بن ہشیربن حارث بن امیہ بن معاویہ بن مالک ان کوابن ہشام نے بیان کیاہے ان سے ان کے بیٹے جابرنے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ایک غیرت وہ ہے کہ اس کواللہ پسندکرتاہےاورایک غیرت وہ ہے جس کواللہ نا پسند کرتاہے اور ایک تکبروہ ہے جس کو اللہ پسندکرتاہے اورایک تکبروہ ہے جس کواللہ ناپسند کرتاہے پس وہ غیرت کہ جس کو اللہ تعالیٰ پسندکرتاہے وہ غیرت کہ جومقام شک میں ہوتی ہے اور وہ غیرت کہ جس کو اللہ ناپسند کرتاہے وہ ہے جوغیرشک میں ہوتی ہےاوروہ تکبرجس کواللہ پسندکرتاہے وہ ہے کہ انسان لڑائی کے وقت بطورجزکے کرتاہے اور وہ تکبرجس کواللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے وہ تکبر ہےجوناحق فسق وفجور میں ہوتاہے اس کو بہت لوگوں نے جابربن عتیک سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کیاہے اور یہ بہت صحیح ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
یہ ابوہیثم ہیں تیہان کے بھائی تھے انصاری اوسی اشہلی ہیں اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کانام عتیک بیان کیاہے اورمیرے نسخہ میں عتید ہے اور وہ زہری اورابن اسحاق سے روایت کیاگیاہے ابوعمرنے کہاہے کہ ان کا نام عتیک بن تیہان ہے اوران کا نام عبیدبھی بیان کیاجاتاہےاورابوعمرنے یہ بھی کہاہے کہ ہم نے اس کوبھی ذکرکیاہے جس نے عبیدکے نام میں کہاہے کہ وہ غزوہ بدرمیں شریک تھے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے بعض نے کہاہے کہ صفین میں شہیدہوئے ابن ہشام نےکہاہے کہ یہ تیہمان کہے جاتے ہیں اورتیہان بھی کہے جاتے ہیں ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
ان سے عبداللہ بن صفوان نے روایت کی ہے اور ان کی (روایت کردہ)حدیث صحیح نہیں ہے بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے مگران کی کوئی حدیث نہیں بیان کی ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصرلکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ۔مکحول نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے کہ ایک روزہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ یکایک عتیقہ بن حارث آئے اور کہاکہ اس وقت مجھ اچھا موقع ملاہے چاہتاہوں کہ آپ سے چند باتیں پوچھوں آپ نے فرمایاجوچاہے پوچھوانھوں نے کہا یارسول اللہ جوشخص اپنی گردن میں فی سبیل اللہ تلوارلٹکائے (یعنی جہادکرے)تو اس کو کیا(ثواب) ہے آپ نے فرمایا کہ اس کے واسطے جنت کے ہاروں میں سے ایک ہارہوگا(جو)موتی اوریاقوت اور زبرجد(کا)ہوگا۔پھرانھوں نے کہایارسول اللہ جس نے نیزے کوفی سبیل اللہ پاؤں اوررکاب کے درمیان میں رکھااس کے واسطے (قیامت میں)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے قیامت کے دن ایک جھنڈاہوگاجس سے وہ شخص پہچاناجائے گاپھر کہایارسول اللہ جو شخص فی سبیل اللہ کمان کو اپنے کندھے پرلٹکائے اس کے واسطے (قیامت کے دن)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے جنت کی چادروں میں سے ایک سبزچادرہوگی۔۔۔
مزید
ہم نے ان کا حال ان کے بیٹے حارث کے نام میں ذکرکیاہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بدری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور آپ سے روایت بھی کی تھی ان سے سلیمان بن عبدالرحمن ازدی نے روایت کی ہے مستغفری نے ان کانام عثیربیان کیاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ یہ وہی عتیرعذری ہیں جن کوہم بیان کریں گے یادوسرے شخص ہیں۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
یہ بلوی النسب ہیں پھرانصاری کے حلیف ہوگئے تھے۔حسن نےابن ابی ثعلبہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھ رہے تھے کہ آپ کے پیچھے ایک شخص کھڑا ہوگیااورکہنے لگا۱؎ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لاالہ الاانت وحدک لاشریک لک عملت سوءًوظلمت نفسی فاغفرلی وارحمنی وتب علی انک انت التواب الرحیمآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعدنمازکے)فرمایاکہ یہ کلام کہنے والاکون شخص تھا اس شخص نے کہا یارسول اللہ میں ہوں اور یہ شخص خاندان بلی سے پھرانصار سے تھاعتیبہ ان کا نام تھا پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقسم ہے اس کی جس کے قدرت میں میری جان ہے۔تیرے منہ سے یہ کلمات ختم بھی نہ ہونےپائےتھے کہ میں نے گیارہ فرشتوں کودیکھاکہ وہ لکھنے میں سبقت کرتے ہیں کہ کون لکھ لے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ پاکی بیان کرتاہوں تیری اے اللہ اورتیری حمدکے سات شہادت دیتاہوں کوئی معبود تیرے سوانہیں ۔۔۔
مزید
ابن عرقوب جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے انھیں میں یہ بھی مذکورہیں۔ان سے طارق بن شہاب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں میں سے تھےمگرصحابی ہونا ثابت نہیں ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
یہ دوسرے شخص ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے انھوں نے ان کے اوردوسروں کے درمیان فرق ظاہر کیاہے اوران کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قبل ازنبوت آپ کی کیاکیفیت تھی۔آپ نے فرمایاکہ میری دایہ سعدبن بکرکی اولاد سے تھیں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف کے پاس بھیجاتھااسودنے عروہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف بن ذی یزن کے پاس یہ خط لکھاتھا ۱؎ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد من محمد رسول اللہ الٰی زرعتہ بن ذی یزن اذااتاکم رسلی فامرکم بہم خیراً معاذبن جبل وابن رواحد ومالک بن عبادہ وعتبہ بن نیاران کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ اس بیان میں کلام ہے کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے لوگوں سے فتح مکہ کے ۹ھ ہجری میں خط وکتابت کی تھی اور عبداللہ بن رواحہ ۸ھ ہجری واقعہ موتہ میں شہیدہوچکے تھےواللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد محمد رسول اللہ کی طرف سے زرعہ بن ذی یزن کومعلوم ہو جب تمھارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو میں تم کو ان کےساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم دیتاہوں (میرے قاصدوں کے نام یہ ہیں)معاذبن جبل ابن واحدمالک بن عباد و عتبہ۔۔۔
مزید