جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا وہب رضی اللہ عنہ

بن عمرو السدی الغمنی ان کا تعلق بنو غنم بن وودان بن اسد بن خزیمہ سے تھا۔ اور مہاجرین اولین سے تھے۔ ابن مندہ نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ کچھ عرصے کے بعد مہاجرین بہ کثرت آنے لگے بنو غنم بن دوان جو اسلام قبول کرچکے تھے، ان کے مرد اور عورتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت پر ٹوٹ پڑیں ان میں وہب بن عمرو بھی تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے ان کا نام غلط لکھا ہے صحیح ثقف بن عمرو ہے ابن اثیر لکھتے ہیں کہ مغازی ابن اسحاق میں یونس کے اسناد کے علاوہ اور کہیں وہب بن عمرو کا نام میری نظر سے نہیں گزرا۔ ابو نعیم کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔

مزید

سیّدنا وہب رضی اللہ عنہ

بن عمیر القرشی الحجمی: یہ وہب بن عمیر بن وہب الحجمی ہیں ہم ان کے والد کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں ان کے والد کو صفوان بن امیہ بن خلف نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے مدینے روانہ کیا تھا اور وہ مسلمان ہوگئے تھے اور وہب غزوۂ بدر میں کفار کے لشکر میں شامل تھے ہم ان کا واقعہ ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ فتح مکّہ کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب کو صفوان کے پاس بھیجا، کہ اسے امن کی بشارت دیں اور نیز قبولِ اسلام کی دعوت دیں حالانکہ صفوان ڈر کے مارے بھاگ گیا تھا۔ ہم یہ واقعہ صفوان کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں وہب نے شام میں وفات پائی۔ تینوں نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن حارث بن عبدلمطلب بن ہاشم بن عبد مناف قرشی ہاشمی ان کی کنیت ابو الحارث تھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزادا ور بھائیوں میں سب سے بڑے تھے وہ غزوۂ بدر میں جنگی قیدی بنالیے گئے تھے اور حضرت عباس نے فدیہ دے کر انہیں آزاد کرایا تھا اور پھر مسلمان ہوگئے تھے ایک روایت کے مطابق وہ غزوۂ خندق کے موقعہ پر ایمان لائے اور پھر ہجرت کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنے بہت سے تیر بطور فدیہ دے کر رہائی حاصل کی تھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس اور ان کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی یہ دونوں حضرات زمانہ جاہلیت میں بھی ایک دوسرے سے لین دین میں اور میل ملاپ میں بہت قریب تھے۔ جنابِ نوفل، فتح مکہ غزوۂ حنین اور طائف میں شریک رہے اور حنین کی ابتدائی بدحواسی میں وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے اور اس غزوے میں انہوں نے اسلامی لشکر کی۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن طلحہ انصاری ان کا ذکر جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں علاء بن حضرمی کے خط کے گواہوں میں آچکا ہے ابو موسیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن ثعلبہ بن مالک بن عجلان بن زید بن غنم بن سالم: یہ صاحب غزوۂ بدر میں شریک تھے ابن اسحاق، ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے اور نوفل بن ثعلبہ بن عبد اللہ کا نسب ہم ابو عمر کی روایت کے مطابق پہلے بیان کر آئے ہیں۔ واللہ اعلم۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن فردہ اشجعی ابو فردہ نے کوفے میں سکونت اختیار کرلی تھی ان سے ان کے بیٹوں فروہ عبد الرحمٰن اور سحیم نے سورۂ کافروں کی فضیلت کے بارے میں حدیث نقل کی لیکن اس کے اسناد میں گڑبڑ ہے اس لیے حدیث کا ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ عبد الوہاب بن علی الامین نے باسنادہ ابو داؤد بن اشعت سے انہوں نے نفیلی سے انہوں نے زہیر سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے فروہ بن نوفل سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا اے نوفل! تم رات کو بعد از نماز عشاء سورۂ کافروں پڑھ کر سو جایا کرو، کہ یہ تمہاری طرف سے شرک سے برأت متصور ہوگی۔ زید بن ابی انیسہ اشعت بن سوار، اسرائیل اور قطن بن خلیفہ نے ابو اسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے ثوری نے بھی اس کو روایت کیا ہے لیکن انہوں نے راوی کا نام فروہ اشجعی بیان کیا ہے اور ان کے والد کا نام نہیں لیا اور عبد الرحمٰن بن ۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن مساحق بن عبد اللہ بن مخرمہ(جو بنو مالک بن حسل بن عامر بن لوئی سے تھے) قرشی عامری: ابو سعید ان کی کنیت تھی ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ان کی وفات عبد الملک بن مروان کے ابتدائی عہد میں ہوئی جناب نوفل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں موجود تھے اور ابو موسیٰ نے بغیر از اسناد عبد الجبار بن سعد بن سلیمان بن نوفل سے روایت کی ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نوفل رضی اللہ عنہ

بن معاویہ بن عروہ اور ایک روایت میں نوفل بن معاویہ بن عمرو الدیلی مذکور ہے جو بنو الدیل بن ابی بکر بن عبد مناہ بن کنا نہ سے(اور پھر وہ بنو نفاثہ بن عدی بن الدیل کا ایک حصّہ تھا) ابو احمد عسکری نے ان کا نسب بایں انداز بیان کیا ہے: نوفل بن معاویہ بن غروہ بن صخر بن یعمر بن نفاثہ بن عدی بن الدیل۔ جنگ قجار میں معاویہ(نوفل کا والد) بنو الدیل کے لشکر کا سردار تھا ایک شاعر نے اس کے متعلق ذیل کا شعر کہا: فلا وابیہا مانزلنا بعامر ولا عامر ولا النفاثی نوفل ۔۔۔

مزید

سیّدنا نیار رضی اللہ عنہ

بن ظالم بن عبس الانصاری: بنو بخار سے تھے اور غزوۂ احد میں موجود تھے یہ ابو عمر کا قول ہے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے محمد بن سعد بن نیار بن ظالم الاسدی سے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: نیار بن ظالم بن عیس بن حرام بن جندب بن عامر بن عدی بن نجار: جناب نیار ابو الاعور بن ظالم کے بھائی تھے غزوۂ احد میں شریک تھے اور ان کی والدہ ام نیار و دخترِ ایاس بن عامر بن بلی(جو بنو حارثہ کے حلیف تھے) سے تعلق رکھتی تھی اور ان کا بھائی غزوۂ بدر میں شریک تھا تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے انہیں بنو اسد سے منسوب کرکے ان کے نسب کو انصار سے جا ملایا ہے اس میں واضح تضاد ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ ان کا تعلق انصار سے ہے اور ابو عمر کی رائے درست ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نیار رضی اللہ عنہ

بن مسعود بن عبدہ بن مُظَہَّرْ بن قیس بن امیہ بن معاویہ بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف الانصاری وہ اور ان کے والد مسعود دونوں غزوۂ احد میں شریک تھے ابو عمر نے طبری سے مختصراً نقل کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید