بریلی مدرسہ منظر اسلام میں حضرت مولانا عبد العزیز خاں محدث سے تکمیل علوم کی،حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین قادری علیہ الرحمۃ سے تاریخ الفخری مسلم شریف کا درس لیا،اول الذکر سے بیعت و ارادت کا رتہ قائم کیا،متقی ،متشرع ،پاک نہاد،وعظ کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں ہیسل پور،بمبئی، بریلی میں درس و خطابت کی خدمات انجام دیں،مفتئ اعظم ہند حضرت مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا مدظلہٗ نے ۱۳۷۷ھ میں بمقام سبیل پور اپنے سلاسل کا مجاز کیا،تین بار حج وزیارت سے مشرف ہوچکے ہیں مسلمانوں کی تعلیمی ودینی ترقی کے پیش نظر وطن میں مرشد کے نام پر مدرسہ عزیز العلوم قائم کیا،ذاتِ رسالت پناہی سےوالہانہ وابستگی نے شاعر بنادیا ہے،جوش ومستی سے لبریز نعتیہ اشعار کہتےہیں، ‘‘ریاض عقیدت’’ ایک مختصر سا انتخاب چھپ کر شائع ہوچکا ہے،پچاس کے قریب عمر ہے،راقم سطور سے بایں فضل وکمال و بزرگی دوتانہ ومخلصانہ سلوک۔۔۔
مزید
بن مسعود السلمی الہزی: ان کے بھائیوں کے نام مجالد اور مجاشع تھے۔ معبد کی حدیث، مجالد کی حدیث کی طرح ہے۔ امام بخاری ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ابو عثمان نہدی نے مجاشع سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعد از فتح مکہ اپنے بھائی معبد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مَیں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ میں اپنے بڑے بھائی معبد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرانے لایا ہوں فرمایا۔ ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کس امر پر آپ سے بیعت ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ میں نے معبد سے اس کا ذکر کیا وہ مجاشع سے عمر میں بڑے تھے۔ کہنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا ہے۔ مجاشع سے ایک اور بات مروی ہے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائی ابی معبد کے ساتھ حضور اکرم صلی ا۔۔۔
مزید
بن میسرۃ السلمی: اس میں کچھ شبہ ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی بد ایونی،بد ایوں کے مشہور صدیقی متولی خاندان کے فرد تھے، آپ کے والد شیخ برکت اللہ قادری صدیقی بد ایوں کے روسا میں تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسۂ عالیہ قادریہ میں پائی،مولانا ابو المعانی ابن مولانا عبد الغنی بد ایونی سے تحصیل علم کے بعد بریلی میں مولانا مجد والدین عرف مدن شاہ جہاں پوری اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی سے حدیث و فقہ کا درس لیا، مثنوی مولانا رومی حضرت مولانا،خطیب محمد عمران سے پڑھی، حضرت شاہ عین الحق عبد المجید بد ایونی خلیفہ حضرت شمس العارفین اچھے میاں کے ہمراہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے،اور خلافت ملی،کچھ عرصہ لکھنؤ میں رہے، مرزا قتیل سے شعرو سخن میں مشروہ کیا،کشفی تخلص کرتے تھے،کان پور میں محلہ ناچ گھر میں قیام تھا،وہیں اب حضرت کانقاہ ہے(اطراف و جوانب میں ہنود کی آبادی ہے)۱۲۸۱ھ میں ۳؍رجب کو انتقال ہوا،مولانا شاہ محمد عادل ناروی المتوفی ۱۳۲۵ھ آپ ک۔۔۔
مزید
شیخ الحدیث مرکز اہلسنت منظر اسلام بریلی شریف نانپارہ ضلع بہرائچ شریف کا ایک مشہور قصبہ ہے جو نیپال کی تائی سے متصل ایک چھوٹی سی اسٹیٹ کی شکل میں جاناپہچانا جاتا ہے۔ اسٹیٹ کے زمانے میں یہ قصبہ ارباب علم ودانش کی آماجگاہ اور مسکن بنارہا ہے۔ آج بھی بحمدہٖ تعالیٰ اس قصبہ اور اس کے مضافات علماء وحفاظ، قراء اور شعراء سے آباد ہے۔ نانپارہ ایک زمانے میں نوابوں کا دارالسلطنت رہ چکا ہے۔ نانپارہ کے نواب کی فرمائش پر امام احمد رضا قادری بریلوی نے ایک نعت پاک تحریر فرمائی۔ مقطع میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں؎ کروں مدح اہلِ دوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں مری بلا میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں ولادت اسی قصبہ نانپارہ کی سر زمین پر فخر المحدثین علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد عارف رضوی ۷؍مارچ ۱۹۸۳ء کو پیدا ہوئے اور وہیں ا۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ محمد اشرفی کچھوچھوی قدس سرہٗ سے جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد میں ابتدائی عربی درس نظامی کی کتابیں پڑھیں بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے،اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ میں حضرت صدر الشریعۃ مولانا شاہ محمد امجد علی اعظمی قدس سرہٗ اور دیگر اساتذہ سے کتب متداولہ پڑھیں،فارغ التحصیل ہوئے،جامعہ نعیمیہ مراد آباد،و،دار العلوم اشرفیہ مبارک پور اعظم گڈھ،بحر العلوم کٹیہار،جامعہ حمیدیہ بنارس میں درس دیا،۔۔۔۔۔اب اپنے وطن اگر پور ماچھی ضلع بھاگل پور میں مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم کے شیخ الحدیث وصدر مدرس ہیں، درس نظامی کے جملہ فنون میں مہارت ہے۔علوم عقلیہ سے خاص شغف ہے،مزاج بہت نفاست پسند اور شاہانہ پایا ہے قطب المشائخ حضرت مخدوم اشرفی میاں قدس سرہے کےمرید ہیں،ممتاز علمائے اہل سنت میں شمار کیے جاتے ہیں۔۔۔۔
مزید
حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی گونڈوی ولادت فاضل گرامی حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی ۴؍جنوری ۱۹۴۴ء کو ننہال کے موضع جوڑیکوئیاں ضلع گونڈہ میں پیدا ہوئے جو قصبہ بچڑوا سے قریب ہے۔ ابتدائی پرورش والدین کے زیر سایہ ہوئی لیکن جب مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد ماجد کے سایہ عاطفت سےمحروم ہوگئے اور ان کی پرورش نانا نانی کے زیر سایہ ہونے لگی۔ خاندانی حالات والدین کریمین بڑے زمیندار تھے۔ مولانا رونق کا سلسلہ نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ یہی وجہ ہےکبدیقی لکھتے ہیں آپ کے جد کریم بسڈیلہ ضلع بستی سے ترک وطن کر کے پچڑ واکے رجسٹر واضلع گونڈہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ اس وقت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کےجد مکرم ریلوے میں ملازم تھے ان دنوں آپ آبائی وطن چھوڑ کر قصبہ اترولہ ضلع گونڈہ میں مع اہل وعیال سکونت پذیر ہوئے۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق نے اپن۔۔۔
مزید
مدرس شمس العلوم گھوسی ضلع مئو ولادت حضرت مولانا عبدالشید رضوی بن حکیم محمد نذیر اشرفی بن حکیم محمد بشر بن کرمات میاں ۱۵؍جولائی ۱۹۲۶ء کو موضع بٹھگائیں تھانہ تریاں ضلع چپھرا صوبہ بہار میں پیدا ہوئے۔ خاندانی حالات مولانا عبدالرشید رضوی کےوالد ماجد اپنے وقت کے نامور حکیم تھے۔ طب یونانی میں مہارت رکھتے تھے۔ اپنے گاؤں ہی میں مطب کرتے تھے۔ اسی وجہ سےمولانا عبدالرشید کا خاندان اپنے گاؤں اور قرب وجوار میں عزت و قعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مولانا عبدالرشید کے بڑےوالد بھی دید تھے اور اس فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے تجربہ کار اور ہر ولغریز حکیم گزرے ہیں۔ مولانا عبدالرشید کے دادا محترم حضرت مولانا عظیم اللہ بلیاوی سکندری پوری سے سلسلہ رشیدیہ میں۱۹۳۵ء کو منسلک ہوئے اور آخر عمر میں اور ادو وظائف میں مشغول رہا کرتے تھے۔ بالآخر ۱۹۴۳ء میں اس د۔۔۔
مزید
نیوٹن شریف ضلع جھنڈ واڑہ ایم۔ پی ولادت حضرت مولانا عبدالغنی قادری رضوی ۱۶؍جون ۱۹۲۷ء کو بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام موبکھیڑا جھنڈ واڑہ صوبہ ایم۔ پی میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان میں پہلی ولادت پر پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا عبدالغنی کے والد ہندی اسکول میں ماسٹر تھے اس لیے تبدیلی آئے دن ہوتی رہتی تھی۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالغنی رضوی کے والد ماجد نے نیوٹن چکلی سے بارہ میل دور جامی جنا دیو کے ایک مکتب میں آپ کا داخلہ کرادیا۔ آپ نے وہاں قرآن پاک دیڑھ سال میں ختم کیا۔ نیوٹن ضلع جھنڈ واڑہ کے مدرسہ میں اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ کرادیا گیا۔ اردو کی ابتدائی انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی تعلیم کے بعد مولوی محمد اسمٰعیل امام مسجد نیوٹن شریف کے مشورہ سے جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا۔ مولانا عبدالغنی نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد درس نظامیہ کی تکمیل کی۔ اساتذۂ کر۔۔۔
مزید
چترا درگاہ کرناٹک ولادت ہونالی ریاست کرناٹک ایک قدیم تاریخی گاؤں ہے جو شی مو گا شہر سے شمالی جانب چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے تنگا سمجھدار کے کنارے پر واقع ہے۔ اس گاؤں میں متعدد ومشائخ عظام سادات کرام کی خانقاہ ہیں، درگاہ جو ہمہ وقت فیض رساں ہیں۔ اسی گاؤں میں مولانا صوفی عبدالعزیز آفریدی رضوی ۲۲؍مئی ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے اور یہیں پر رہ کر والدین کے زیر سر پرستی پرورش ہوئی۔ صوفی عبدالعزیز کے جد کریم ن ے پورا نام عبدالعزیز خاں آفریدی رکھا اس علاقہ کے لوگ صوفی میاں جان کے نام سے جانتے ہیں۔ خاندانی حالات مولانا صوفی عبدالعزیز کے والد بزرگوار عبدالقادر آفریدی سرحدی پٹھان آفریدی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالقادر آفریدی کے آباواجداد شمال مغربی سرحد سے تقریباً ۲۲۵سال پیشتر کر ناٹک آکر بودو باش اختیار کی، والدہ ماجدہ شہزادی بی اصگری سرحدی قبیلیہ۔۔۔
مزید