پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )میمونہ( رضی اللہ عنہا)

میمونہ دختر عبداللہ بن بنو یزید از بنو بلی،انہیں جعادرہ بھی کہتے تھے اور یہ لوگ بنو امیہ بن زید انصاری کے حلیف تھے،یہ ابن اسحاق کا قول ہے،اس خاتون کے اسلام کا ذکر کیا ہے،اور ابن ِہشام نے ان کا نام لکھا ہے،یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے کعب بن اشرف (یہودی)کے ان اشعار کا جواب لکھا،جو اس یہودی نے مقتولینِ بدر کے سوگ میں تصنیف کئے تھے،جناب میمونہ کے اشعار کا پہلا شعر درج ذیل ہے۔ بَکت عینُ مَن یَسبکِی لِبَدرٍوَاَھلِہٖ وَعَتَلّت بِاَھلِیہِ لُوَیُّ بن غالب (ترجمہ)جس کی آنکھیں بدراور اہل بدر پر روتی ہیں،و ہ روئیں،اور لوی بن غالب نے اپنے اہل نے اپنے اہل کے ساتھ کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ غسانی نے ان کے ذکر سےابوعمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )میمونہ( رضی اللہ عنہا)

میمونہ دختر ابوعتبہ یا عنبسہ،یہ ابن مندہ اور ابوعمرکا قول ہے،ابو نعیم کے مطابق یہ لفظ عُیَب کی تصحیف ہے،منتجع بن مصعب ابوعبداللہ العبدی نے ربعیہ دختر مرثد سے داوروہ بنو فریع کے پاس ٹھہراکرتی تھیں،انہوں نے منبہ سے،انہوں نے میمونہ دختر عُیَب سے(ایک روایت میں دختر ابی عنبسہ آیا ہے) جو حضور نبیِ کریم رؤف رحیم کی آزاد کردہ کنیز تھیں،روایت کی،کہ ایک خاتون حضرت عائشہ کے پا س آئی،اور کہا اے عائشہ حضورِاکرم سے میرے بارے میں درخواست کرو،کہ آپ میرے لئے دعا فرمائیں،تاکہ میرے دل کو سکون و اطمینان نصیب ہو،حضورِاکرم نے فرمایا،اپنا دایاں ہاتھ دل پر رکھ اور اسے رگڑ اور ذیل کی دعا پڑھ، بِسمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ،وَاَوِنِی بِدَوَائِک وَاَشفِعنِی بِشِفَائِک وَاَغنِنِی عَمَّن سِوَاک ربیعہ سے مروی ہے،کہ انہوں نے اس کو آزمایا،اور تیربہدف پایا،تینوں نے انکا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدہ )میمونہ( رضی اللہ عنہا)

میمونہ دختر کردم ثقفیہ،ان سے یزید بن مقسم نے روایت کی،ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے یزید بن ہارون سے،انہوں نے عبداللہ بن یزید بن مقسم بن ضبتہ الطائفی سے روایت کی،کہ انہوں نے اپنی پھوپھی سارہ دختر مقسم سے،انہوں نے میمونہ دختر کردم سے سُناکہ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکے میں دیکھا،آپ اُونٹنی پر سوار تھے،اور میں اپنے والد کے ساتھ تھی،حضورِ اکرم کے ہاتھ میں کتاب کی طرح ایک درہ تھا،اور بدودرہ درہ کررہے تھے۔ میمونہ کے والد نے حضوراکرم سے دریافت کیا،یارسول اللہ ! میں نے بوانہ کے مقام پر قربانی کرنے کی نذرمانی ہے،فرمایا،وہاں کوئی بت تو نہیں،انہوں نے کہا نہیں یارسول اللہ ،فرمایا،اپنی نذر پوری کروفضل بن دکین نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یعلی بن کعب ثقفی سے،انہوں نے یزید بن مقسم سے ،انہوں ن۔۔۔

مزید

سیّدنا مبشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ

ہم ان کا نسب ان کے والد براء کے تذکرے میں لکھ آئے ہیں۔ یہ صحابی بقول ابن الکلبی صلح حدیبیہ اور بیعۃ الرضوان میں موجود تھے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محرز بن زہیر الاسلمی مدنی رضی اللہ عنہ

