بن انس انصاری ہیں ۔یہ معاذبن عبداللہ بن خبیب جہنی کے والد کے چچاتھے عبداللہ بن سلیمان بن ابی سلمہ مدنی معاذبن عبداللہ بن خبیب جہنی سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنے چچاعبیدسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ باہرتشریف لائے اورآپ کے جسم مبارک پر غسل کی علامت پائی جاتی تھی اورآپ کی طبیعت بشاش تھی پس ہم لوگوں نے یہ گمان کرکے کہ آپ نے ازواج سے خلوت کی ہوگی عرض کیایارسول اللہ آپ نے خوشی کے ساتھ صبح کی۔ فرمایاہا الحمدللہ پرآپ نے دولت مندی کاذکرکرکے فرمایادولت مندی میں کوئی قباحت اس شخص کے واسطے نہیں جواللہ برترسے ڈرتاہےمگرجوشخص اللہ برترسے ڈرتاہے اس کے واسطے تندرستی دولت مندی سے بہترہےاورطبیعت کابشاش ہوناخوش رہنابھی ایک نعمت ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
اسدی ہیں عباد بن عوام نے حصین بن عبدالرحمن سے انھوں نے عبیدبن مسلم صحابی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جوغلام اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کرے اوراپنے آقاکی بھی فرماں برداری کرے اس کو دوناثواب ملتاہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔لیکن ابوعمرنےکہاہے(یہ حدیث)عباد بن حصین سے روایت کی گئی ہے اور وہ کہتے تھے میں نے عبدبن مسلم سے سناہے اورابن مندہ اورابونعیم نے عبادبن عوام سے انھوں نے حصین بن عبدالرحمن سے انھوں نے عبیدبن مسلم سے روایت کی ہے۔۔۔۔
مزید
مزنی ہیں ان کوابن قانع نے بیان کیاہےاوراپنی سند کے ساتھ عبیدبن عبیدمراوح مزنی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مقام)نقیع میں نزول فرمایاتھا اورحال یہ تھا کہ لوگ لوٹ جانے کااندیشہ کررہے تھے اتنے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے منادی (یعنی مؤذن نے پکارااللہ اکبر میں نے(اپنے دل)میں اس مؤذن سے مخاطب ہوکر کہاکہ تونے ایک بڑے کی بڑائی بیان کی پھرمنادی نے کہااشدان لاالہ الااللہ میں نے (اپنے دل میں) کہاان لوگوں کے پاس (ضرور۔خداکی طرف سے)کوئی خبر(آئی)ہےورنہ( اس قدرجزم ویقین کے ساتھ بلفظ شہادت نہ بیان کرتے)پھرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا اور اسلام لایاآپ نے مجھ کووضوتعلیم کیااور میں نےآپ کے ساتھ نمازاداکی آپ نے نقیع کوحمی۱؎ بنا لیا اورمجھے وہاں کاعامل مقررکردیا یہ غسانی کابیان ہے۔ ۱؎ حمی اس مقام کوکہتے ہیں جوبادشاہ کے مویشی چرانے کے لی۔۔۔
مزید
کی کنیت ابوامیہ تھی معافری ہیں صحابی تھے جیساکہ ابوسعیدبن یونس نے بیان کیاہے اور کہاہےکہ یہ فتح مصر میں شریک تھے ان سے ابوقبیل معافری نےروایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابووردتھی انصاری ہیں بعض لوگوں نے ابووردکانام ثابت بن کامل بیان کیا ہے۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ ابن مندہ نے ان کاتذکرہ کنیت کے باب میں لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابووردتھی انصاری ہیں بعض لوگوں نے ابووردکانام ثابت بن کامل بیان کیا ہے۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ ابن مندہ نے ان کاتذکرہ کنیت کے باب میں لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ہیں۔ان کی یہ روایت کردہ حدیث مرفوع ہے کہ تم لوگ اس لشکر سے بچتے رہو جو (لشکراعداکوتو)دیکھ کربھاگے اورجب مال غنیمت دیکھے تولوٹ پڑے ان سے لبعہ بن عقبہ نے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
قاری ہیں یہ انصار کے خاندان بنی حظمہ میں سے ایک شخص ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اوران سے زید بن اسحاق نے روایت کی ہے ۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے نیز ابوعمرنے ان کوعمیرکے نام میں ذکرکیاہے۔وہ عمیرکے تذکرے میں بیان ہوگااور وہی صحیح ہے بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کا نام عبیدبیان کیاگیاہے پس اگر(ابوعمر)اس طرف اشارہ کردیتے تو بہت اچھاہوتا۔اورابواحمدعسکری نے ان کو دوعنوان میں ساتھ ہی بیان کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سعدبن عامربن جندع بن لیث بن بکربن عبدمناہ بن کنانہ لیثی جندعی ہیں ان کی کنیت ابوعاصم تھی ۔یہ اہل مکہ کے قصہ بیان کرنے والوں میں سے تھے۔ان کوبخاری نے ذکرکیا ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہےاورمسلم نے ذکرکیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئے تھےاورکبارتابعین میں ان کاشمارہے۔انھوں نے حضرت عمراور ان کے علاوہ اورصحابہ سے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمروابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
کلابی ہیں بعض نے ان کانام عبیدہی بیان کیاہے ہم نے ان کو عبید اورعبیدہ کے نام میں صحیح طور سے بیان کیاہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید