پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

بن قیس بن عبادہ بن وہیم بن عطیہ بن زید بن قیس بن عامر بن مالک بن اوس انصاری: ان کے نسب میں اختلاف ہے عبد الوہاب بن ہبّہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے علی بن ثابت سے انہوں نے عبد الرحمان بن نعمان بن ہوذہ انصاری سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت خوشبو دار سُرمہ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ یہ روایت صالح بن ازین نے علی بن ثابت سے انہوں نے عبد الرحمان بن معبد بن ہوذہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے بیان کی ایک روایت میں عبد الرحمان بن نضر بن ہوذہ آیا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

ان کا نسب مذکور نہیں، انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی مجالد نے شعبی سے روایت کی کہ معاویہ کے پاس ایک آدمی جس کا نام ہوذہ تھا آیا، معاویہ نے دریافت کیا اے ہوذہ کیا تم غزوۂ بدر میں شامل تھے اس نے جواب دیا۔ نہ نقصان نہ فائدہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے ابو نعیم کہتے ہیں کہ بقول بعض متاخرین انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہ ہوسکی کیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن الحارث: حماد بن زید نے ایوب سے اُس نے ابوقلابہ سے اس نے مالک بن الحارث سے روایت کی کہ ہم چھ آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں ۲۰ دین قیام کیا، آپ بڑے رحم دل تھے، فرمایا جب تم اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاؤ تو اپنے لوگوں کو پڑھاؤ اور انھیں ادائے نماز کا مقررہ اوقات پر حکم دو، اس صحابی کے والد کا نام الحویرث ہے چنانچہ ہم اسے بعد میں بیان کریں گے، لیکن ابوموسیٰ نے اس کی تخریج اسی مقام پر کی ہے۔ ان کا صحیح نام الحویرث ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن حارثہ: ابوموسیٰ انھیں اسماء بن حارثہ کا بھائی بتاتا ہےا ور ان کا تذکرہ، اسماء کے تذکرے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن عباد بن قشیر (تینوں نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے ابن کلبی نے معبد بن عبادہ بن فلاں (ابن کلبی کو اس کا نام معلوم نہیں ہوسکا) ابن فدم بن سالم بن مالک بن سالم الحبلی بن غنم بن عوف بن خزرج: ابو حمیضہ کُنیت تھی۔ ابو جعفر بن سمین نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بدر انصار کے بنو جزء بن عدی بن مالک اور ابو حمیضہ معبد بن عباد بن قشیر سے روایت کی ہے۔ ابو عمر اس لفظ کو خَمِیْصَہ اور ابن اسحاق حُمَیضہ پڑھتے ہیں۔ امیر نے ان کا سلسلۂ نسب یوں لکھا ہے: ابو حمیضہ معبد بن عباد بن قشیر بن فدم بن سالم بن غنم انصاری۔ ابن اسحاق نے ابراہیم بن سعد کی روایت سے لکھا ہے کہ معبد بن عباد غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ اسی طرح یحییٰ بن سعید اموی نے ابنِ اسحاق سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ابن قداح نے ان کی کنیت تو ابو حمیضہ ہی لکھی ہے، لیکن سلسلۂ نسب میں اختلاف کیا ہے اور معبد بن عمارہ لکھا ہے۔ لی۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ خیر الدین دھلوی قدس سرہٗ

حضرت مولانا شاہ خیر الدین مولانا محمد ہادی کے فرزند اجمند تھے، ۱۸۳۱؁ھ میں دہلی میں ولادت ہوئی،والدین کا بچپن میں انتقال ہوگیا،اس لیے نانا کی پرورش میں بڑے ہوکر والد کے استاذ مولانا مفتی صدر الدین،مولانا فضل امام خیر آبادی سے علوم کی تکمیل کی،حدیث حضرت شاہ یعقوب سے پڑھی، ۱۸۴۹؁ھ میں درسیات سے فراغت پائی،بعد نماز جمعہ دستر بندی کا جلسہ ہوا،مولانا مفتی صدر الدین نے پگڑی باندھی اور شاہ عبد الغنی دھلوی نے مسند درس پر بٹھایا،اور آپ نے طلبہ کی ایک جماعت کو جماعت علماء کی موجودگی میں ہدایہ اور بکاری کا درس دیا۔س ۱۸۵۱؁ھ میں اپنے نانا کے ہمراہ ہجرت کر کے مکہ معظمہ جا بسے تھے، ۱۸۶۳؁ھ میں شیخ محمد ظاہر الکردی المدنی کی بھانجی کے ساتھ عقد کیا،اور محلہ قدوہ میں زمین لے کر مکان تعمیر کیا اور مقیم ہوگئے۔حرم پاک میں آپ کا وعظ ہوا کرتا تھا،آپ سے پہلے یہاں پر وعظ کا کسی ہندوستانی عا۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب القرشی العدوی: یہ اوران کے بھائی مطیع ان ستّر آدمیوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے بنوعدی میں سے ہجرت کی تھی۔ ان کی ماں عجماء عامر بن فضل بن عفیف بن کلیب بن حبشیہ بن سلول کی بیٹی تھی۔ دونوں بھائیوں کو ابن العجماء کہتے تھے۔ بیعۃ رضوان میں موجود تھے اور جنگ مؤتہ میں شریک ہُوئے تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن مندہ نے ان کے نسب کے بارے میں دوسروں سے اختلاف کیا ہے: مسعود بن اسود بن عبد الاسد بن بلال بن عمر۔ مگر یہ نسب بنو مخزوم کا ہے اس لیے یہ غلط ہے۔ اسی ترجمے میں ابن مندہ نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ بنو عدی بن کعب سے، مسعود بن اسود جنگ مؤتہ میں موجود تھے۔ ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مگر آخر الذکر روایت درست ہے۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن ا۔۔۔

مزید

شیخ عبدالخالق لاہوری قدس سرہ

  آپ شیخ جان اللہ لاہوری کے خلیفہ تھے فقر و تجرید میں بلند مقامات کے مالک تھے وجد و سماع میں بڑا اضطراب پایا تھا جس پر نگاہ ڈالتے بے خود کر دیتے آپ کا لنگر محتاجوں اور مساکین پر ہر وقت کھلا رہتا تھا آپ کی خدمت میں بے پناہ لوگ آتے اور راہ ہدایت پاتے تھے آپ ۱۲؍ رجب المرجب ۱۰۵۹ھ میں فوت ہوئے تھے آپ کی خانقاہ میدان زین خان میں ہے۔ چو عبد خالق ز دار فنا مکان کرد در دار خلد بریں وصالش بگو فیض حقانی ست وگر عبد خالق امام یقین ۱۰۵۹ھ ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہانی رضی اللہ عنہ

بن جزء بن نعمان بن قیس المرادی نعمان عطبقی کے بھائی تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے فتح مصر میں موجود تھے بقول ابو سعید بن یونس ان سے ایک روایت بھی مروی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید