جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا منقع رضی اللہ عنہ

بن مالک بن اُمیّہ بن عبد العزی بن ملاں بن عمل بن کعب بن حارث بن بہثہ بن سلیم السلمی: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فوت پائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کا علم ہوا تو ان کے لیے دُعا فرمائی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا منیب رضی اللہ عنہ

ازدی ابو مدراک: ان کی حدیث کو منیب بن مدرک بن منیب نے اپنے والد سے اس نے دادا سے روایت کہا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانۂ جاہلیت میں تبلیغ دین کرتے دیکھا۔ جب آپ فرماتے کہ لا الہٖ اللہ کہو گے، تو نجات پا جاؤ گے۔ تو بعض لوگ ان کے منہ پر تھوکتے، بعض ان پر مٹی ڈالتے اور بعض گالیاں بکتے۔ جب دوپہر ہو جاتی، تو ایک لڑکی پانی کا ایک برتن لاتی، جس سے آپ کا ہاتھ منہ دھلاتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صاحبزادی سے مخاطب ہوکر فرماتے ’’میری بیٹی! تم اپنے باپ پر دشمنوں کے غلبے اور ذلت سے ڈرنا مت۔‘‘ اِن سے پوچھا کہ وہ صاحبزادی کون تھیں انہوں نے کہا، زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے یہ حدیث مدرک بن حارث ازدی کے ترجمے میں بھی بیان کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا منیب رضی اللہ عنہ

بن عبد السلمی: خطیب ابو بکر اور ابو نصرما کو لانے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ان سے عبد اللہ بن عامر الہانی نے روایت کی ہے۔ ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ ابو امامہ باہلی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے صبح کی نماز با جماعت پڑھی اور وہاں بیٹھا نماز اشراق تک تسبیح پڑھتا رہا، اسے حج اور عمرے کا پورا ثواب مِلے گا۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مہاجر رضی اللہ عنہ

بن ابی اُمیّہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قرشی مخزومی: یہ صاحب ام المومنین ام سلمہ کے بھائی تھے ان کا نام ولید تھا۔ چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نام اچھا نہ لگا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مہاجر کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطورِ سفیر حارث بن عبد کلال حمیری کے پاس یمن میں بھیجا تھا۔ مہاجر غزوۂ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ دے سکے تھے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض تھے، ام المومنین ام سلمہ نے ان کی سفارش کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر فرمایا، اور انہیں کندہ اور صدف سے وصولِ زکات کا محصل مقرر فرمایا۔ اس اثنا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا مگر مہاجر اپنے کام پر جمے رہے۔ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہُوئے، تو انہیں حکم مِلا، کہ وہ مرتدین یمن کے خلاف جہاد کریں۔ ادھر سے فراغت ملی تو حضرت ابو بکر۔۔۔

مزید

سیّدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ

بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرۃ قرشی الزہری: ان کی والدہ رفیقہ بنت ابی صیفی بن ہاشم بن مناف تھی: ان کی کنیت ابو صفوان یا ابو المسور یا ابو الاسود؟؟۔ اول الذّکر کنیت کو زیادہ شہرت حاصل تھی۔ وہ مسور بن مخرمہ کے والد تھے اور سعد بن ابی وقاص کے عمزاد۔ یہ ان لوگوں سے تھے، جو بعد از فتح مکّہ اسلام لائے تھےا ور مولفتہ القلوب میں سے تھے، لیکن بعد میں اسلام کی بہتر خدمت کی۔ عمر رسیدہ تھے اور ایام الناس اور بالخصوص قریش کے اہم واقعات انہیں ازبر تھے اور اسی طرح علم الانساب کے ماہر تھے۔ غزوۂ حنین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پچاس اونٹ دیے تھے۔ یہ صاحب ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے حضرت عمر کے دورِ خلافت میں حدود حرم کو علیحدہ کرنے کے نشان لگائے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ازہر بن عوف سعید بن یرب۔۔۔

مزید

سیّدنا مہاجر رضی اللہ عنہ

بن خالد بن ولید: یہ اوّل الذّکر کے عمزاد ہیں، قریشی و مخزومی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ اور ان کے بھائی عبد الرحمٰن چھوٹے سے لڑکے تھے۔ دونوں بھائیوں کے مزاج میں اختلاف تھا۔ عبد الرحمان صفین میں امیر معاویہ کے لشکر میں شامل تھے۔ جب کہ مہاجر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرف دار تھے۔ اسی طرح جنگِ جمل میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ اس جنگ میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔ بعد میں جنگِ صفین میں مارے گئے تھے۔ جناب مہاجر کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام خالد تھا۔ جب ابنِ اثَال الطبیب نے عبد الرحمٰن بن خالد کو زہر دے کر مار دیا۔ تو خالد نے اپنے چچا کا خون بہا نہ طلب کیا، لیکن عمرو بن زبیر نے اسے عار دلائی چنانچہ خالد اور ان کا غلام دمشق چلے گئے ایک رات انہوں نے ابنِ اثال کا تعاقب کیا۔ وہ اس رات امیر معاویہ کے پاس بیٹھا انہیں کہا نیاں سُنا رہا تھا۔ جب یہ نشست ختم ہوئی اور۔۔۔

مزید

سیّدنا مہاجر رضی اللہ عنہ

بن زیاد الحارثی: یہ ربیع بن زیاد کے بھائی تھے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کا قول ہے کہ انہیں اس کا علم نہیں۔ آیا انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور اسی طرح ان کی صحبت کے بارے میں شبہ ہے۔ ۱۷ ہجری میں وہ بہ مقام مناذر قتل ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ تستر کے مقام پر قتل ہوئے۔ ان کے بھائی نے ابو موسیٰ سے کہا کہ مہاجر روزے کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ آپ انہیں حکم دیں کہ وہ افطار کر کے لڑیں، انہوں نے تعمیل ارشاد کی اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مہاجر رضی اللہ عنہ

آپ ام المومنین ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کا قول ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے۔ ان سے بکیر نے جو عمرہ کے مولی ہیں۔ جو یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر مخزومی کے دادا تھے۔ روایت کی۔ مہاجر کا شمار مصریوں میں ہوتا تھا۔ بکیر سے مروی ہے کہ انہوں نے مہاجر کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانچ یا دس برس گزارے، اس عرصے میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ خواہ وہ کام جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ مَیں نے کیا ہو، یا نہ کیا ہو، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں مَیں نہیں کہہ سکتا۔ آیا یہ وہی آدمی ہیں، جنہوں نے یہ بتایا تھا کہ حضور اکرم کے نعلین مبارک میں دوتسمے تھے۔۔۔۔

مزید

سیدنا محرز بن عامر رضی اللہ عنہ

بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار خزرجی و بخاری انصاری: غزوۂ بدر میں موجود تھے، لیکن جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے لیے کوچ فرمانا تھا۔ اس صبح کو فوت ہوگئے۔ حضور نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا، جو فی الحقیقت شریکِ جنگ ہوئے تھے۔ یہ لاولد تھے۔ ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسی نے ان کا نام ح اور ز سے لکھا ہے۔ دارِ قطنی کا خیال بھی یہی ہے۔ ابن ماکو لا نے ’’محرر‘‘ لکھا ہے۔ اور ان کو بنو عمرو بن عوف کے خاندان سے شمار کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ ابو جعفر نے یونس سے، اس نے ابنِ اسحاق سے، ان لوگوں کے نام کے سلسلے میں جو غزوہ بدر میں موجود تھے انصار سے بنو عدی بن نجار نے محرز بن عامر بن مالک کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سلمہ نے ابن اسحاق اور عبد الملک بن ہشام سے، اس نے بکائی سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مہاجر رضی اللہ عنہ

بن قنقذ بن عمیر بن جدعان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی قرشی تیمی: عبد اللہ بن جدعان ان کے والد کے چچا تھے اور وہ دادا ہیں محمد بن یزید بن مہاجر کے۔ ایک روایت میں ہے، کہ مہاجر کا نام عمرو تھا اور قنقذ کا نام خلف تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاجر اور قنقذ دونوں لقب ہیں اور اُنہیں مہاجر اس لیے کہتے تھے کہ جب اُنہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو مشرکین نے اُنہیں پکڑلیا اور خوب مرمّت کی۔ اس اثناء میں انہیں موقعہ مل گیا اور بھاگ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فی الحقیقت تم ہی مہاجر ہو۔ ایک روایت کے مطابق مہاجر فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے۔ بصرے میں سکونت اختیار کی اور وہیں فوت ہوئے۔ ابو ساسان حضین نے ان سے روایت کی۔ حسن نے مہاجر سے جو حدیث روایت کی ہے، وہ مرسل ہے۔ کیونکہ ان دونوں میں حضین حائل ہے۔ یعیش بن صدقہ بن علی الفقیہ۔۔۔

مزید