بن مالک بن عبد اللہ بن سلمہ بن عمرو الجعفی: یہ صحابی اپنی کنیت ابو سبرہ سے مشہور ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر یوں کیا ہے۔ یزید بن مالک بن عبد اللہ بن ذؤیب بن سلمہ بن عمرو بن ذہل بن مران بن جعفی یہ ابو سبرہ جعفی کا نام ہے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں، کہ ابو عمر نے یزید بن مالک کے دو ترجمے لکھے ہیں، ایک یہ ہے، اور دوسرا جو اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ حالانکہ دونوں ایک ہیں۔ واللہ اعلم ۔۔۔
مزید
بن محجل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے یہ بنو حارث بن کعب سے تھے۔ عبید اللہ بن احمد البغدادی نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو بنو حارث بن کعب کے طرف روانہ فرمایا، کہ انہیں لڑنے سے پہلے، اسلام کی دعوت دیں۔ جب خالد وہاں پہنچے، تو لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اور یہ لوگ جناب خالد کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے۔ اور انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مربع یا زید بن مربع انصاری: ان سے یزید بن شیبان نے روایت کی اسماعیل، ابراہیم وغیرہ نے باسنادہ ہم تا محمد بن عیسیٰ، قتیبہ سے، انہوں نے سفیان بن عینیہ سے انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عمرو بن عبد اللہ بن صفوان سے، انہوں نے یزید بن شیبان سے روایت کی، کہ ہم ایک مکان کے پاس جو عمرو سے ذرا دور تھا۔ کھڑے تھے، کہ مربع ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ تم اپنے مشاعر کی حفاظت کرو، کہ تم حضرت ابراہیم کی وراثت کے وارث ہو۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مزین بن قیس بن عدی بن امیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج: یہ واقدی کا قول ہے، لیکن ابن اسحاق، موسی بن عقبہ اور ابن قداح نے ان کا نام زید لکھا ہے۔ ابو عمر نے اسی روایت کو درست قرار دیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن معاویہ بکائی۔ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابو موسیٰ نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن معبد الحنفی یا دؤلی: یہ ابو نعیم کی روایت ہے۔ ابو عمر نے قیسی ربعی لکھا ہے یہ صحابی اور ان کے بھائی قیس، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان سے ان کے بیٹے معبد نے روایت کی، کہ میرے والد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کہ اہل یمامہ کا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ میرے دل میں آیا، کہ میں بنو عبد اللہ بن دؤل کا نام لے دوں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولنے سے شرم آئی، چنانچہ میں نے بنو عبید کا نام لیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے درست کہا، پھر فرمایا یہ وہ علاقہ ہے۔ جہاں کے لوگ تنگی ترشی میں بھی قائم و دائم رہیں گے اور تباہ و برباد نہیں ہوں گے میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں اور غلاموں کو ک۔۔۔
مزید
بن ابو معنی الجرحی یا سلمی: یہ صحابی مع اپنے بھائی اور والد کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔کوفی ہیں۔ ان سے ان کے بیٹے معن نے روایت کی، کہ انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابو الجویریہ سے انہوں نے معن بن یزید سے روایت کی، کہ میں نے میرے والد اور میرے دادا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی نیز حضور نے میری منگنی کرائی اور نکاح پڑھا ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم نے ان کا نام یزید بن اختس لکھا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں، کہ یزید ابو معن ہی یزید بن اختس سلمی ہیں۔ اور ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اسی لیے ابو عمر نے دوبارہ ان کا ذکر نہیں کیا کیونکہ دونوں ایک ہیں۔ اور جس نے انہیں جرمی لکھا ہے اس نے غلطی کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن منذر بن سَرج بن خُنَاس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرحی سلمی: یہ صحابی عقبہ، غزوہ بدر اور احد میں موجود تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے، بہ سلسلۂ اسمائے شرکائے بدر از بنو خناس بن سنان بن عبید بن غنم بن کعب بن سلمہ، یزید بن منذر بن سرح ابن خناس کا ذکر کیا ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابن ابی منصور: یہ جعفر کا قول ہے۔ بہ قولِ بعض انہیں صحبت نصیب ہوئی بعض نے ان کا نام یزید ابو منصور لکھا ہے۔ ابن وہب نے، لیث سے، انہوں نے دوید سے انہوں نے یزید بن ابو منصور سے روایت کی وہ ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ان سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیزی طبع میری امت کے بہترین آدمیوں کو نکھار دیتی ہے۔ عبد الرحمان بن ابان لیث سے، انہوں نے دوید سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابو منصور سے روایت کی اور بشر بن عمرو نے لیث سے ابو منصور کو عبد اللہ ابن عباس کا غلام لکھا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مہاخسرو: یمنی تھے۔ لیکن اصل میں ایرانی نسل سے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سفید براق کپڑوں میں ملبوس تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زاہر کالقب عطا فرمایا اس واقعہ کو عیاش بن یزید بن شرحبیل بن یزید بن مہاخسرو نے اپنے والد سے، انہوں نے شرحبیل سے انہوں نے اپنے والد یزید سے بیان کیا، کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید لباس میں حاضر ہوئے تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید