ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ عبداللہ برتی﷫

  آپ مشائخ مصر میں ممتاز مقام رکھتے تھے، آپ کا مولد برق متصل خوارزم تھا، نعت رسول، مدحت مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ آپ کو علوم تفسیر حدیث اور فقہ میں درجۂ کمال حاصل تھا۔ ایک بار آپ بیمار ہوئے آپ کے لیے شربت پیش کیا گیا مگر آپ نے پینے سے انکار کردیا، فرمانے لگے اللہ کے گھر میں ایک حادثہ برپا ہوا ہے جب تک اسے درست نہ کرلیا جائے میں شربت نہیں پیوں گا آپ نے تیرہ دن تک کچھ نہ کھایا نہ پیا، اس زمانہ میں قرامطی حملہ آوروں نے حرم پاک پر قبضہ کرلیا تھا بہت سے لوگوں کو قتل کردیا۔ آپ ۶۷۶ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ عبداللہ برقی زاہد دور زماں سال ترحیلش بگو قطب جہاں اہل یقین ۶۷۶ھ   آنکہ در عہدش میانِ کفر و دین فرق آمد است یکدل برکاتی، و دیگر سید برق آمد است (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

قاضی منصور

عبداللہ بن علی بکاری المعروف بہ قاضی منصور: ابو عبداللہ کنیت اور تاج الدین لقب تھا،سجستان میں ۷۲۲؁ھ  میں پیدا ہوئے۔عالم فاضل،فقیہ عدیم النظیر تھے، فقہ میں کتاب مختار اور فرائض میں کتاب سراجی کو منظوم کیا اور ایک فتاویٰ بحرالجاری نام چاروں مزہب کے مسائل میں نہایت معتبر تصنیف کیا اور ۸۰۰؁ھ میں وفات پائی۔صاحب کشف الظنون نے آپ کی وفات ۷۹۹؁ھ میں قرار دی ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ ابوالقاسم نصیرآبادی ﷫

  آپ اعاظم و کبار مشائخ میں سے مانے جاتے تھے نام ابراہیم بن محمد بن حمویہ تھا اور جائے پیدائش نیشاپور تھی حضرت ابوبکر شبلی کے مرید تھے ظاہری اور باطنی علوم میں ماہر تھے فقہ، حدیث، تفسیر اور طریقت و حقیقت میں یگانۂ روزگار تھے ابو علی رودباری حضرت مرتعش اور ابوبکر طاہری رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس میں فیض پایا، آخری عمر میں مکہ معظمہ میں مجاور بن گئے اور اسی منصب پر رحمت خداوندی حاصل کرکے وصال پایا۔ لوگوں نے آپ کو نیشاپور سے اس الزام میں باہر نکال دیا تھا کہ آپ محویت کے عالم میں زنار باندھے آتش پرستوں کے آتش کدہ کا طواف کرتے رہے لوگوں نے دریافت کی تو آپ نے فرمایا میں اپنے مقصد حاصل کرنے کے لیے دیوانہ وار مارا مارا پھر رہا ہوں میں نے کعبۃ اللہ میں مقصود حاصل کرنے کی کوشش کی، ناکام رہا اب آتش کدہ میں آیا ہوں شاید یہاں سے اس کی ذات کا مشاہدہ حاصل ہوجائے۔ شیخ ابوالقاسم رحمۃ اللہ علیہ نے ستر حج۔۔۔

مزید

شیخ ابو الحسن حصری ﷫

  آپ کا اس گرامی علی بن احمد بن ابراہیم حصری تھا بغداد میں رہتے تھے حضرت ابوبکر شبلی سے خرقہ خلافت حاصل کیا حضرت امام احمد بن حنبل کے مذہب پر عمل کرتے گفتگو کرنے اور اسرار و رموز کے اظہار میں اپنی مثال آپ تھے، آپ نے اسرار توحید کو واضح طور پر اظہار کیا۔ حضرت شیخ احمد ابو  نصر رحمۃ اللہ علیہ آپ کے ہی خلیفہ اعظم تھے، مکہ مکرمہ میں گئے تو  آپ نے اسرار و توحید برسرِ منبر بیان کرنے شروع کردیے ان کی اس صاف گوئی پر پیران حرم ناراض ہوگئے اور آپ کو حرم شریف سے باہر نکال دیا، شیخ ابوالحسن کو آپ کی یہ کیفیت ازروئے کشف معلوم ہوئی تو آپ نے دربان کو کہا کہ جب شیخ احمد ابونصر آئیں تو انہیں میرے پاس نہ آنے دینا جب شیخ ابونصر آئے تو دربان نے آپ کو اندر جانے سے روک دیا وہ تین رات دن آپ کی خانقاہ کے دروازے پر پڑے رہے تیسرے روز حضڑت شیخ باہر نکلے تو شیخ  ابونصر نے شیخ کے قدموں پر سر رکھ دی۔۔۔

