جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن ابی فاطمہ ایک روایت میں ابو فطیمہ انصاری مذکور ہے ابو سلمہ اور محمود بن عمرو الانصاری نے نعمان بن ابی فاطمہ سے روایت کی کہ قربانی کے لیے انہوں نے ایک مینڈھا خریدا جس کی بڑی بڑی آنکھیں اور بڑے بڑے سینگ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا یہ مینڈھا اس مینڈھے سے ملتا جلتا ہے جو ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا تھا ابن عضراء نے اسی طرح کا ایک مینڈھا خرید کر حضور کو ہدیۃً پیش کیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح فرمایا ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن قوقل اور ایک روایت میں نعمان بن ثعلبہ ہے اور بقولِ ابو عمر ثعلبہ کو قوقل کہتے تھے بقول موسیٰ بن عقبہ وہ غزوۂ بدر میں موجود تھے ابن کلبی نے ا ن کا نسب بیان کیا ہے نعمان الاعرج بن مالک بن ثعلبہ بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن قوقل اور ان کا نام غنم بن عوف بن عمرو بن عوف تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر از بنو اصرام بن فہر بن غنم النعمان بن مالک بن ثعلبہ جنہیں قوقل کہتے تھے، روایت کی یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے غزوۂ احد میں کہا تھا میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ آج سورج غروب ہونے سے پہلے لنگڑاتا لڑکھڑاتا جنت میں پہنچ جاؤں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(ان کی شہادت کے بعد) سنا تو فرمایا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے ایک خواہش کی جو اس نے پوری کردی ہے میں نے اسے بہشت میں گھومتے دیکھا ہے اور وہ بالکل سیدھا چل رہا تھا۔ ابن ابی حاتم نے اپنے ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن قیس الحضرمی: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور انہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صدیق اکبر سے غار کا قصّہ سنا ان سے ایاد بن لقیط الکوفی نے روایت کی تینوں نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا النعمان رضی اللہ عنہ

بروایتے یہ وہی ذی رعین ہیں جنہیں ملوکِ حمیر نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔ ابو جعفر بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ جب حضور اکرم تبوک میں تشریف لائے تو حارث بن عبدِ کلال نعیم بن عبد کلال نعمان ذی رعین ہمدان اور معافر ملوک حمیر کا خط اور ان کے قبولِ اسلام کی اطلاع لے کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے نیز انہوں نے زرعہ ذایزن بن مالک بن مرہ ہاوی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قبولِ اسلام اور ترک شرک کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نیز وہ کہتے ہیں کہ ابن اسحاق سے بھی ایسا ہی مروی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں صحیح بات یہ ہے کہ نعمان ذی رعین حارث اور نعیما ان ملوک حمیر کے نام ہیں جنہوں نے اپنے قاصد اور مکتوب دربارِ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن مالک بن عامر بن مجدعہ بن جشم بن حارثہ بن حارث انصاری اوسی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعد از بدر تمام غزوات میں شریک رہے اور بقولِ عددی عامر بن مجدعہ سوید بن نعمان کے والد تھے ابو عمر نے سوید بن نعمان کے ترجمے میں عامر کی جگہ عائد کا ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن ابی مالک ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ جعفر نے واقدی سے روایت کی کہ نعمان بن ابی مالک وہ آدمی ہیں جنہوں نے عویمر بن عمرو بن عامر بن عمران بن مخزوم کو قتل کیا تھا۔ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن مرہ: ابن مندہ لکھتے ہیں کہ ابو نعیم نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ تابعی ہیں ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن عبد الحارث بن حبالہ بن عمیر بن غیثن(اس کا نام حارث بن عبدِ عمر و بن عمرو بن لوئی بن ملکان بن اقصی الخزاعی تھا) سب لوگوں نے انہیں خزاعی لکھا ہے اور ان کے سلسلۂ نسب کو بنو ملکان یعنی اخو خزاء اور اخواسلم تک لے گئے ہیں اور چونکہ ملکان کی تعداد کم تھی اس لیے ان میں سے بعض کو نبو خزاعہ سے منسوب کردیتے تھے نافع کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کی۔ حضرت عمر نے انہیں مکے اور طائف کا عامل مقرر کردیا تھا جہاں قریش اور بنو ثقیف کے جلیل القدر سردار مقیم تھے نافع حضرت عمر سے ملنے گئے اور اپنے غلام عبد الرحمٰن بن ابتری کو اپنا جانشین مقرر کر گئے خلیفہ نے اس جانشینی کو نا پسند کیا اور نافع کو معزول کودیا اور خالد بن عاص بن ہشام کو مقرر کردیا جناب نافع کا شمار جلیل القدر فضلا میں ہوتا تھا فتح مکہ کے دن اسلام لائے وہیں سکونت رکھ لی اور ہ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن مقرن: ایک روایت کے رو سے ان کا سلسلۂ نسب حسب ذیل ہے: نعمان بن عمرو بن مقرن بن عائد بن میجا بن ہجیز بن حبشیہ بن کعب بن عبد بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن اوبن طابخہ مزتی اور عثمان کی اولاد مزینہ شمار ہوتی تھی کیونکہ وہ اپنی ماں کی طرف منسوب تھے ان کی کنیت ابو عمرو یا ابو حکیم تھی اور فتح مکّہ کے موقعہ پر بنو مزینہ کا علم ان کے پاس تھا مصعب سے مروی ہے کہ نعمان بن مقرن نے اپنے سات بھائیوں کی معیت میں ہجرت کی تھی۔ ان سے مروی ہے کہ بنو مزینہ کا وفد جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو وہ چار سول سواروں پر مشتمل تھا اولاً انہوں نے بصرے میں سکونت اختیار کی پھر کوفے میں منتقل ہوگئے اور بعد میں مدینے آگئے اور وہاں قادسیہ کی فتح ان کے طفیل حاصل ہوئی۔ جب نہاوند پر حملہ ہونے کے لیے سوار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے تو خلیفہ ن۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے خالد بن ابی امیہ اور ابو ہاشم رومانی نے ان سے روایت کی۔ عقبہ بن خالد نے صباح سے انہوں نے خالد بن ابی امیہ سے انہوں نے جناب نافع سے روایت کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا متکبر مسکین، بوڑھا زانی اور اپنے اعمالِ صالحہ کو دربارِ خداوندی میں بطور احسان پیش کرنے والے کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید