ابن محمد۔اہل یمن سے ہیں۔عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے کہ انھوں نے عبداللہ بن محمد یمنی سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایاکہ دوزخ سے بچنے کی فکرکرو گوچھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی دے کر سہی۔ان سے عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے۔عبداللہ بن قرط کا شماربھی صحابہ میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح مختصرلکھا ہےابوعمر نے ان کے والدکانام محمد بیان کیا ہےاور بعض لوگوں نے مخمرکہاہے۔ان کاذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گا۔۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابومحمد ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مدشراب کے بارے میں ایک روایت کی ہے۔ان کی حدیث سہیل بن ابی صالح نے محمد بن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے اورابونعیم نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ سہیل نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔۔۔۔
مزید
ابن محمد بن مسلمہ بن سلمہ۔انصاری۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے شرفیاب ہوئے اور فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک رہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ میں نے عبداللہ بن سلیمان کو بیان کرتے ہوئے سنا۔۔۔۔
مزید
ابن بشر۔جس وقت ہوازن کے لوگوں نے زمانہ رِدّت میں اسلام سے پھرجانے کا قصد کیا یہ وہاں سے علیحدہ ہوگئے تھے اسوغسانی نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک خثعمی۔ان کا تذکرہ محمدبن مسلمہ کی حدیث میں ہے۔ابویحییٰ نے عمروبن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کونمازکاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوجائیں اس کے بعد پوری حدیث۱؎ذکرکی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ ۱؎پوری حدیث یہ ہے کہ اگروہ دس برس کے ہوجائیں تونماز نہ پڑھنے پران کو مارو۱۲۔۔۔
مزید
ابن مالک بن معتمر۔قبیلۂ بنی قطیعہ بن عبس سے ہیں۔صحابی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجاتھااس میں ان کو ایک سفید جھنڈا عنایت کیاتھا۔فتح قادسیہ میں شریک تھے اور اس دن لشکر کے ایک جانب کے افسر یہی تھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک ۔ابن ابی عاصم نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اپنی سند سے ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے علی بن میمون نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن مسلمہ نےبیان کیاوہ کہتے تھےہم سے اعمش نے عمرہ بن مُرَّہ سے انھوں نے عبداللہ بن حارث سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاظلم سے بچو کیوں کہ قیامت کے دن ایک ظلم سے بہت سی تاریکیاں پیداہونگی اور فحش سے بچو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام اور فحش گفتگوکو پسند نہیں کرتا اور حرص سے بچو تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کو حرص ہی نے ہلاک کیا حرص نے انھیں ظلم کرنے کی ترغیب دی پس انھوں نے ظلم کیا اور حرص نے انھیں بدگوئی کی ترغیب دی پس انھوں نے بدگوئی کی اور حرص نے انھیں قطع قرابت کی ترغیب دی پس انھوں نے قطع قرابت کی۔۔۔۔
مزید
ابن مالک کنیت ان کی ابوکاہل بجلی احمسی ہیں۔اسمعیل بن ابی خالد نے اپنے بھائی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے ایساہی نقل کیا ہے مگراکثرلوگ یہ کہتے ہیں کہ ابوکاہل کا نام قیس بن عائذ تھا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مغیث یامعتب۔عسکری نے ان کا نسب ایساہی شک کے ساتھ بیان کیاہے یحییٰ بن ایوب نے ولید بن ابی ولید سے انھوں نے عبداللہ مغیث سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم(ایک دفعہ)ایک آدمی کے پاس سے گزرے کہ وہ گیہوں فروخت کررہاتھا پس آپ نے اپنادست مبارک اس کے اندر ڈال کردیکھاتواندرسے بھیگاہواتھا پس آپ نے فرمایا کہ جس نے ہمیں دھوکادیاوہ ہم سے نہیں(یعنی اس کا شمار ہماری امت میں نہیں) ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مغفل بن عبدغنم اوربعض لوگوں نے عبدنہم بیان کیاہے وہ بیٹے ہیں عفیف بن اسحم بن ربیعہ بن عداء بن عدی بن ثعلبہ بن ذویب بن کے ذویب کا نام بعض نے دوید بیان کیا ہے۔ذویب بیٹے ہیں سعد بن عباء بن عثمان بن عمروبن اذین طانجہ کے مزنی ہیں عثمان کی وہ اولاد جو کہ (ان کی بی بی)مزینہ (کےبطن) سے ہیں سب اپنی ماں مزینہ بن کلیب بن وبرہ کی طرف منسوب ہیں یہی عمروبن اوس چچاہیں تمیم بن مرین ادکے۔حضرت عبداللہ اصحاب شجرہ سے تھے۔ان کی کنیت ابوسعید تھی بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابوعبدالرحمٰن تھی اور بعض کاقول ہے کہ ان کی کنیت ابوزیاد تھی۔انھوں نے (پہلے)مدینہ میں سکونت اختیارکرلی تھی(بعد میں) پھروہاں سے بصرہ چلے گئے اور وہیں جامع مسجد کے قریب ایک مکان بھی بنالیا۔عبداللہ ان اہل بکامیں ہیں کہ جن کے بارہ میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔۱؎ ولا علی الذین اذامااتوک لتحملہم قلت لااجدما احملکم علیہ تولواو۔۔۔
مزید