اُنہیں حضور اکرم کی صحبت میسر آئی۔ ان کی حدیث کبیر بن زید نے ام ولد محرز سے اس نے محرز سے روایت کی۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاموشی عالم کی زینت ہے، ان کی بیٹی نے ان سے روایت کی کہ میرے ابا اکثر کہا کرتے تھے۔ اے اللہ میں جھوٹوں کے زمانے سے پناہ مانگتا ہوں۔ بیٹی نے پوچھا، ابا، وہ کیسا زمانہ ہوگا؟ باپ نے جواب دیا، اس زمانے میں جھوٹ الم نشرح ہوچکا ہوگا۔ پھر ایک آدمی ان میں آشریک ہوگا۔ لیکن جب موضوع زیرِ بحث آئے گا، تو وہ بھی اپنی ٹانگ اُڑا کر گناہ میں شریک ہوجائے گا۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے اور بیان کیا ہے کہ ابو نعیم نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ابن مندہ کو اس باب میں وہم ہوا ہے اور اس نے ان کی ولدیت ابنِ زہر لکھی ہے۔ جعفر نے ابن زہیر اور ابن زہر کو دو مختلف آدمی قرار دیا ہے۔ امام بخاری نے اپنی ت۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار: ان کا عرف ابنِ عفراء تھا۔ عفراء ان کی والدہ کا نام ہے ان کا نسب عفراء بنتِ عبید بن ثعلبہ بن بنو غنم بن مالک بن نجار تھا۔ ابن ہشام اس سلسلے کو یوں بیان کرتے ہیں: معاذ بن حارث بن عفراء بن حارث بن سواد۔ ابنِ اسحاق لکھتے ہیں: معاذ بن حارث بن رفاعہ بن سواد، مگر پہلا درست ہے۔ یہ صاحب انصاری خزرجی، نجار تھے۔ یہ خود اور ان کے دو بھائی عوف اور معوذ عفراء کے بیٹے غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ عوف اور معوذ دونوں شہید ہوگئے، مگر معاذ بچ گئے تھے جو بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوتے رہے۔ ابو جعفر نے با سنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ انصاری شرکائے بدر از بنو سواد بن مالک عوف، معوذ، معاذ اور رفاعہ کا جو بنو حارث بن رفاعہ بن سواد سے تھے اور وہ عفراء کے بطن سے تھے۔ ذکر کیا ہے۔ ایک روایت میں۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن رباح ابو زہیر ثقفی: یحییٰ ثقفی نے اذناً باسنادہ ابو بکر سے انہوں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے انہوں نے یزید بن ہارون سے انہوں نے نافع بن عمر الجمی سے، انہوں نے اُمیّہ بن صفوان بن عبد اللہ سے۔ انہوں نے ابو بکر بن ابی زہیر ثقفی سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ مَیں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف کے ایک ٹیلے پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ جلدی ہی تمہیں اہلِ جنت اور اہلِ نار کا یا بھلے لوگوں اور بُرے لوگوں کا علم ہوجائے گا۔ ایک آدمی نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نیک آدمی اس کی تعریف و توصیف سے اور بُرا آدمی اپنی بدعملی اور بد کرداری سے پہچانا جاتا ہے تم ایک دوسرے کے نگران اور پاسدار ہو۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن ثور بن عبادۃ البکائی: ان کے بیٹے کا نام بشر تھا۔ دونوں باپ بیٹا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے۔ معاویہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ عقیلی نے ہشام بن کلبی سے روایت کی ہے۔ ہم ان کا نسب ان کے بیٹے بشر کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشر کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں سات بکریاں عطا کیں۔ ہم اس واقعہ کو پیشتر ازیں بالتفصیل بیان کر چکے ہیں۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن زرارہ بن عمرو بن عدی بن حارث بن مربن ظفر انصاری اوسی و ظفری: یہ اپنے دو نو بیٹوں ابو نملہ اور ابو درہ کے ساتھ غزوہ اُحد میں شریک تھے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸) ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن سعد یا سعد بن معاذ: امام مالک نے مؤطاعیں ان کا نام اسی طرح لکھا ہے۔ نافع نے ایک انصاری سے انہوں نے معاذ بن سعد سے بیان کیا، کہ کعب بن مالک کی ایک لونڈی تھی۔ جو ان کی بکریاں سلع پہاڑی پر چرایا کرتی تھی۔ ایک دفعہ ایک بکری بیمار ہوگئی، چراوہی کو معلوم ہوگیا۔ اس نے بکری کو پتھر سے ذبح کردیا۔ مالک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید