ان کولوگوں نے ان شخصوں میں ذکرکیاہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا فتح مکہ کے نومسلموں میں ہیں۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اورکہاہے کہ میں ان کو گمان کرتاہوں کہ عدی بن ربیعہ بن عبدالعزی بن عبدشمس بن عبدمناف ہیں اور ابوالعاص بن ربیع کے چچازاد بھائی ہیں پس اگران کا خیال سچاہے تویہ دونوں دوشخص ہیں یعنی یہ عدی اوران سے پہلے (تذکرہ والے)عدی(دونوں علیٰحدہ علیٰحدہ ہیں)۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن سواءہ بن جشم بن سعد جشمی ہیں محمد کے والدتھےیہ عدی ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے لڑکے کانام محمدرکھاتھا۔مگرمیں نہیں جانتاہوں۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں زندہ تھے یانہیں ہم نے ان کے بیٹے محمدکے نام میں ان کوذکرکیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے ایساہی لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ ان کے اسلام میں اختلاف کیا گیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن سعدبن حشرج بن امرءالقیس بن عدی بن اخزم بن ابی اخزم بن ربیعہ بن جرول بن ثعل ابن عمروبن غوث بن علی طائی ہیں ان کے والد حاتم ایسے بخشش والے تھے کہ ان کی بخشش ضرب المثل تھی۔عدی کی کنیت ابوطریف تھی اوربعض نے کہاہے کہ ابووہب تھی ان کے نسب میں طی تک بعض ناموں کی نسبت نسب جاننے والوں نے اختلاف کیاہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ۹ھ ہجری ماہ شعبان میں وفدہوکرآئےتھے۔بعض نے کہاہے کہ۱۰ھہجری میں آئے تھےاوراسلام لائےیہ (پہلے )نصرانی تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی عبداللہ بن احمدبن عبدالقاہر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمدیعنی جعفربن احمدقاری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو علی بن محسن تنوخی نے خبردی وہ کہتےتھےہم سے عیسیٰ بن علی بن داؤدنے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے اسحق ابن ابراہیم مروزی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حمادبن زیدنے ایوب سے۔۔۔
مزید
ہیں۔ہم کو ابوالحسن یعنی علی بن احمدبن علی بن ہیل طبیب بغدادی نے جوموصل میں فروکش تھےخبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالقاسم یعنی اسمعیل بن احمد بن عمربن اشعب نے خبردی وہ کہتے تھے ہم کوابومحمدیعنی عبدالعزیز بن احمد کنانی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم کو ابومحمد یعنی عبدالرحمن بن عثمان بن ابی نصر اورابوالقاسم تمام بن محمدرازی اورابونصر یعنی محمدبن احمدبن ہارون نے جوابن جندی کے لقب سے ملقب تھےاورابوالقاسم یعنی عبدالرحمن بن حسن بن ابی العقب نے اورابوبکر یعنی محمد بن عبدالرحمن بن عبیداللہ قطان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالقاسم یعنی علی بن یعقوب بن ابراہیم بن ابی العقب نے خبردی وہ کہتےتھےہم کوابوزرعہ یعنی عبدالرحمن بن عمرونصری نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن منصورنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن میسرہ صنعانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے عبدالرحمن بن حرملہ نے عدی جذامی سے نقل کرکےبیان کیاکہ انس۔۔۔
مزید
تیمی ہیں ان کواسماعیلی نے بیان کیاہے ان سے وازع بن نافع نے انھوں نے ابوسلمہ سے انھوں نے عدی تیمی سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت رذیل آدمیوں پر قائم ہوگی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ہم کواسمعیل وغیرہ نے اپنی سندوں کومحمدبن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابن عمرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمدبن عمروبن حزم سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ابوالبداح بن عدی سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام رغبت کے واسطےاجازت دے دی تھی کہ ایک دن تیراندازی کیاکرو اورایک دن اس کوموقوف رکھاکرو۔اسی طرح اس کو ابن عبینہ نے روایت کیاہے اوراس کومالک بن انس سے عبداللہ بن ابی بکرسے انھوں نے اپنےوالدسے انھوں نے ابوالبداح ابن عاصم بن عدی سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کیاہے مگرمالک بن انس کی روایت بہت صحیح ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ہم کوعبیداللہ بن احمد بن علی وغیرہ اورلوگوں نے اپنی سند کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردی وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن احمدبن ابوشعیب حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن سلمہ حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن اسحاق نے ابونصرسے انھوں نے یاذان سےجوام ہانی کے غلام تھےانھوں نے عبداللہ بن عباس سے انھوں نے تمیم داری سے آیت یاایھاالذین آمنوالشہادۃ بینکم اذا حضراحدکم الموت حین الوصیتہ الثنانکی نسبت نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے لوگ اس آیت کومیرے اورعدی بن بداءکے علاوہ کسی اورکے حق میں خیال کرتے ہیں یہ دونوں نصرانی تھے قبل اسلام شام کی طرف جایاکرتےتھے پس ایک مرتبہ بقصد تجارت شام کی طرف گئے ان دونوں کے پاس بنی ہاشم کے غلام بدیل بن ابی مریم آئے اور ا ن کے پاس ایک چاندی کاجام تھا۔اور(وہاں آکر)بیمارپڑگئے (چندعرصہ کے بعد)ان دونوں کو(کچھ) وصیت کرکے مرگئے۔تمیم داری کہتے تھے ہم نے اس جا۔۔۔
مزید
بن قطن بن عبداللہ بن سعد بن وائل عکلی ہیں اس کو ابن قانع نے اپنی سند کے ساتھ مستنیربن عبداللہ بن عداس نے نقل کرکے بیان کیاہے کہ عداس اورخزیمہ جوعاصم کے بیٹےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئے تھے ان کوابن دباغ اندلسی نےبیان کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن عبدشمس کے غلام تھے۔شہرموصل کے مقام نینویٰ کے رہنے والوں سے ہیں۔ یہ نصرانی تھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کی (حدیث میں)ان کاذکرہے۔ہم کوابومنصور بن مکارم نے اپنی سندکوابوزکریایعنی یزیدبن ایاس تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوشعیب حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے بقیلی نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے یزیدبن زیاد سے انھوں نے محمد بن کعب قرظی سے نقل کرکے خبردی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف کی طرف تشریف لے جانے کے قصہ کوذکرکیااورقبیلہ ثقیف سے جو مصائب آپ کو پہنچےان کوبیان کیااورکہا کہ اہل طائف نے آپ کوایک باغ میں پناہ لینے پرمجبورکیایہ باغ عتبہ اورشیبہ فرزندان ربیعہ کاتھاوہ دونوں اس باغ میں (موجود)تھےپس آپ نے انگورکے سایہ (میں آرام لینے)کاقصدکیا چنانچہ وہیں سایہ میں آپ بیٹھ گئےربیعہ کے دونوں بیٹے آپ کودیکھ رہےتھے اوردیکھتے تھے کہ جہلائے طائف آپ کو کیسے مصائب دے رہے ہی۔۔۔
مزید
بن ہوذہ بن ربیعہ بن عمروبن عامربن صعصعہ بن معاویہ بن بکربن ہوازن اورعمروبکاء بن عامرکےبھائی ہیں اوربکاکانام ربیعہ ہے اورربیعہ عمروکے بیٹے تھے اوریہی انف الناقہ (کے لقب سے مشہور)تھےیہ وہ انف الناقہ نہیں ہیں کہ جن کے قبیلہ کی مدح حطئیتہ نے کی ہے۔یہ عداء بصرے کے بدووں میں شمارکیے گئےہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدمیں آئےتھے۔ان سے ابورجاء عطاروی اورعبدالمجید بن وہب اورجہمضم بن ضحاک نےروایت کی۔یہ فتح مکہ اورحنین کےواقعہ کے بعدایمان لائے تھے۔یہی ہیں جنھوں نے کہاتھاکہ ہم نے واقعہ حنین میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کی مگرنہ ہم کواللہ نےغلبہ دیااورنہ ہماری مددکی پھراسلام لائے اوران کا نسب اچھاہواہم کو ابراہیم بن محمد کے علاوہ اورلوگوں نے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمدبن بشار نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبادبن لیث صاحب کرابیس نے بیان کیا۔۔۔
مزید