ابن نعیم اشجعی۔یہ سفرخیبرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہبرتھے۔ان کاتذکرہ بغوی نے اسی طرح لکھا ہے مگران کی کوئی حدیث روایت نہیں کی۔۔۔۔
مزید
ان کانام نعمی تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔اس کو ابواسحاق نے براء سے روایت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن بلدمہ بن خناس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی۔ابن ہشام نے کہا ہے کہ بلدمہ کی بے کوضمہ اور بے کے بعد ذال منقوطہ ہے۔یہ عبداللہ ابوقتادہ کے چچازادبھائی تھے یہ عبداللہ بدرمیں اوراحد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور ابوموسیٰ کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ بن مالک بن عجلان بن زید بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی۔ بدر میں شریک تھے اوراحد کے دن شہید ہوئے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ کنانی۔فریابی نے سفیان ثوری سے انھوں نے عمربن سعید سے انھوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے انھوں نے عبداللہ ابن فضلہ کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اورحضرت ابوبکروعمر کی وفات ہوئی اس وقت تک مکہ کے بازار فروخت نہ کیے جاتے تھے۔اس کومعاویہ بن ہشام نے عمرسے انھوں نے عثمان سے انھوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انھوں نے علقمہ بن فضلہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ۔قبیلۂ بنی عدی بن کعب سے ہیں قریشی ہیں۔مہاجرین حبش سے ہیں۔عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جن لوگوں نے حبش کی طرف حضرت جعفربن ابی طالب کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں عبداللہ بن نضلہ بھی تھے جوخاندان بنی عدی بن کعب سے تھے قریشی تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی ہے علمأ مغازی نے خواہ زہری ہوں خواہ ابن اسحاق کسی نے اس بات میں اختلاف نہیں کیاکہ ان کا نام معمر بن عبداللہ بن نضلہ ہے۔ان کا تذکرہ معمرکے نام ہیں انشاءاللہ تعالیٰ آئے گا۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ۔کنیت ان کی ابوبرزہ ہے۔اسلمی ہیں۔ ان کے نام میں لوگوں میں اختلاف کیاہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ عبداللہ کے ناموں میں کیاہے اورواقدی سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے کہتے تھے کہ ان کا نام عبداللہ بن نضلہ ہے ابن شاہین نے کہاہے کہ ان کے بیٹے سے زیادہ ان کاعلم کسے ہوسکتاہے۔ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکنیت کے باب میں بھی کریں گے۔۔۔۔
مزید
ابن نصر سلمی۔ان سے ابوبکربن محمد بن عمرو بن حزم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ)فرمایاجس مسلمان کے تین لڑکے مرجائیں اوروہ ثواب سمجھ کر صبرکرے تو وہ لڑکے اس کے لیے دوزخ سے سپر بن جائیں گے ایک عورت نے عرض کیاکہ یارسول اللہ اگرکسی کے دو لڑکے مرے ہوں آ پ نے فرمایادولڑکے (مرے ہوں)تب بھی یہی ثواب ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھا ہے اور کہاہے کہ یہ ایک مجہول شخص ہیں سوا اس حدیث کے اورکوئی حدیث ان کی معلوم نہیں ہوتی ۔ان کو لوگوں نے صحابہ میں ذکرکیاہے مگر اس میں کلام ہے بعض لوگ ان کو محمد کہتے ہیں اور بعض ابوالنضر کہتے ہیں یہ سب اختلافات امام مالک کے شاگردوں نےکیے ہیں مگر ابن وہب نے یہ حدیث ابوبکربن محمد بن عمروبن حزم سے روایت کی ہے اور وہ عبداللہ بن عامراسلمی سے روایت کرتے ہیں۔۔۔۔
مزید
ابن نحام۔اوربعض لوگ ابن نحماء کہتے ہیں۔ربیع بن صبیح نے حسن (بصری) سے انھوں نے عبداللہ بن نحام سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیامیرے سراورداڑھی کے بال سفید تھے اورسفیدہوکرگھاس کی طرح (کمزور)ہوگئے تھے حضرت نے فرمایااے ابن نحام کیامیں تمھارے اس بڑھاپے کی فضلیت میں ایک حدیث تم سے بیان کروں میں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا اے ابن نحام اللہ عزوجل بوڑھے آدمی سے قیامت کے دن آسانی کے ساتھ حساب لےگابعد اس کے اعمال نامہ اس کا رضوان (داروغۂ جنت)کودےدےگا اورفرمائے گا کہ میرابندہ جب جنت میں پہنچ جائے اورہول قیامت کوبھول جائے تو یہ اعمال نام اس کودیناجب وہ اس کو بڑھاپے اوراس کا رنگ متغیرہونے لگےتواس سے کہناکہ رنجیدہ نہ ہوتیرا پروردگار بزرگ برتر فرماتاہے کہ مجھے تیرے بڑھاپے سے شرم آتی ہے کہ اس اعمال نامہ کے ساتھ تجھ سے ملاقات کروں چ۔۔۔
مزید
ابن ناشح۔حصرمی۔ان کاتذکرہ حسن بن سفیان نے صحابہ میں کیاہے۔اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ یہ حمصی ہیں اور ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابویعلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوعمرو بن حمدان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن مصفی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے محمد بن حزب نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابوحیوہ نےسعید بن سنان سے انھوں نے شریح بن کسیب سے انھوں نے عبداللہ بن ناشح سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیاکہ آپ فرماتے تھے کہ میری امت میں لوطیہ ایک جماعت ہمیشہ قیامت تک رہے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ابواحمد عسکری نے کہاہے کہ بعض لوگوں کاقول ہے کہ ناشح حاکے ساتھ ہے اورمیں نے ایساہی ان لوگوں کے سامنے پڑھ کرسنایاہے کہ جو لوگ ان کے نام سے زیا۔۔۔
مزید