صحابی ہیں، جن سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاپوش مبارک میں دو تسمے تھے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
یہ غیر منسوب ہیں۔ ابراہیم بن محمد بن ثاقب جو بنو عبد الدار کا بھائی ہے۔ اس نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی ہے کہ ایک رات کو محرز میرے پاس آیا۔ ہم نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔ محرز پوچھنے لگا۔ کیا اس وقت کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے۔ مَیں نے پوچھا تمہیں اس وقت کسی اور کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔ اس نے کہا۔ کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زندگی بھر معمول رہا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اُجیل الہمدانی آپ جناب ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے جعفر نے ان کا ذکر کیا ہے کہ وہ ہمدان کے بیت شرف میں مقیم تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے عبد اللہ بن صالح نے لیث بن سعد سے بقول بردعی روایت کی کہ جناب ناعم صحابی رسول تھے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے بقول امیر ان کی کنیت ابو نصر تھی۔ جناب ناعم بن اُجیل ہمدانی ابو عبد اللہ ام المومنین ام سلمہ کے مولی تھے جنہیں زمانہ جاہلیت میں غلام بنالیا گیا تھا بعد میں جب وہ ام المومنین کے پاس آئے تو آزاد کردیئے گئے ان کا شمار مصر کے فقیہوں میں ہوتا تھا انہوں نے حضرت عثمان علی اور ابن عباس سے روایت کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں حضور کی صحبت نصیب ہوئی ابو احمد عسکری کہتے ہیں کہ ناعم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی تھے لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں۔ [۱۔ مناسب لفظ مریع ہے۔ (مترجم)] ابو احمد عسکری نے باستادہ کعب بن علقمہ س۔۔۔
مزید
بن خلیفہ: ایک روایت میں خویلد ہے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی یہ حجازی ہیں۔ ابن ابی ذہب نے عبد اللہ بن یزید ہلال سے روایت کی۔ کہ ابو سفیان اور معقل کے درمیان مخاصمت تھی۔ جنگ حنین میں دونوں میں ایک آدمی کے ہتھیاروں کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہُوا تو آپ نے معقل سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ معقل! قریش کی مخاصمت سے بچ کر رہو تو بہتر ہوگا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا نام یزید بن قیس بن ربیعہ بن عبد اللہ بن یعمر الشداخ بن عوف بن کعب بن عامر بن یسث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانۃ الکنانی اللیثی ہے۔ ان کے بھائی کا نام صعب تھا۔ ہمیں عبد اللہ نے یونس سے اس نے ابن اسحاق سے، اس نے یزید بن عبد اللہ بن قسیط سے اس نے قعقاع بن عبد اللہ بن ابی حد رد سے اس نے اپنے باپ سے بیان کیا، کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چشمۂ اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ میرے ساتھ ابو قتادہ اور محکم بن جثامہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ جب ہم وادی میں داخل ہوئے تو ہمارے پاس سے شتر سوار عامر بن اخبط الاشجعی گزرا اور ہمیں مسلمانوں کی طرح السلام علیکم کہا۔ ہم تو رُک گئے، لیکن محلم بن جثامہ نے اسے قتل کر کے اس کے اونٹ اور سازو سامان پر قبضہ کرلیا۔ کیونکہ اِن میں پہلے سے عدوات چلی آرہی تھی۔ واپسی پر ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا۔ تو قرآن ۔۔۔
مزید
بن اوس: تمیم الداری کے بھائی تھے ان کا ذکر اس حدیث میں جو بعض متاخرین نے بیان کی ہے پایا جاتا ہے جناب نعیم اپنے بھائی تمیم اور عمزاد ابو ہند کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جو جاگیر انہوں نے مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی ایک روایت کے مطابق ان کے بھائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور ان کا شمار صحابہ میں نہیں ہے تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزاد تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے۔ مگر انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ یاد نہیں رہا تھا۔ ان کی والدہ ام الفضل بنتِ حارث تھیں۔ یہ صاحب حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں افریقہ میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی فوج کے کماندار عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ ۔۔۔
مزید
بن بدر: السدی نے ان کا ذکر ابو مالک اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس سے بہ سلسلہ نزول آیت: ولا تر فعوا اصوا تکم فوق صوت النبی: بیان کیا ہے کہ بنو تمیم کا ستر اسی آدمیوں کا وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان میں اقرع بن حابس، زبرقان، عطارد، قیس بن عاصم، نعیم بن بدر اور عمرو بن اہشم بھی تھے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ کتاب میں اسی طرح مذکور تھا لیکن ان کا خیال ہے، کہ ان صاحب کا نام عینیہ بن بدر تھا ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ابو موسیٰ کا خیال غلط ہے کیونکہ عینیہ بن بدر بنو فزارہ سے تھے۔ ۔۔۔
مزید
بن جناب التجیبی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن ان سے کوئی روایت مذکور نہیں ابن ماکولا نے ان کا ذکر بروایت حضرمی کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید