ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ ابو سعید پالینی قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی حسن تھا۔ ایک اور قول کے مطابق احمد بن محمد بن اسماعیل بن حفص تھا ہرات کے قریب ایک موضع مالین میں پیدا ہوئے۔ علوم فقہ۔ حدیث اور تفسیر میں یگانہ روزگار تھے۔ علوم طریقت اور حقیقت میں آپ نے اکنافِ عالم کی سیر کی۔ بہت سے مشائخ کی صحبت سے فیض پاتے رہے۔ آپ کی وفات بھی ۴۱۲ھ میں ہوئی تھی۔ رفت چوں سعید از عالم حق طلب قطب بو سعید بگو ۴۱۲ھ   سالِ تاریخ آن شہ دینی ہم حسن بُو سعید مالینی (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عبدالرحمان سلمی قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی محمد بن حسین بن محمد بن موسیٰ سلمیٰ تھا، آپ کی دو کتابیں تفسیر حقائق اور طبقات  مشائخ یادگار زمانہ ہیں، ان تصانیف کے علاوہ اور بہت سی کتابیں آپ کے قلم سے نکلیں بعض محققین نے لکھا ہے کہ آپ نے ایک سو سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ آپ حضرت شیخ ابوالقاسم نصیرآبادی قدس سرہ کے خلیفہ بھی تھے اور مرید صادق بھی حضرت ابوالقاسم شیخ شبلی کے مرید تھے حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہ اپنے شیخ میر ابوالفضل رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد  آپ کی صحبت میں آئے ، اور تکمیل حاصل کرکے خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔ آپ کی وفات ۴۱۲ھ میں ہوئی۔ رفت چوں آخر بہ فردوس بریں پیر منعم ہست سال وصل او   از جہاں سلمیٰ محمد بن حسین ہم بخواں سلمیٰ محمد بن حسین (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

سبکتگین بادشاہِ غزنی

  مورخین نے حضرت سبکتگین کے حالات لکھتے ہوئے لکھا ہے کہ سبکتگین ترک زادہ تھا اور ایران سے تعلق رکھتا تھا حوادث زمانہ نے آپ کو غربت کا شکار بنادیا الپتیگن بادشاہ نے آپ کو خرید لیا اور کچھ عرصہ زیر تربیت رکھ کر اعلیٰ فرائض کی بجا آوری پر مامور کردیا، اسحاق بن الپتگین کی وفات کے وقت اس کا کوئی وارث جانشینی کے قابل نہیں تھا، سبکتگین کا نکاح الپتیگن کی لڑکی سے ہوگیا تھا اس طرح بادشاہ کے داماد کی حیثیت سے تخت نشین ہوگیا تفاقاً پہلے سال ہی ہندوستان پر حملہ آور ہوا، راجہ جیپال نے لاہور میں مقابلہ کیا مگر شکست کھاگیا، لاہور فتح کرنے کے بعد ملتان کو فتح کیا بہت سا مالِ غنیمت فوج میں تقسیم کیا دوسری بار جب حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو راجۂ لاہور غزنی میں پہنچا اور خراج دنیا قبول کرلیا۔ راجہ جیپال کچھ عرصہ کے بعد مقابلہ میں اتر آیا ہندوستان کے دوسرے راجے بھی اس کے ساتھ مل گئے سخت لڑائی ہوئی، مگر سب ۔۔۔

مزید

شیخ ابو طالب  محمد بن علی بن عطیہ الحاری المکی قدس سرہ

  آپ مکہ میں پیدا ہوئے شیخ عارف ابوالحسین محمد بن ابی عبداللہ احمد بن سالم البصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے، شیخ ابوالحسین اپنے والد ابوعبداللہ بن احمد بن سالم کے مرید تھے اور وہ اپنے والد عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے، تصوف کی مشہور کتاب  قوت القلوب شیخ ابو طالب نے تصنیف کی تھی، مشائخ طریقت فرماتے ہیں کہ دنیائے اسلام میں رموز طریقت پر اس پائے کی کوئی کتاب نہیں ہے جو اسرار الٰہی کو بیان کرتی ہو۔ آپ کی وفات بقول نفحات الانس ۳۸۶ھ ہے۔ مگر مخزن الاسرار میں سالِ وفات ۳۸۷ھ لکھاہے۔ شیخ ابوطالب شہ مطلوب حق مرد طالب اہل دین شد وصل او ۳۸۷ھ   پیر مکی مقتدا او متقی ہم عیاں شد مہربان طالب ولی ۳۸۷ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسین بن سمعون قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی محمد بن احمد بن اسماعیل بن سمعون تھا، مشائخ میں ناطق کے خطاب سے مشہور تھے اور ابن سمعون سے شہرت رکھتے تھے، آ پ حضرت شیخ شبلی کے ہمعصر تھے اور بغداد کے مقتدر مشائخ میں مانے جاتے تھے۔ ایک دن آپ مسجد میں وعظ فرما رہے تھے ایک درویش آپ کے منبر کے پایہ کے ساتھ بیٹھا تھا سو گیا آپ بھی وعظ کرنے سے رک گئے درویش بیدار ہوا  تو آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’تم خواب میں رسول خدا کی زیارت سے مشرف ہوئے ہو، میں بھی اوباً وعظ بیان کرنے سے خاموش ہوگیا تھا، جب تک تمہاری خواب مکمل نہیں ہوتی، میں خاموش رہا ہوں۔ آپ کی ولادت ۳۰۰ھ میں ہوئی تھی، اور وصال بروز جمعہ ۱۵ ذیقعدہ یا ذوالحجہ ۳۸۶ھ میں ہوا۔ وفات کے بعد آپ کو کسی وجہ سے اپنے ہی گھر میں دفن کردیا گیا ۳۹ سال بعد لوگوں نے آپ کو قبرستان میں دفن کرنا چاہا قبر کھودی گئی تو آپ کا کفن اور جسم اسی طرح تازہ اور صحت مند تھا گو۔۔۔

