آپ اپنے وقت کے فقیہِ محدث اور مفسر بے مثال تھے معجم کبیر، معجم صغیر، معجم اوسط اور دلائل النبوت آپ ہی کی تصانیف ہیں، احادیث کی ان کتابوں میں آپ نے ایک ہزار اساتذہ حدیث سے احادیث جمع کیں اور روایت کی ہیں آپ ۳۱۰ھ میں فوت ہوئے۔ سلیمان ابن احمد شیخ دین پیر وصالش طرفہ مہدی الکریم است ۳۶۰ھ کہ علم از ذات پاک او ہویدا سلیمان بندہ حق نیز پیدا ۳۶۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کا اس گرامی محمد بن داؤد دمشقی تھا ، دنیور کے رہنے والے تھے، مگر شام میں سکونت اختیار کرلی آپ حضرت شیخ دقاق کبیر کے مرید تھے، حضرت ابوبکر مصری اور سید الطائفہ جنید بغدادی کی مجالس میں شرفِ صحبت حاصل کرتے تھے، حضرت ابن جلا نے آپ سے روحانی نسبت قائم کی اور آپ کی مجلس میں مشائخ کا مجمع ہوتا۔ ایک بار آپ ایک وادی سے گزر رہے تھے کہ آپ کے دل میں خیال آیا اے اللہ مجھے اپنے اسرار میں سے کسی راز سے آگاہ فرما، اسی وقت نور کا ایک شعلہ نمودار ہوا حضرت شیخ رونے لگے اور روتے روتے جاں بلب ہوگئے، آپ نے فریاد کی اے اللہ مجھے قوت برداشت نہیں اپنے راز کو واپس لے لے، اسی وقت آپ اصل کیفیت پر آگئے اور آپ کو سکوں ملا۔ آپ شام میں ۳۵۹ھ میں فوت ہوئے، آپ کی عمر ایک سو سال تھی۔ ابوبکر چوں شد در جہاں شہ مقیم یکے صبر بان ولی آگاہ کو بتاریخ آن شاہ عالی حق دوبارہ ابوبکر ہادی حق ۳۵۹ھ ۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی ابو عمر واصل تھا آپ گارذدن فارس میں سے تھے، وقت کے مستجاب الدعوات تھے، آپ جو کچھ مانگتے پالیتے تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ابدالوں میں سے تھے، اور آپ کی صحبت بھی ابدالوں سے رہتی، آپ ۳۵۸ھ بروز سہ شنبہ ۲۶ ماہ ذوالحجہ کو واصل بحق ہوئے۔ شہِ عبدالملک شیخ معظم رقم شد صدر دین تاریخ وصلش ۳۵۸ھ مکمل راہنمائے جملہ عالم عیاں شد ہم ز محبوب مکرم ۳۵۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی علی بن احمد بن سہیل تھا، پوشنج کے رہنے والے تھے تذکرہ نگاروں نے آپ کے گاؤں کا نام پوشنگ بھی لکھا ہے، اور قوشنج بھی، یہ گاؤں ہرات کے نواح میں واقع تھا، آپ خراساں کے جواں مرد مشائخ میں سے تھے، حضرات ابوالعباس عطاء شیخ حریری طاہر مقدسی اور ابو عمرو دمشقی رحمۃ اللہ علیہم کے صحبت یافتہ تھے، آپ نے بہت سے سفر کیے، عراق میں عرصہ تک قیام فرما رہے، سفر عراق سے واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو زندیق کہہ کر پکارنا شروع کردیا، وہاں سے آپ نیشا پور چلے گئے اور قیام پذیر ہوئے۔ ایک بار ایک دیہاتی کا گدھا گم ہوگیا، اس نے حضرت شیخ کو پکڑ لیا اور الزام لگایا کہ آپ نے گدھا چرالیا ہے، آپ نے اسے بتایا کہ تمہیں غلطی ہوئی ہے، مگر اس نے آپ کی بات نہ مانی، اور اصرار کیا کہ نہیں میرا گدھا تو آپ کے ہی پاس ہے جب تک برآمد نہیں ہوتا میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا آخر کار حضرت شیخ نے اپنا ہاتھ اٹھایاور کہا خداو۔۔۔
مزید
آپ کی کنیت ابو محمد تھی، اور بغداد کے رہنے والے تھے، خلد محلہ میں قیام پذیر ہونے کی وجہ سے خلدی کہلاتے تھے، آپ ریشم کے کپڑے بُنا کرتے تھے، آپ سیّد الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، حضرت ابراہیم خواص، ابوالحسن نوری، شیخ دردیم اور سمنون رحمۃ اللہ علیہم سے مجالس رکھتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے دو ہزار مشائخ کی خدمت کی ہے اور چھپن بار حج بیت اللہ کیا۔ آپ کا ایک مرید تھا حمزہ نامی، ایک رات حمزہ نے حضرت شیخ سے گھا جانے کے لیے رخصت مانگی اس نے اپنے بچوں کے لیے کچھ کھانا جس میں مرغ پلاؤ اور کباب تھے، علیحدہ رکھ لیے رات کو حضرت نے کہا آج تمہیں رخصت نہیں دی جاتی، رات یہاں ہی رہو، مگر حمزہ نے بڑا اصرار کیا کہ آج مجھے ضرور رخصت دی جائے، حضرت نے اُس کی ضد پر چھٹی دے دی، حمزہ نے رات سارے کھانے رکھے تاکہ علی الصبح بچوں کو کھلائے، صبح کنیز کو کہا کہ وہ کھانے کی ۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی ابراہیم تھا نیشاپور کے رہنے والے تھے، سید الطائفہ جنید اور ابوعثمان صیری اور حضرت ابو ابراہیم خواص کے ہم صحبت تھے، چالیس سال تک مکہ مکرمہ کی مجاور ی کی تھی ازرۂ ادب آپ نے حرم کی سر زمین میں پیشاب نہ کیا، کئی میل دور وادی میں نکل جاتے ساٹھ حج ادا کیے تھے فرمایا کرتے تھے تیس سال تک میں نے اپنے پیرو مرشد جناب جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا بول و بزار اٹھایا ہے اور اس خدمت کے لیے مجھے فخر و مسرت ہے۔ ایک بار حج کے موسم میں ایک عجمی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا میں نے حج ادا کرلیا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ دوزخ میں نہیں جاؤں گا، آپ بھی مجھے دوزخ سے نجات کی سند لکھ دیں، آپ کے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ آپ سے سند فراغت عذاب دوزخ حاصل کروں حضرت شیخ نے اس کی سادگی دیکھی کہ آپ کے دوستوں نے آپ سے مذاق کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ قبہ خلوت میں چلے جاؤ اور د۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی جواد تھا، تینات نزدِ مصر آپ کا گاؤں تھا، آپ کا ایک ہاتھ کٹ گیا تھا ایک ہاتھ سے زنبیل بُنا کرتے تھے، اور اس کی مزدوری سے گزر اوقات کرتے تھے کسی دیکھنے والے کو محسوس تک نہ ہوتا کہ آپ ایک ہاتھ سے زنبیل بنتے ہیں آپ کو شیروں سے بہت محبت تھی، جنگل میں نکل جاتے تو شیر آپ کے ارد گرد آکر آرام کرتے۔ صاحب نفحات الانس نے آپ کے ہاتھ کٹنے کا واقعہ لکھا ہے کہ آپ نے ایک بار اپنے اللہ سے عہد کرلیا کہ میں زمین سے کوئی بھی چیز ہاتھ بڑحا کر نہ اٹھاؤں گا نہ کھاؤں گا تاوقتیکہ کوئی پھل، یا فصل خود زمین سے اٹھ کر میرے منہ تک نہ آجائے، یا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے پہنچا نہ دے اس طرح گیارہ روز گزر گئے کوئی چیز نہ آئی اور نہ آپ نے کچھ کھایا نکاہت اور کمزوری سے آپ اس قدر مضمہل ہوگئے کہ نوافل پڑھنے ترک کردیے بارہ دن گزرے تو قیام نماز کی بھی ہمت نہ رہی حتی کہ سنتیں بھی ترک ہونے ۔۔۔
مزید
آپ کی کنیت ابو محمد اسحاق تھی، قدما مشائخ میں شمار ہوتے ہیں، جامع علوم شریعت و طریقت اور حقیقت ہے ورع و تقویٰ میں اپنی مثال نہ رکھتے تھے، شیخ سلیم مغربی کے مرید تھے، ابو عبد خفیف اور ابراہیم قصار رحمۃ اللہ علیہما سے صحبت رکھتے تھے آپ فرمایا کرتے میں نے ابتدائی کار میں شیخ مسلم مغربی کی ملاقات کا ارادہ کیا تو دور دراز سفر کرکے ایک مسجد میں پہنچا، شیخ مسلم اس مسجد میں قیام پذیر تھے، اس وقت آپ امامت کرا رہے تھے آپ نے سورہ الحمد کو کئی جگہ سے غلط پڑھا، میں بد دل ہوگیا، اور افسوس کرنے لگا کہ میری اتنی محنت بیکار ہوگئی، رات میں نے یونہی گزار دی، علی الصبح وضو کے لیے اٹھا، میں دریائے فرات کے کنارے چلا گیا راستے میں مجھے ایک شیر سویا ہوا دکھائی دیا، مجھے ڈر بھی لگا اور حیرانی بھی کہ کس طرف سے دریا پر جاؤں اسی وقت شیخ مسلم آتے دکھائی دیے ، آپ کو دیکھ کر شیر راستے سے ا۔۔۔
مزید