مزید

شیخ ابراہیم بن ثابت قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی ابواسحاق تھا بغداد کے مشائخ میں ممتاز مقام رکھتے تھے حضرت شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض یافتہ تھے، حضرت ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں نے آپ  سے گزارش کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے، فرمایا ایسا کوئی کام نہ کرتا جس سے تمہیں پشیمان ہونا پڑے۔ آپ ۳۶۹ھ میں فوت ہوئے۔ رفت ابراہیم چوں از دار دہر رحلتش ولی گفت حق بینِ حق نما ۳۶۹ھ   روح اوبر عرش شد از خاکباز نیز ابراہیم عابد پاک باز ۳۶۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابو سہل صعلوکی قدس سرہ

  آپ کا نام محمد بن سلیمان صعلوکی الفقیر تھا نیشا پور کے رہنے والے تھے شریعت و طریقت کے امام  اور یگانۂ روزگار تھے وقت کے تمام مشائخ آپ کی ولایت پر متفق اللفظ تھے، حضرت ابوبکر شبلی مرتعش، علی سقفی، رافق، ابوالحسن قوشنجی اور ابا نصر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں رہ کر فیضان صحبت حاصل کیا، سماع کے بڑے رسیا تھے دوران سماع وجد اور حال کی کیفیت میں مستغرق رہتے تھے ایک بار آپ سے حکم سماع کے بارے میں دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا: اہل حقائق کے لیے مستحب ہے اہل علم کے لیے مباح ہے اہل نفس کے لیے مکروہ ہے اور فسق و فجور کے خوگر حضرات کے لیے حرام ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں نے ساری عمر اپنی جیب سے روپیہ جمع کرنے کے لیے نہیں ڈالا اور کبھی روپے پیسے کو کسی گانٹھ میں نہیں باندھا اور کبھی کسی چیز پر تالا نہیں لگایا۔ آپ کی وفات ۳۶۹ھ یا ۳۶۸ھ میں ہوئی، آپ کا مزار نیشاپور میں ہے۔ بج۔۔۔

مزید

سید نتھے خان

حضرت سید نتھے خان جی مفاد الاکرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ عبداللہ مقری قدس سرہ

  اس گرامی احمد بن مقری تھا، حضرت ابویوسف حسین، عبداللہ خراز مظفر کرمان شاہی سے صحبت رکھتے تھے حضرت رویم، حریری اور حضرت ابن عطا سے فیض حاصل کیا والد محترم سے پچاس ہزار کا ورثہ پایا تھا، تمام ورثہ فقرا اور مساکین میں تقسیم کردیا حرم پاک میں مجاور بن گئے، آپ ۳۶۶ھ میں فوت ہوئے ایک تذکرہ نگار نے ۳۶۸ھ بھی لکھا ہے۔ شیخ عبداللہ پیر دستگیر میر حسن آمد وصالِ پاک او ۳۶۸ھ   شد چو از دنیا بفردوس بریں عارف زاہد دگر کردم یقین ۳۶۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوبکر مقید قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی محمد بن احمد بن ابراہیم تھا، جر جر آباد کے رہنے والے تھے کا ملیں مشائخ اور اساتذہ میں سے تھے  ظاہری اور باطنی علوم کے جامع تھے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مصاحب تھے، ابویوسف حسین سے صحبت رکھتے تھے بڑی لمبی عمر پائی تھی،مستقیم الحال اور صاحب حال بزرگ تھے بڑی تصانیف یادگار چھوڑیں۔ سفینہ الاولیاء کے مولف نے آپ کی وفات ۳۶۵ھ لکھی ہے۔ نفحات الانس اور تذکرہ العاشقین نے ۳۶۴ھ سالِ وفات لکھا ہے۔ حضرت ابوبکر چوں از دارِ دہر نور حق سال وصال او بگو ۳۶۴ھ   رفت در قرب خدائے ذوالجلال ہم امام اصفیا اہل جلال ۳۶۴ھ اہل دین سالک مقید(۳۶۵ھ)۔ پارسائے کامل(۳۶۵ھ)۔ طالب کامل ابوبکر(۳۶۴ھ) سے بھی تواریخ وصال نکلتی ہیں۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

بابا نصیب الدین غازی

حضرت بابا نصیب الدین غازی کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید