اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

پسنديدہ شخصيات

مولانا فخر الدین زرادی رحمتہ اللہ علیہ

عالم ربانی عاشق سبحانی مولانا فخر الملۃ والدین زرّادی قدس اللہ سرہ العزیز کثرتِ علم لطافتِ طبع شدت مجاہدہ ذوق مشاہدہ کے ساتھ مشہور اور انتہا درجہ کی ترک و تجرید اور کثرتِ گریہ میں اعلیٰ درجہ کے عزیزوں میں معروف تھے۔ آپ سلطان المشائخ کے نہایت اولولغرم اور ممتاز خلیفوں کی فہرست میں مندرج تھے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔ یہ بزرگوار عشق کے مجسم تصویر اور محبت الٰہی کے پورے فوٹو تھے۔ جو شخص آپ کی نصیبہ در پیشانی کو  دیکھتا یقیناً معلوم کرلیتا کہ یہ بزرگ و اصلان درگاہ حق تعالیٰ میں سے ہیں۔   مولانا فخر الدین زرادی کے جناب سلطان المشائخ نظام الحق والدّین کی خدمت میں ارادت لانے کا بیان شیخ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ سے سنا گیا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس زمانہ میں میں شہر میں تعلیم پاتا تھا۔ مولانا فخر الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہدایہ پڑھتے تھے اور ساری مجلس میں ان دونوں شاگردوں سے ۔۔۔

مزید

مولانا علاؤ الدین نیلی رحمۃ اللہ علیہ

ذات پسندیدہ تمام عزیزوں اور یاروں میں جیسے نور دیدہ عالم علوم سبحانی حافظ کلام ربانی بادشاہ عالم باز، علماء میں تقریر خوب کے ساتھ ممتاز مولانا علاؤ الدین نیلی رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ کے معزز خلیفہ تھے۔ آپ ایسے مقرر و فصیح تھے کہ بڑے بڑے  زبر دست علماء آپ  کی تقریر کے شیدائی تھے اور جب آپ کلام کرتے تھے تو  تقریر کا جادو تمام حاضرین کو خود بخود اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ آپ اعلیٰ درجہ کے یاروں میں اعلیٰ سخن اور علم سلوک میں سب سے زیادہ ممتاز و نامور شمار کیے جاتے تھے اور کشاف و مفتاح کے غوامض بیان کرنے میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔ مولانا فرید الدین شافعی جو اودھ کے شیخ الاسلام تھے اور مروجہ علوم میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے ان کی مجلس میں آپ کشاف کی قرأت کرتے تھے اور مولانا شمس الدین یحییٰ اور علماء اودھ سامع  تھے۔  کاتب حروف نے ان بزرگ کو دیکھا ہے ظاہر میں علماء۔۔۔

مزید

مولانا برہان الدین رحمتہ اللہ علیہ

علم و عشق جہانِ صدق زہدو ورع تقوی و طہارت میں معروف، کثرت گریہ  کے ساتھ اعلیٰ یاروں میں موصوف و مشہور مولانا برہان الملۃ والدین غریب رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ایک عزیز کہتا ہے۔ غریب ست این بحب حق بدنیا حبیب اللہ فی الدنیا غریب (یہ محبّ حق دنیا میں غریب ہے اور حبیب دنیا میں غریب ہوا کرتا ہے۔)   محبت و اعتقاد جو مولانا برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ سے رکھتے تھے کاتب حروف عرض کرتا ہے کہ جو اعتقاد و محبت مولانا برہان الدین کو سلطان المشائخ سے تھا۔ عجب اعتقاد تھا کہ مرتے دم تک اپنی پشت مبارک غیاث پور کی طرف کبھی نہیں کی۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو بڑے بڑے عزیزوں میں سے کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ آپ اعتقاد و محبت کی فہرست میں تمام یاروں سے ممتاز اور سب کے مقتدا مانے جاتے تھے اور بہت سے اعلیٰ درجہ کے یاروں سے ارادت میں سابق تھے۔ محبت و عشق کے گھائلوں اور زخمیوں کے لیے زود اثر مرہم تھ۔۔۔

مزید

مولانا وجیہہ الدین یوسف رحمتہ اللہ علیہ

صورتِ صفا، سیرت وفا، سابقین کی شمع، صادقوں کی صبح صاحب یقین، مقتدائے دین، مولانا وجیہہ الملۃ والدین یوسف کلا کہری عرف چندیری سلطان المشائخ کے سابقین خلفاء میں ایک نہایت بلند مرتبہ خلیفہ اور اپنے زمانہ کے عابد و زاہد اور کمال درجہ عاشق تھے۔ آپ میں درد و ذوق بہت تھا اور سلطان المشائخ کی خدمت میں بیحد اعتقاد و محبت رکھتے تھے اور ایک پیر عزیز تھے۔ مکارم اخلاق میں بے نظیر ایک مقتدر بادشاہ تھے سلوک و لایت میں عدیم المثال۔ آپ کے مناقب و کرامات اس کثرت سے ہیں کہ قلم انہیں ضبط تحریر میں لانے سے محض عاجز و قاصر ہے۔ مولانا برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ مولانا یوسف ہی کے ذریعہ سے سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے ہیں جس طرح مولانا یوسف مولانا عمر کلا  کہری کے وسیلہ سے خدمت اقدس میں پہنچے۔ کاتب حروف کرتا ہے کہ چونکہ مولانا یوسف ارادت و اجازت کی رو سے تمام اعلی درجہ کے یاروں میں سابق و مقدم ہیں۔ اس۔۔۔

مزید

مولانا شہاب الدین رحمتہ اللہ علیہ

کان ذوق مایۂ شوق زاہد با کمال عابد با جمال مولانا شہاب الملۃ والدین حضرت سلطان المشائخ کے امام ہیں۔ یہ بزرگوار بڑے پایہ کے شخص تھے اس سے زیادہ اور کون سی کرامت و عظمت ہوسکتی ہے کہ سلطان المشائخ کی امامت کے شرف سے مشرف ہوئے اور دن رات میں پانچ  وقت ایسے جلیل  القدر  بادشاہ کی سعادت بخش نظر کے منظور و ملحوظ ہوتے تھے جس کی نظر جان بخش کے محتاج تمام بادشاہانِ جہان تھے۔ جب مولانا شہاب الدین علیہ الرحمۃ سلطان المشائخ کی دولتِ ارادت سے مشرف ہوئے تو  حضور کا فرمان جاری ہوا کہ خواجہ نوح کو تعلیم و تربیت دینا شروع کریں (خواجہ  نوح کا ذکر سلطان المشائخ کے اقربا میں مذکور ہے) ایک چھوٹا سا حجرہ جماعت خانہ میں تھا آپ کے حوالہ  کیا گیا اور آپ جناب سلطان المشائخ کے یاروں اور خدمت گاروں میں پرورش پانے لگے۔ برسوں سے آپ کے دل میں یہ آرزو تھی کہ اگر کسی طرح ایک دفعہ سلطان المشائخ۔۔۔

مزید

خواجہ ابو بکر مندہ رحمتہ اللہ علیہ

پیشوائے اصحاب طریقت مقدم ارباب حقیقت خواجہ ابو بکر مندہ رحمۃ اللہ علیہ علم و زہد اور ورع و تقوی میں آراستہ اور سلف صالحین کی سیرت و صورت سے پیراستہ تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ خواجہ ابوبکر  مندہ سلطان المشائخ کے مصاحب قدیم تھے اور دونوں حضرات باہم ایک دوسرے کی صحبت میں بہت  رہے ہیں۔ ابھی سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم فریدالحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کی شرف خلافت سے ممتاز و  مشرف نہ ہوئے تھے کہ خواجہ ابوبکر مندہ نے آپ سے عرض کیا تھا کہ جب آپ شیخ شیوخ العالم شیخ کبیر کی سعادت خلافت سے مشرف ہوں گے میں آپ کی خدمت میں ارادت لاؤں گا اور حضور سے بیعت کروں گا چنانچہ جس وقت سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم کبیر کی دولت خلافت اور دوسری سعادتوں سے مشرف ہوئے اور شہر میں تشریف لائے تو ہر ایک شخص نے  چند روز کے بعد آپ سے بیعت کی التما۔۔۔

مزید

مولانا فخر الدین رحمتہ اللہ علیہ

مولانا فخرالدین مروزی افضل زہاد زینت عباد مولانا فخر الملہ والدین جمال ورع اور کمال تقوی سے آراستہ تھے اور قطع نظر اس کے کلام ربانی کے حافظ تھے آپ سلطان المشائخ کے مصاحبان قدیم اور مریدان سابق میں شمار کیے جاتے تھے آخر عمر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں زندگی بسر کی اور غیاث پور تو طن اختیار کیا باوجود مبالغہ تقویٰ اور انتہا درجہ کی طہارت و تزکیہ کے ترک و تجرید میں بہت کوشش کی۔ آپ ہمیشہ کلام مجید کے لکھنے میں مصروف رہتے اور اختلاف خلق سے الگ زندگی بسر کرتے تھے عظمت و کرامت میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے اور مردانِ غیب سے ملاقات حاصل ت ھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کرنے لگے کہ ایک دن مجھ پر پیاس کا غلبہ ہوا اور میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا جس سے پانی مانگوں۔ دفعۃً پانی کا بھرا ہوا ایک کوزہ غیب سے پیدا ہوا۔ میں نے اس کوزہ کو فوراً توڑ ڈالا سارا۔۔۔

مزید

مولانا فصیح الدین رحمتہ اللہ علیہ

مولانا فصیح الدین عالم علوم دینی صاحب اسرار یقینی کمال علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے آراستہ تھے آپ اکثر یاران اعلی سے ارادت و بیعت میں سابق و اول تھے اور سلطان المشائخ کی علمی مجلس میں اکثر سوالات علمی اور عالم حقیقت کے رموزات کا استکشاف کیا کرتے تھے اور  شافی جوابوں کے ساتھ مشرف ہوا کرتے تھے متعلمی کے زمانہ میں مولانا فصیح الدین اور مولانا قاضی محی الدین کا شانی دونوں ایک دوسرے کے بہت ساتھ رہے ہیں اور مولانا شمس الدین قوشچہ کی مجلس میں اعلیٰ طبقہ کے طلبا میں علم اصول فقہ کی تحقیق میں شاغل و مصروف رہ کر علماء کے جرگہ میں وفور علم اور ذکائے طبع میں مشہور و معروف تھے۔ جب فضل ربانی اور جذب رحمانی نے مولانا فصیح الدین کے دل میں ایک فوری جوش پیدا کیا تو آپ نے راہ حقیقت کو طے کرنا شروع کیا اور اس راہ میں نہایت کوشش کے ساتھ گام زن ہوئے اور علم کو عمل کے ساتھ مقرون کرنے کی خواہش دل میں پیدا ہو۔۔۔

مزید

امیر خرور رحمتہ اللہ علیہ

امیر خسرو سلطان الشعرا برہان الفضلا رحمۃ اللہ علیہ فضیلت و بزرگی میں متعقد میں و متاخرین سے سبقت لے گئے تھے اور باطن صاف رکھتے تھے آپ کی صورت و سیرت میں اہل تصوف کا طریقہ عیاں تھا اور اگرچہ بظاہر بادشاہوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن حقیقت میں ان لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے جو تصوف کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے۔ مراد  اھل طریقت لباس ظاھر نیست کمر بخدمت  سلطان بہ بند و صوفی باش یعنی اہل طریقت سے یہی مراد  نہیں ہے کہ ظاہری لباس میں ان کی مشابہت کرے بلکہ حقیقت میں صوفی رہ گو بادشاہ کی خدمت میں کمر بستہ رہتا ہو۔ کاتب حروف نے اپنے  والد بزرگوار  کو فرماتے سنا ہے کہ جس زمانہ میں امیر خسرو پیدا ہوئے ہیں ان کے والد  امیر لاچین کے پڑوس میں ایک صاحب نعمت  دیوانے کے پاس لے گئے دیوانہ نے امیر خسرو کو دیکھتے ہی فرمایا کہ امیر لا چین جس شخص کو تم میرے پاس لائے ۔۔۔

مزید

مولانا جلال الدین رحمتہ اللہ علیہ

صحراے تصوف کے شیر  تکلف و بناوٹ سے عاری مولانا جلال الملۃ والدین اودھی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو  زہد و ورع اور  ترک و تجرید کے ساتھ اول آخر  تک موصوف رہے آپ نے  تمام دنیاوی تعلقات دفعۃً ترک کر دئیے اور دنیا کے غوغا سے عاجز آکر گوشہ نشینی اختیار کی اور  خدا کی عبادت سلطان المشائخ کی محبت میں مشغول ہوئے آپ اودھ کے اکثر یاروں سے ارادت و بیعت میں سابق تھے اور سب کے نزدیک معظم و مکرم سمجھے جاتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اودھ  کے تمام یاروں نے اتفاق کیا کہ سلطان المشائخ  سے علمی تبحر  حاصل کرنے کی اجازت لینی چاہیے اگرچہ ان بزرگوں میں ایک ایک بزرگ عالم متبحر اور فاضل عصر تھا لیکن سلطان المشائخ  کے حکم سے یاد حق میں مشغول تھا مگر  چونکہ ایک عمر دراز علم کے شغل میں مصروف کی تھی اس لیے انہیں یہ ہوس دامن گیر ہوئی  کہ اس کام کے ساتھ علمی مناظروں۔۔۔

مزید