جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن ظبیان: ان کا ذکر خم خام کے ترجمے کے تحت گزر چکا ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا یعیش رضی اللہ عنہ

غلام بنو مغیرہ: وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابو ثابت سے، انہوں نے عکرمہ سے روایت کی، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو مغیرہ کے ایک عجمی غلام کو پڑھاتے تھے۔ وکیع کہتے ہیں، کہ سفیان نے انہیں بتایا، کہ انہوں نے اسے دیکھا، اس کا نام یعیش تھا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عامر بن اسود بن حبیب بن سواءۃ بن عامر بن صعصعہ السوائی حجازی: کنیت ابو حاجر تھی، غزوۂ حنین میں مشرکین کے لشکر میں تھے۔ بعد میں اسلام لائے۔ سعید بن سائب طائفی نے اپنے والد سے، انہوں نے یزید بن عامر السوائی سے روایت کی، کہ جب غزوۂ حنین میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اور کفار نے ان کا تعاقب کیا، تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور ان کے چہروں پر پھینکی۔ فرمایا، خدا تمہاری شکلوں کو مسخ کرے۔ چنانچہ کفار میں کوئی ایسا نہ تھا۔ جس کی آنکھ میں آدھ ریت کا ذرہ نہ پڑا ہو۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عامر بن حدیدہ بن غنم بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری، خزرجی، سلمی، بیعت عقبہ اور معرکۂ بدر اور احد میں موجود تھے۔ ابن یمین نے باسنادہ یونس سے، انہوں نے محمد سے درباۂ شہدائے بدر از بنو سلمہ یزید بن عامر بن حدیدہ بن غنم بن سواد اور اسی اسناد سے دربارہ شہدائے بدر از بنو سواد بن غنم نیز از بنو حدیدہ ابو المنذر یزید بن عامر بن حدیدہ کو بیان کیا ہے، تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عیایہ بن بجیر بن خالد بن جلاس بن مرہ بن زید بن مالک بن جنادہ بن معن الباہلی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا صدقہ پیش کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ تینوں نے ذکر کیا ہے۔v ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ الجبلی: ان سے ان کے بیٹے حمید نے درباۂ فضلِ جریر بن عبد اللہ، جنہوں نے ان کی حدیث ان کے بیٹے سے بیان کی، روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر ۹)۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن جراح جو ابو عبیدہ کے بھائی تھے۔ یزید بن جراح کے ترجمے میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور ابن مندہ پر استدراک کیا ہے کیونکہ ابن مندہ نے ان کے ذکر میں یزید بن جراح برادرِ ابو عبیدہ لکھا ہے۔ اور وہ یہی آدمی ہیں۔ نیز ابن مندہ نے ان کا نسب بھی تحریر کیا ہے اور اگر کوئی نام چھوٹ گیا ہے، جب بھی وہ یہی آدمی ہیں، اور استدراک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن شخیر العامری جرشی: کنیت ابو العلاء تھی۔ ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ہشیم رضی اللہ عنہ نے یونس سے، انہوں نے عبید سے انہوں نے یزید بن عبد اللہ سے روایت کی اور ان کا گمان ہے کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ ان کا کہنا ہے، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندے کی آزمائش کرتا ہے اور اسے نوازتا ہے۔ اگر وہ اس پر راضی اور شاکر ہو، تو اس کے رزق میں برکت دیتا ہے، اور اگر راضی نہ ہو، تو اس کے رزق میں تنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ الکندی: یزید بن خصیفہ کے والد تھے۔ صحابہ میں شمار ہوتے ہیں مگر ثبوت نہیں ملا۔ ان کی حدیث کے راوی یحییٰ بن یزید نوفلی ہیں، جنہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے یزید بن خصیفہ بن یزید بن عبد اللہ الکندی سے، انہوں نے والد سے، انہوں نے دادا سے روایت کی۔ ان کا ذکر ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

والد عبد اللہ بن یزید الخطمی: ان سے یہ حدیث مروی ہے۔ ’’انما الرقوب التی لا یعیش لہا ولد‘‘ لیکن اس میں شبہ ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں مجھے اندیشہ ہے، کہ یہ حدیث بریدہ بن الخصیب اسلمی کی حدیث سے لی گئی ہے۔ عبد اللہ بن یزید الخطمی کو صحبت نصیب ہوئی جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔ابو عمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید