لگے میر حسین کی ملاقاتوں اور حسنِ عقیدت کو دیکھ کر بے پناہ لوگ حضرت خواجہ اجمیری کے ہاتھ پر بیعت ہونے لگے، مگر اس علاقہ کے متعصب ہندوؤں کو آپ سے عداوت ہوگئی وہ اس وقت کے منتظر تھے ۔۔۔

مزید

سیّد میر حسین خنگ سوار قدس سرہٗ

  آپ مشہور شریف کے سادات کرام میں سے تھے نسبت ارادت اپنے آباو اجداد سے تھی اپنے حالِ کرامت کو چھپانے کے لیے آپ دنیا داروں سے ملتے جلتے اور اپنے آپ کو ظاہر نہ ہونے دیتے سلطان معزالدّین سام کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آوروں کے ساتھ آئے سلطان معزالدین نے ہندوستان کو فتح کرلیا اور قطب الدین ایبک کو دہلی کا گورنر مقرر کرکے خود واپس ایران چلاگیا میر حسین خنگ سوار بھی قطب الدین ایبک کے ساتھ رہے قطب الدّین ایبک نے آپ کو اجمیر شریف پر گورنر مقرر کردیا ان دنوں اجمیر میں راجہ پتھورا حکمرانی کرتا تھا۔ میر حسین اجمیر پہنچے تو آپ کو حضرت خواجہ معین الدین سنجری سے بڑی عقیدت ہوگئی اور بڑی خوش اعنقادی سے آپ کی صحبت اختیار کرنے لگے میر حسین کی ملاقاتوں اور حسنِ عقیدت کو دیکھ کر بے پناہ لوگ حضرت خواجہ اجمیری کے ہاتھ پر بیعت ہونے لگے، مگر اس علاقہ کے متعصب ہندوؤں کو آپ سے عداوت ہوگئی وہ اس وقت کے منتظر تھے ۔۔۔

مزید