بن قیس بن ابان الثقفی: سفیان کے بھائی تھے۔ ان کی حدیث کو امیمہ دختر رقیقہ نے اپنی والدہ کی سند سے یوں بیان کیا کہ جب طائف کو فتح کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ان کے گھر بھی تشریف لے گئے اور رقیقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ستو پلائے آپ نے فرمایا اے رقیقہ اہل طائف کے بت کی کبھی عبادت نہ کرنا، اور نہ اس کے سامنے جھکنا اس نے جواب دیا اگر میں ایسا کروں، تو مجھے قتل کردیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ پوچھیں کہ تیرا رب کون ہے، تو کہنا جو اس بت کا رب ہے وہی میرا رب ہے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا اور واپس ہولیے۔ امیمہ کہتی ہیں کہ جب بنو ثقیف نے اسلام قبول کرلیا، تو ان کے بھائیوں سفیان اور وہب نے اپنی ہمشیرہ کو بتایا کہ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہماری والدہ کے بارے۔۔۔
مزید
بن عاصم بن مالک بن منتفق رفیق ابو رزین لقیط بن عامر بن المنتفق عقیلی: ابو المعانی نصر اللہ بن سلامہ بن سالم الہیتی نے اجازۃ(اور میرا خیال ہے میں نے ان سے سُنا) نقیب ابو جعفر احمد بن محمد بن عبد العزیز عباسی سے انہوں نے ابو علی حسن بن عبد الرحمٰن شافعی سے انہوں نے ابو الحسن احمد بن ابراہیم بن احمد بن ابراہیم بن فراس سے انہوں نے ابو جعفر محمد بن ابراہیم بن عبد اللہ وجیلی سے انہوں نے ابو یونس محمد بن احمد بن یزید بن عبد اللہ المدینی انہوں نے ابراہیم بن منذر سے انہوں نے عبد الرحمٰن بن مغیرہ خزامی سے انہوں نے عبد الرحمان بن عیاش انصاری سے انہوں نے دلہم بن اسود بن عبد اللہ بن حاجب بن عامر بن المنتفق عقیلی سے انہوں نے اپنے دادا عبد اللہ سے انہوں نے اپنے چچا لقیط بن عامر العقیلی(ح) سے ولہم نے کہا کہ مجھ سےابو الاسود بن عبد اللہ بن عاصم بن لقیط نے بیان کیا کہ لقیط بن عامر ح۔۔۔
مزید
بن کلدہ از بنو عبد اللہ بن غطفان جو اوس کے حلیف تھے غزوۂ بدر میں شریک تھے جعفر المستغفری نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ عبد اللہ بن غطفان کا نام عبد العزی تھا۔ جب وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا، کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو انہوں نے کہا عبد العزی سے فرمایا آج سے تم بنو عبد اللہ ہو چنانچہ یہ نام پکا ہوگیا۔۔۔۔
مزید
بن قصی بن عوف بن جابر بن عبد نہم بن عبد العزی بن تمیمہ بن عمرو بن مرہ بن عامر بن صعصعہ عامری سلولی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ کلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن معقل الغفاری: مصر میں سکونت پذیر ہوگئے بقول ابو سعید بن یونس ان سے ابو قیتل المغافری نے روایت کی ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن شیبان ازدی یادیلی: انہیں صحبت میسر آئی۔ ان سے عمر بن عبد اللہ بن صفوان الجمحی نے روایت کی کہ ابن مربع الانصاری ان کے پاس آئے، اور کہنے لگے، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے چونکہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔ اس لیے اپنے مشاعر کی پاسداری کرو۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن سوید الجہنی: یہ مسرع کے والد تھے۔ ان سے ان کی اولاد نے روایت کی عبد اللہ بن داؤد بن دلہاث بن اسماعیل بن عبد اللہ بن مسرع بن یاسر بن سویدا الجہنی نے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے بیان کیا، کہ میرے والد نے اپنے والد سے، انہوں نے اسماعیل بن عبد اللہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے مسرع بن یاسر سے روایت کی۔ کہ جناب یاسر نے انہیں بتایا، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواروں یا پیدل سپاہ کے ایک جماعت کے ساتھ ایک فوجی مہم پر روانہ فرمایا۔ اور میری بیوی حاملہ تھی اس دوران میں ان کی بیوی نے ایک لڑکا جنا۔ جسے وہ اٹھا کر حضور کے پاس لے گئی۔ اور گزارش کی یا رسول اللہ، اس کا والد کسی فوجی مہم پر گیا ہوا ہے۔ اور اس اثنا میں یہ بچہ پیدا ہوا ہے، اس لیے اس کا نام تجویز فرما دیجیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اٹھالیا۔ اور اپنا مبارک ہاتھ اس پر پھیرا۔ اور دعا فرمائی۔۔۔
مزید
بن عامر عیسی: عمار ان کے بیٹے تھے۔ یمن سے آئے تھے۔ ان کا نسب ہم عمار کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ بنو مخزوم کے حلیف تھے۔ ان کی کنیت ابو عمار تھی۔ ابو حذیفہ بن مغیرہ نے اپنی کنیز سمیہ کو ان سے بیاہ دیا تھا۔ جب عمار پیدا ہوئے، تو ابو حذیفہ سمیہ کو آزاد کردیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ابو حذیفہ فوت ہوگیا۔ جب ظہور اسلام ہوا، تو یاسر کا سارا خاندان مسلمان ہوگیا۔ جس کی وجہ سے انہیں سخت مصائب سے پالا پڑا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس بن بکیر سے، انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی، کہ انہیں خاندان یاسر کے کئی مردوں نے بتایا کہ امِ عمار سمیہ کو بنو مخزوم نے قبولِ اسلام کی وجہ سے بڑے بڑے دکھ دیے، تا آنکہ انہوں نے اس خاتون کو قتل کردیا۔ جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس خاندان کے پاس سے ہوتا، اور انہیں مکہ کی گرمی میں سنگریزوں اور کنکروں پر لٹا کر عذاب دیا جا رہا ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرم۔۔۔
مزید
النبال: یسار بن مالک ثقفی کے غلام تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا، تو یہ اپنے آقا کو چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔ جب ان کے آقا بھی مسلمان ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے آقا کے سُپرد کردیا، اور ان کی ولایت بھی یسار بن مالک کے حوالے کردی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن و برہ ازدی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطورِ سفیر، فیروز دیلمی، قیس بن کلثوم اور اہل یمن کے پاس بھیجا۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور جعفر المستغفری سے ابن اسحاق کی روایت بیان کی ہے۔۔۔۔
مزید