ایک عمر رسیدہ عزیز تھے جو علم کامل اور زہد وافر اور ورع رکھتے تھے اور جن کی تعظیم و تکریم میں یاران اعلی انتہا درجہ کی کوشش کرتے تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو شیخ نصیر الدین محمود کی مجلس میں دیکھا ہے کہ نہایت مصفا اور تقریر دلکشا رکھتے تھے رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
لطافت طبع اور فضائل خاص اور اعتقاد خوب کے ساتھ موصوف و آراستہ تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃً۔۔۔
مزید
علم وافی اور فضل کامل رکھتے اور زہد و ورع میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔ عشق مغرط اور رقص و بکا ذوق تمام کے ساتھ موصوف تھے۔۔۔۔
مزید
کی روش اور چال چلن بالکل سلف کی روش جیسی تھی ان بزرگ کے حق میں سلطان المشائخ نے فرمایا کہ وہ نیک مرد اور سعادت اندوز ہے۔ آپ نے مولانا شمس الدین یحییٰ کی خدمت میں اکشاف کی قراءت کی تھی اور انتہا درجہ کی مشغولی اور کمال مرتبہ کی ترک تجرید میں مشغول تھے کبھی کوئی وقت آپ پر ایسا نہیں گزرا کہ اس میں آپ کے پاس کوئی غلام اور ہاتھ بٹانے والا آدمی ہو اور آپ کی خدمت کرے لیکن آخر وقت میں ایک لونڈی آپ کو دستیاب ہوگئی جس سے دو اولادیں پیدا ہوئیں اگرچہ یہ لونڈی اپنے آقا کے گھر کا تمام کام کاج کرتی تھی لیکن مولانا قوم الدین اپنے حصہ کا آٹا اپنے ہاتھ سے پیستے۔ غرضکہ اس قسم کا مجاہدہ و ریاضت جو مولانا موصوف کو حاصل تھی دوسرے کو کم میسر ہوتی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
کثرت علم اور نہایت ورع و تقوی کے ساتھ آراستہ تھے با وجود یکہ آپ علمی تبحر میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن کبھی قلم فتویٰ ہاتھ میں نہیں لیا گو آپ سب سے آخر سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے لیکن حضور کی سعادت بخش نظروں کی برکت سے جملہ اوصاف میں یاران اعلیٰ میں موصوف ہوگئے تھے اور طریقہ سلف پر سماع کا اتباع کرتے تھے۔۔۔۔
مزید
ایک نہایت با مروت عزیز تھے جو غایت صلاحیت اور مکارم اخلاق میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ آپ پہلے پہل دنیاوی امور میں مشغول تھے لیکن آخر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دفعۃً محبت پیر کے طریقہ پر راسخ القدم اور مستقیم ہوگئے۔۔۔۔
مزید
ابن علقمہ بن مطلب بن عبدمناف قریشی مطلبی۔کنیت ان کی ابونقبہ۔ہذیم اورجنادہ کے والدہیں طبری نے کہاہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرسے انھیں پچاس وثق دیے تھے ۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے کنیت کے باب میں لکھا یہاں ان کا تذکرہ کسی نے نہیں لکھا۔۔۔۔
مزید
ابن عمار انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے مگران کی حدیث محدثین کے نزدیک مرسل ہے۔ان سے عبداللہ بن یربوع نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمر و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔۔۔۔
مزید