مزید

شیخ ابراہیم منسوجی ﷫

  آپ کی کنیت ابو علی تھی، بغداد کے متقدمین اجلہ مشائخ سے مانے جاتے تھے، شیخ سری سقطی ﷫ کی صحبت میں رہتے تھے، نفحات الانس میں لکھا ہے، کہ آپ ہر سال ایک کھلے پیراہن میں یا پیادہ اور پا برہنہ  حج بیت اللہ کو جاتے تھے بخارا سے مکہ شریف تک صرف ایک سیب بطور خوراک کھاتے، اور کچھ نہ کھاتے تھے ماہ شعبان ۳۸۶ھ میں واصل بحق ہوئے۔ شیخ دین مقتدا اہل کمال سرورا از سال ترحیلش بگو   صاحبِ حال و قال ابراہیم نیز گو اھل کمال ابراہیم ۳۸۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

ابو بکر مصری

ابو بکر بن علی بن محمد حداوی مصری[1]: عالم عامل،فاضل اکمل،مفسر، فقیہ،عابد،زاہد،صاحبِ کرامات تھے،ہر روز پندرہ سبق پڑھا کرتے تھے،تصنیفات کثرت سے کیں جن میں سے تفسیر کشف التنزیل دو مجلد ضخیم،جو ہرۃ النیرہ شرح مختصر القدوری چار مجلد،سراج الوہاج شرح مختصر القدوری آٹھ مجلد وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔وفات آپ کی ۸۰۰؁ھ میں ہوئی۔’’سعادتِ دارین تاریخ وفات ہے۔   1۔ رضی الدین ابو بکر بن علی بن محمد العبادی۔ الحداد،ولادت ۷۲۰؁ھ ’’دستور الانام‘‘ زبیدی لمبی ’’معجم المؤلفین‘‘ (مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ ابوبکر کلا آبادی﷫

  محمد بن ابراہیم بن یعقوب کلا آبادی نام تھا، بخارے کے رہنے والے تھے، کتاب تصرف آپ کی معروف تصنیف ہے، مشائخ عظام فرماتے ہیں، اگر تعرف نہ ہوتی تو تصوف سے بالکل نا واقفیت رہتی۔ آپ نے بروز جمعہ ۱۹؍ جمادی الاوّل ۳۸۰ھ کو وفات پائی۔ چوں ابوبکر ابن ابراہیم پیر رحلتش سلطان بوبکر آمد ۳۸۰ھ   از جہاں و رزید در جنت مقام ہم بگو بوبکر محبوب انام ۳۸۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابونصر سراج قدس سرہ

  آپ کا نام عبداللہ بن علی طوسی تھا، فقیر لقب تھا، علوم شریعت، طریقت میں کامل و اکمل تھے، ریاضات و مجاہدات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے آپ کی قابلِ قدر تصانیف آپ کی لیاقت علمی اور روحانی کی آئینہ دار ہیں، کتاب لمعہ نے تو خصوصی طور پر تصوف میں اپنا مقام پیدا کیا، آپ شیخ ابو محمد مرتعش﷫ سے نسبت روحانی رکھتے تھے۔ شیخ ابونصر جب بغداد میں وارد ہوئے تو ماہ رمضان تھا، آپ مسجد شونیزیہ میں گوشہ گزین ہوگئے اور درویشوں کی امامت آپ کے حوالے ہوگئی، ہر رات نماز تراویح میں پانچ قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے، آپ کا خادم رات کو ایک جَو کی روٹی پکالاتا اور آپ افطاری فرماتے، عید کے دن آپ نے امامت فرمائی، لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے حجرے میں تیس روٹیاں جوں کی توں پڑی ہوئی تھیں۔  شیخ ابو نصر جب بغداد میں وارد ہوئے تو ماہ رمضان تھا، آپ مسجد شونیزیہ میں گوشہ گزین ہوگئے اور درویشوں کی امامت آپ کے حوالے ہوگئی ہ۔۔۔

مزید

حاج پاشتا

خضر بن علی بن خطاب المعروف بہ حاج پاشا:ولایت ایدین ایلی کے رہنے والے تھے،قاہرہ کو تشریف لے گئے اور وہاں اکمل الدین اور مبارک شاہ منطقی سے علم پرھا،پھر اپ کو ایک ایسا سخت مرض لاحق ہوا کہ جس نے آپ کو علمِ طب میں کامل و ماہر ہوئے اور مصر کا شفا خانہ آپ کو تفویض کیا گیا جس کا آپ نے خوب انتظام کیا اور طب میں کتاب شفاء الاستقام اور اس کی مختصر تسہیل نام تصنیف کی۔ آپ نے قبل اشتغال علم طب کے قطب رازی کی شرح مطالع کی بحث تصورات و تصدیقات پر حواشی تصنیف کیے تھے جن کے بعض مواضع کی سید شریف نے باجود یکہ وہ ان کی فضیلت کے قائل تھے،تردید بھی کی ہے۔وفات آپ کی تقریباً ۸۰۰؁ھ میں ہوئی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید