اسماعیلی نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے اسماعیل بن عیاش نے حسن بن ایوب سے انھوں نے عبداللہ بن ناشج سے انھوں نے عتبہ بن عبداللہ سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کادوشخصوں کے پاس جوباہم ایک بکری کی خرید وفروخت کررہے تھے گذرہوا اورآپس میں دونوں قسمیں کھارہے تھےپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قسم برکت کودورکرتی ہے۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورشاید یہ وہ عتبہ ہیں جن کا ذکر اس بیان کے بعدآئےگااور وہ عتبہ بن عبدسلمی ہیں ابونعیم نے ان کے بیان میں ذکرکیاہے کہ عبداللہ بن ناشج ان سے روایت کرتے ہیں بعض راویوں نے ان کے والد کوعبداللہ اوربعض نے عبدکہاہے اس قسم کااختلاف راویوں میں بہت ہواکرتاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن صخربن خنسابن سنان بن عبیدبن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی ہیں یہ بیعت عقبہ اورغزوہ ٔ بدرمیں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے مگرابوموسیٰ نے کہاکہ ان کا نسب اس طرح ہے عتبہ بن عبداللہ بن عبیدبن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ پھرخنساکی اولادسے ہیں غزوۂ بدرمیں شریک تھے اس کوابوموسیٰ نے ابن اسحاق سے روایت کر کے نقل توکیاہے۔مگران کے نسب میں صخر اورخنساء اورسنان تین پشتوں تک ساقط کردیااور کہا کہ خنساکی اولادسے ہیں لیکن بنی خنساء کونسب میں نہیں ذکرکیاہے تاکہ سمجھاجاتا کہ یہ نسب کیوں کر ہے میں ان کا نسب صحت کے ساتھ پہلے ہی ذکرکرچکاہوں واللہ اعلم اورجوابن اسحاق نے بیان کیاہے وہ وہی ہیں جوہم سےعبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سندسے یونس بن بکیرتک پہنچاکر ابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام جوغزوۂ بدرمیں شریک تھے روایت کی ہے کہ بین عبیدبن عدی بن غنم ب۔۔۔
مزید
ان کو ابن شاہین نے بیان کرکے کہاہے کہ اگرابن عائذہیں (توخیر)ورنہ یہ ابن عبدہیں کیوں کہ حدیثیں دونوں کی روایت کردہ ایک ہیں خالدبن معدان نے عتبہ بن عائذسے روایت کی ہے ۔اوراسی طرح ابن عائذ ہی بیان کیاہے یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اورکہتے تھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جس شخص نے فجراورعشاء کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھی اس کوحج اورعمرہ کرنے والے کاثواب ملے گا۔اس کوابوعامر الہانی نے ابوامامہ اورعتبہ بن عبید سے روایتک کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
ابن طویع۔مازنی ہیں۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاتوگیاہے مگرصحابی ہوناثابت نہیں ہے ان سے ابن جریج نے یزیدبن عبداللہ بن سفیان سے انھوں نے عتبہ بن طویع مازنی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے غلاموں کے گروہ تم میں شریروہ ہیں جو عرب (کی عورتوں)سے نکاح کرےاوراے عرب تم میں وہ شخص بدہےجوکہ غلاموں میں نکاح کرے جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ کلام سناتوآپ سے ایک غلام کی نسبت جس نے انصارکی عورت سے نکاح کرلیاتھا عرض کیاگیاآپ نے فرمایاکہ وہ عورت راضی ہے۔لوگوں نے کہا ہاں راضی ہے پس آپ نے اس کو روا رکھاان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
۔ابوسفیان کانام صخر بن حرب بن امیہ بن عبدشمس تھایہ عتبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حقیقی بھائی تھے اوررسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوچکے تھے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طائف کاحاکم بنایاتھا جب عمروبن عاص(والی مصر)کاانتقال ہوگیا تو حضرت معاویہ نے (اپنی خلافت کے زمانے میں)اپنے بھائی عتبہ کو مصرکاحاکم کردیایہ وہاں ایک سال رہے پھرانھوں نے وہیں مصر میں وفات پائی اوروہیں دفن ہوئے ان کی وفات ۴۴ھ ہجری میں ہوئی تھی اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ۳۳ھ ہجری میں ان کی وفات ہوئی تھی۔یہ نہایت فصیح خطیب تھے۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان سے بڑھ کرکوئی شخص (فصیح)خطبہ پڑھنے والانہ تھا۔انھوں نے ایک روزمصروالوں کے سامنے خطبہ پڑھا کہ اے اہل مصر تمھاری زبانوں پر حق کی تعریف کرنا آسان ہے مگرتم اس کو (کبھی زبان پر بھی)نہیں لاتے ہو۔اورمدح باطل کی بنت بیان کی اورکہاتم اس کوکرتے ہوتم گدھے کی مانندہوکہ ۔۔۔
مزید
ابن سالم بن حرملہ عدوی تھے صحابی ہیں ان کومستغفری نے بیان کیاہے اوراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
ابن سالم بن حرملہ عدوی تھے صحابی ہیں ان کومستغفری نے بیان کیاہے اوراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن خالدبن معاویہ بہرانی ہیں اوس (کے خاندان)کے حلیف تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے مگرابوعمرنے کہاہے کہ ان کی شرکت بدر میں اختلاف کیاگیاہے ابن اسحاق نے توان کو بہرانی بیان کیاہے مگرابن کلبی نے انکوبہزی بہزبن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم کی اولاد سے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن خالدبن معاویہ بہرانی ہیں اوس (کے خاندان)کے حلیف تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے مگرابوعمرنے کہاہے کہ ان کی شرکت بدر میں اختلاف کیاگیاہے ابن اسحاق نے توان کو بہرانی بیان کیاہے مگرابن کلبی نے انکوبہزی بہزبن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم کی اولاد سے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کوعبیدبن معاذاوربعض نے عتیک بن معاذاوربعض نے ان کوزید بن صامت بیان کیاہےان کی کنیت ابوعیاش تھی زرقی ہیں ان کا حال ردیف زامیں پہلے گذرچکاہے اور عبید بن زیدکے نام میں بھی ان کابیان ہے ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید