اتوار , 28 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 14 June,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعجیر رضی اللہ عنہ

  ابن عبدیزیدبن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف بن قصی قریشی مطلبی ہیں رکانہ بن عبدیزیدکے بھائی تھےیہ ان لوگوں میں ہیں جنھیں حضرت عمربن خطاب نے حرم کی حدودقائم کرنے کے واسطے بھیجا تھایہ قریش کے بزرگوں میں تھے سب سے معمرتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غنیمت خیبرمیں سے تیس وسق دیے تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعجوز ابن نمیر رضی اللہ عنہ

۔نصر بن حمادنےاپنے والد سےانھوں نے شعبہ سے انھوں نے جریری سے انھوں نے ابو سلیل سے انھوں نے عجوز بن نمیرسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ کعبہ میں دروازہ کے سامنے منہ کیے ہوئے نمازپڑھ رہےتھےاورآپ کو (یہ دعا بھی)مانگتے ہوئے میں نے سنا۱؎ الھم اغفرلی ذنبی عمدی وخطائیان کاتذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔اورابونعیم نے کہاہے کہ اسی طرح عجوز بن نمیرنے کہاہے۔اوراس حدیث کو غندراورحجاج وغیرہمانے شعبہ سے نقل کرکے روایت کیاہے۔اورانھوں نے کہاہے کہ عجوز نمیر کی اولادسے ہیں۔ہم کوعبدالوہاب ابن ہبتہ اللہ نے اپنی سندکوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حجا ج بن یوسف نے سعیدجریری سے انھوں نے ابوالسلیل سے انھوں نے عجوزسے جونمیرکی اولادسے تھےنقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہجرت کےقبل۔۔۔

مزید

سیّدناعجری ابن مانع رضی اللہ عنہ

   سکسکی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔فتح مصرمیں شریک تھے۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کوابن یونس نے کہاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثیم ابن کثیر رضی اللہ عنہ

 بن کلیب۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہےاورواقدی نے محمد بن مسلم بن عثیم بن کثیربن کلیب جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ غروب آفتاب کے بعدعرفات سے آرہے تھے۔ابن شاہین نےاسی طرح لکھاہے اوراورلوگوں نے واقدی سے انھوں نے اپنے داداسےایک دوسری حدیث روایت کی ہے شایداصل میں محمد بن مسلم عن عثیم تھاغلطی سے بجائے عن کے ابن ہوگیا کیوں کہ اس سند میں صحابی کلیب ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثمہ ابوابراہیم رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ان کی حدیث ان کی اولاد سے مروی ہے۔چنانچہ اس کو یحییٰ بن بکیرنے رفیع بن خالدسےانھوں نے محمدبن ابراہیم بن عثمہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے محمد کے دادا سے روایت کرکےنقل کی ہے وہ کہتےتھےایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکان سے)باہر تشریف لائے پس ایک انصاری سے آپ کی ملاقات ہوئی انھوں نے عرض کیایارسول اللہ میرے ماں باپ حضورپرفداہوںمجھے رنج ہورہاہے اس کیفیت کودیکھ کرجوآپ کے چہرہ سے ظاہرہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیران کی طرف دیکھابعداس کے فرمایاکہ(اس کی وجہ)گرسنگی ہے وہ شخص اپنے گھرگئے مگرگھرمیں کچھ کھانانہیں پایا(وہاں سے)بنی قریظہ کے پاس گئے اوروہاں مزدوری شروع کی ایک ڈول پانی کے عوض میں ایک چھوہارا ٹھیرالیایہاں تک کہ ایک مٹھی بھرکرچھوہارے جمع ہوگئے پس ان چھوہاروں کو لیکریہ حاضرہوئےاورحضرت کے سامنے رکھ دئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ کھائیےنبی صلی اللہ علیہ۔۔۔

مزید

ریاست علی (کراچی)

مولانا سید۔۔۔

مزید

حضرت سید جان محمد حضوری

جان محمد اسم گرامی، حضور خطاب، والد ماجد کا نام شاہ نوربن سیّد محمود حضوری تھا، جن کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ آبائی سلسلہ حضرت موسیٰ کاظم امام جعفر صادق﷜ اور سلسلۂ بیعت حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ تربیت و تکمیل اپنے پدرِ بزرگوار اور جدِ امجد کے زیرِ سایہ پائی۔ سلسلۂ قادریہ میں بھی اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ اپنے وقت کے عارفِ کامل اور مقتدائے شریعت و طریقت تھے۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں گزاری۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے ظاہری و باطنی عُلوم سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں جو داخل ہو جاتا تھا وُہ جلد اوجِ طریقت پر پہنچ کر حضوری ہو جاتا تھا اس لیے حضوری مشہور ہوئے ۶۵۔۱۰۶۴ھ میں بہ عہد شاہ جہان وفات پائی۔ سیّد محمد لطیف مرحوم نے اپنی کتاب تاریخ لاہور صفحہ ۱۷۱ میں آپ کی تاریخِ وفات ۱۱۲۰ھ اُس کتبہ سے نقل کر کے ۔۔۔

مزید