ان کا نسب مذکور نہیں سالم بن قیتبہ نے قزعہ سے انہوں نے عبد الملک بن عبید سے انہوں نے مضر سے، انہوں نے نمیلہ سے سنا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اسی مقام مں ایمان ہوتا ہے اور اسی میں نفاق اور منافق اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سعد بن ابی سرح بن حارث بن حبیب بن جذیمہ بن مالک بن حل بن عامر بن لوئ: ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ احد، خندق، حدیبیہ اور خیبر کے غزوات میں شریک تھے۔ ان کی شہادت غزوۂ موتہ میں واقع ہوئی۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی، کہ وہب بن سعد جعفرِ طیار کے ساتھ موتہ کی جنگ میں شریک تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور سوید بن عمرو کے درمیان مواخات قائم کی تھی۔ دونوں ہی اس جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے ان کا خٰال ہے کہ یہ صاحب پیشتر مذکور آدمی سے مختلف ہیں ایک روایت کے مطابق ابو موسیٰ نے ان کا نسب یوں لکھا ہے نمیلہ بن عبد اللہ بن سحیم بن حزن بن سیار بن عبد اللہ بن کلب بن عوف بن کعب بن یسث، انہوں نے باسنادہ علمہ سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ مقیش بن صبابہ کو نمیلہ بن عبد اللہ نے جو ان کا ہم قوم تھا قتل کیا تھا۔ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقیش کے قتل کا اس لیے حکم دیا تھا کہ اس نے ایک انصاری کو قتل کردیا تھا جس سے اس کا بھائی غلطی سے قتل ہوگیا تھا اور پھر وہ مرتد ہوکر کفارِ قریش کے پاس چلا گیا تھا اس پر مقیش کی بہن نے ذیل کے اشعار کہے: العمری لقد اخزی نمیلۃ رہطہ ۔۔۔
مزید
بن سماع العوفی: ابن عباس کی حدیث میں، اعلام النبوۃ میں ان کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن محصن بن حرثان: ہم ان کا نسب عکاشہ بن محصن اسدی کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں وہ ان کے چچا تھے۔ ان کی کنیت ابو سنان تھی کہتے ہیں یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعتِ رضوان کی شعبی نے بنو اس کے ایک آدمی سے کہا کہ جس شخص نے سب سے پہلے درخت کے نیچے بیعت کی، وہ تمہارے قبیلے کا آدمی تھا۔ وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کس بات پر؟ اس نے عرض کیا جو بات آپ کے دل میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا فتح یا شہادت اس پر ابو سنان نے بیعت کی اس کے بعد جو بھی آتا۔ وہ یہی کہتا ک میں کبھی ابو سنان کی بیعت پر آپ سے بیعت کرتا ہوں ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن قارب الثقفی حجازی: انہوں نے اپنے والد کی معیت میں حج کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے روایت کی کہ وہ اپنے والد کے ساتھ تھے، کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ اے اللہ! تو ان لوگوں پر رحم فرما، جنہوں نے اپنے سر منڈوا دیئے۔ ایک شخص نے گزارش کی، یا رسول اللہ! ان لاگوں کو بھی اپنی دعا میں شامل فرمالیجیے جنہوں نے اپنے بال کٹوائے ہیں چنانچہ تیسری آواز پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی شامل فرمالیا ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اساف بن عدی بن زید بن عمرو بن زید بن حبشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری اوسی حارثی ایک روایت میں اساف بن نہیک آیا ہے ایک اور روایت کے رو سے دونو روایتوں میں اساف کی جگہ لسیاف آیا ہے۔ رافع بن خدیج نے اپنے چچا ظہیر بن رافع دونوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی، سے روایت کی انہوں نے کہا ہے میرے بھتیجے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تمہیں چاہیے کہ اللہ اور رسول کی رضا کی خاطر ایسے امور سے دست بردار ہوجاؤ۔ جنہیں تم اپنے لیے مفید خیال کرتے ہو چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزارعت سے منع فرمایا اس لیے ہم اپنی چیزیں نقصان پر بیچتے تھے بنو سلیم کے ایک آدمی نے جس کا نام اساف بن ایمار تھا ذیل کا شعر کہا۔ لعل ضراراً ان تبید دیار۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن مسلم بن جمادہ بن جذب بن حبیب بن سوأۃ بن عامر بن صعصقہ العامری السوائی ایک روایت میں وہب بن جابر ابو جحیفہ مذکور ہے ان کے نسب کے بارے میں اور روایات بھی ہیں جو کنیتوں کے عنوان کے تحت بیان ہوں گی۔ ان کی کنیت نام سے زیادہ مشہور ہے وہ کوفی تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے توہ وہ ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قابلِ اعتماد کار گزاروں میں شامل تھے اور ان کے منبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وہب الخیر کے نام سے پکارتے تھے۔ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خمس میں اپنے حصے کا نگراں مقرر کیا تھا۔ جنابِ وہب سےان کے بیٹے عون ابو اسحاق سبیعی، اسماعیل بن ابی خالد اور علی بن ارقم نے ابو موسیٰ اصفہانی سے کتابۃً، انہوں نے ابو القاسم غاتم بن ابو نصر محمد بن عبید اللہ الرحی سے جنہیں میرے والد نے پڑھ کر سنایا، اور میں وہاں موجود ت۔۔۔
مزید
والد عثمان بن وہب: بہ قول جعفران کی صحبت کا احتمال ہےان کے بیٹے عثمان سے مروی ہے کہ ایک دن بعد ازنماز صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا فلاں قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے، کوئی نہ اٹھا، تو آپ نے پھر دریافت فرمایا۔ اس پر ایک آدمی اٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تم پہلی دفعہ کیوں نہیں اٹھے تھے، اس نے جواب دیا مجھے خطرہ پیدا ہوگیا تھا مبادا ہمارے بارے میں کوئی تنبیہ نازل ہوئی ہو آپ نے فرمایا نہیں معاملہ یہ ہے کہ کل جو آدمی تمہارے قبیلے کا فوت ہوا تھا۔ چونکہ وہ مقروض تھا اس لیے اسے روک لیا گیا ہے۔ اگر ہوسکے، تو اپنے عزیز کو چھڑانے کی کوشش کرو ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اوس بن خَزَمہ بن علوی بن ابی بن غنم بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی از بنو قواقل: حسبِ قول ابو عمر، وہ غزوۂ احد اور ما بعد کے غزوات میں شریک رہے وہ خزیمہ بن خذمہ کے بھتیجے تھے محمد بن سعد طبری وغیرہ نے ان کا ذکر کیا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین اور ہوازن کی فتح کے بع انہیں اہل مدینہ تک خوش خبری پہنچانے پر مامور فرمایا تھا بعد میں حضرت ابو بکر صدیق نے انہیں اپنے دورِ خلافت میں زیاد بن لبید کے پاس یمن کو روانہ کیا تھا اور پھر زیاد نے کچھ جنگی قیدی اور اشعت بن قیس کو خلیفہ کے پاس مدینے بھیجا تھا ابو نعیم، ابو موسیٰ اور ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید