آپ سلطان المشائخ کے خلیفہ اعظم تھے ابتدائی عمر دنیا داری میں گزری بڑے صاحب منصب اور جاہ و جلال کے مالک تھے ۔سلطان علاء الدین کے دورِ حکومت میں بڑے اہم معرکے سر کیے، اور بڑی بڑی شاندار خدمات بجائے، لیکن جس دن حضرت سلطان المشائخ کے مرید ہوئے تو دنیا سے دست بردار ہوگئے، سلطان علاؤالدین بادشاہی تخت پر جلوہ فرما ہوئے تو آپ نے خواجہ معین الدین کو یاد کیا اور حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ موید الدین کو اجازت دیں کہ وہ دربار میں آئیں کیونکہ اُن کے بغیر میرا کام نہیں چلتا، حضرت شیخ نے جواب میں کہا کہ انہوں نے اور کام بھی کرنے ہیں، اب ان کاموں کی تکمیل میں مصروف ہیں، بادشاہ نے یہ جواب سنا تو بہت ناراض ہوا اور کہلا بھیجا کہ آپ تمام لوگوں کو اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا اپنے جیسا نہیں بلکہ اپنےسے کہیں بہتر دیکھنا چاہتا ہوں، بادشاہ نے یہ بات سنی تو خاموش ہوگی۔۔۔
مزید
آپ خواجہ نظام الدین کے عظیم خلفاء میں سے تھے حضرت سلطان المشائخ آپ پر بڑی رحمت و شفقت فرماتے، کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے پیر کی خدمت میں حاض رہوتے تو پاؤں کی آواز بھی نہ ہونے دیتے، یوں معلوم ہوتا کہ آپ سر کے بل حاضرِ خدمت ہو رہے ہیں ،کئی دفعہ لوگوں نے آپ کو ہاتھوں کے بل جاتے ہوئے دیکھا۔ حضرت شیخ نے آپ کو دعا دی، آپ ہوا میں اُڑ سکتے تھے پھر حاضر ہوتے وقت ہوا سے اُڑ کر آتے حضرت شیخ نے آپ کی تربیت کی تو آپ مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے اور چندیری کے علاقے میں قیام فرمایا اور وہاں ہی سات سو انتیس ہجری میں فوت ہوئے، آپ کا مزار چندیری میں ہے۔ شد ز دنیا چو در بہشت بریں شیخ مسعود یوسف ثانے یوسف عاقبت بگو سالش ہم نجوان بود یوسف ثانی ۔۔۔
مزید
آپ چشتی بزرگان برصغیر میں سے تھے۔ حضرت خواجہ شیخ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خواہرزادے تھے، آپ کے والد گرامی کا نام شیخ بدرالدین اسحاق بخاری رحمۃ اللہ علیہ تھا اگرچہ آپ اپنے ولاد سے بھی بیعت تھے۔ مگر آپ کو حضرت شیخ المشائخ سے بڑا فیض ملا تھا آپ نے حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی دہلوی کے ملفوظات پر ایک کتاب انوار المجالس لکھی جو بہت مشہو رہوئی، آپ کو علوم ظاہری و باطنی کے ساتھ ساتھ علوم موسیقی میں بھی کامل مہارت تھی، آپ کا وصال ۷۳۴ھ کو ہوا۔ رفت چوں از جہاں بخلد بریں شیخ اسعد امام عارف دہر رحلتش معتبر حبیب نجواں ہم محمد امام عارف دہر ۷۳۴ھ۔۔۔
مزید
آپ سلطان الاولیاء کے مصاحبان خاص میں سے تھے بڑے متقی اور پرہیزگار تھے قرآن پاک کی کتابت کرتے عام لوگوں سے علیحدہ رہتے اور رجال الغیب آپ کی مجالس میں آیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے حضرت محبوب الٰہی دہلوی قدس سرہ کی خدمت میں عرض کی کہ ایک دن مجھے سخت پیاس لگی مجھے غائب سے ایک کوزہ آتا نظر آیا، میں نے اسے توڑ ڈالا اور سارا پانی زمین پر گر گیا اور کہا میں کرامت سے درآمد شدہ پانی نہیں پیوں گا، حضرت شیخ نے سن کر فرمایا پی لینا چاہیے تھا یہ غیب سے تھا، بے عیب تھا میں نے بھی ایک بار کنگھی کرنا چاہی مگر میرے پاس اپنی کنگھی نہ تھی دیوار پھٹی ایک شخص ظاہر ہوا اس کے ہاتھ میں کنگھی تھی پکڑ کر میں نے کنگھی کرلی، ایک بار میں وضو کر رہا تھا میں نے چاہا کہ داڑھی کو کنگھی کروں میری کنگھی خانقاہ کے اندر طاق میں پڑی ہوئی تھی وہ کنگھی اپنے طور پر اڑتی اڑتی میرے ہاتھ میں آپہنچی میں نے پکڑی اور کنگھی کرلی۔ شیخ فخرال۔۔۔
مزید
آپ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ کے خلیفہ حاضر تھے اپنے عہد کے علماء و فضلا اور شعراء میں مقتدر اور ممتاز مانے جاتے تھے معاشرے میں بڑی عزت اور قدر سے دیکھے جاتے تھے آپ کو سلطان المشائخ کے مریدوں میں خاص مقام حاصل تھا، آپ نے غیاث الدین اور خان شہید کے حق میں بڑے زوردار مرصع قصائد لکھے، اور اپنے ان قصائد کی وجہ سے شعراء وقت سے سبقت حاصل کی، اللہ نے ہدایت کی تو تہتر سال کی عمر میں حضرت خواجہ نظام الدین کی مجلس میں حاضری دینے لگے، مرید ہوئے اور بہت تھوڑے وقت میں مقامات عالیہ پر جا پہنچے۔ حضرت شیخ سلطان المشائخ کے ملفوظات پر فوادالفوائد جیسی مشہور زمانہ کتاب آپ نے ہی ترتیب دی تھی۔ یہ کتاب حضرت کی خدمت میں پیش کی گئی تو آپ نے اسے بے حد پسند فرمایا۔ آپ کا مولد اور منشا دہلی شہر تھا آخری عمر میں بادشاہ کے حکم سے دہلی چھوڑ کر دیوگری چلے گئے اور وہاں ہی ۷۳۶ھ میں وفات پائی۔ آپ کا م۔۔۔
مزید
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی قدس سرہ کے خلیفہ خاص تھے آپ پر حضرت شیخ کی خصوصی نظر عنایت تھی۔ آپ اکثر اوقات شیخ کی مجالس میں خوش گفتاری سے کام لیتے جس سے حضرت شیخ کو بڑی مسرت ہوتی خواجہ امیر خسرو اور شیخ میر حسن علائی بھی آپ کے شریک مجلس ہوتے۔ یہ تینوں دوست یکجا زندگی بسر کرتے تھے آپ نے فیروز شاہی جیسی مشہور کتاب لکھی تھی یہ کتاب سلطان جلال الدین فیروز شاہ ترک خلجی کے حکم سے ترتیب دی گئی، مولانا برنی نے اپنے حسرت نامہ میں لکھا ہے کہ ایک بار میں حضرت محبوب الٰہی دہلوی کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا میرے دل میں خیال آیا کہ پہلے بزرگ مرید بنانے میں بڑی احتیاط سے کام لیا کرتے تھے مگر ہمارے پیر و مرشد پر کہتر و مہتر کو مرید بنائے جاتے ہیں، میرا دل چاہتا تھا کہ میں سوال کرکے حضرت شیخ سے وضاحت لوں، ابھی یہ سوال میری زبان پر نہیں آیا تھا کہ حضرت نے نور باطن سے خود ہی میرے خیالات کو ۔۔۔
مزید
آپ خانوادہ چشتیہ کے فیض یافتہ درویش تھے صاحب احوال و مقامات بزرگ تھے باطنی طور پر سالک تھے مگر ظاہری طور پر ایک مجذوب کی حیثیت سے رہتے تھے صحراء و بیابانوں میں گھومتے رہتے تھے اور صرف مخصوص پردے کے لیے لباس پہنتے تھے وہ علوم عقلی نقلی رسمی اور حقیقی کے ماہرین میں سے تھے جب کبھی ظاہری علوم کا اظہار کرتے تو لوگوں کو حیران کردیتے تھے مجرد تھے نوجوان تھے مگر کسی نفسانی چیز کی طرف توجہ نہ دیتے تھے کسی کو مرید نہ بناتے تھے اور فرمایا کرتے تھے میرا صرف ایک ہی مرید ہے جس کا نام ہشام ہے وہ بھی آپ کی طرح دشت و بیاں میں گھومتا رہتا تھا۔ آپ بعض اوقات عربی فارسی ہندی زبانوں میں بے ساختہ تقریر کرتے تھے جب آغاز گفتگو کرتے تو بڑی فصاحت کے ساتھ طویل گفتگو کرتے تھے جب نہایت جذبات میں آتے تو مجلس سے اٹھ کر صحرا و بیان کی طرف نکل جاتے۔ ملا محمد نارنولی فرماتے ہیں کہ ایک دن جامع مسجد میں آئے صفوں کو چیرت۔۔۔
مزید
صاحب اخبار الاخیارنے لکھا ہے کہ آپ درویش باصفا اور اہل دل تھے حضرت شیخ علاء الدین اجودنہی سے بیعت تھے مگر سلسلہ شطاریہ کے مشائخ سے بھی فیض یاب ہوئے تھے لباس صرف ضروری پردے کے لیے پہنتے تھے سر ننگے پھرتے تھے کبھی فقراء کے ساتھ گھومتے تھے اور کبھی کبھی تنہا بھی پھرتے رہتے تھے ذکر بالجہر کرتے دل پر ضربیں لگاتے بعض اوقات ان کی ضربیں ایسی ہوتیں تھیں جیسے ہتھوڑے آئرن پر مارے جارہے ہیں کہتے ہیں آپ کو ایک ہندو عورت سے محبت ہوگئی تھی مگر وہ عورت آپ کی کشش سے اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوگئی اس عورت کے رشتہ دار محمد زمان خان جو بابر بادشاہ کا قریبی تھا فریاد لے کر گئے محمد زمان نے پیغام بھیجا کہ اس عورت کو گھر سے باہر نکال دو نہیں تو میں تمہارے گھر پر حملہ کردوں گا آپ تلوار پکڑ کر باہر نکل آئے اور گرج کر فرمانے لگے اب اس عورت نے اسلام قبول کرلیا ہے اب میں اُسے کافروں کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہوں اگر۔۔۔
مزید
آپ حضرت سلطان المشائخ کے مرید تھے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت گنج شکر کی بیٹی تھیں، آپ کو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی سے بڑا فیض ملا، آپ نے ایک کتاب تحفۃ الابرار لکھی جو حضرت شیخ نظام الدین کے ملفوظات پر مشتمل ہے، آپ ظاہری علوم میں قاضی معین الدین کاشانی کے شاگرد تھے۔ تحفۃ الابرار میں لکھتے ہیں کہ جن دنوں میں حضرت شیخ نظام الدین کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا تو ایک بزرگ اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں منہ قبلے کی طرف اور آنکھیں آسمان کی طرف، وہ جمال حق میں مستغرق ہیں۔ میں انہیں دیکھ کر ایک لمحہ حیران رہ گیا، دیکھا کہ شیخ تڑپے اور چڑیوں کی طرح پھڑ پھڑا نے لگے، عالم صحو میں آئے تو اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا تم کون ہو میں نے کہا میرا نام عزیز ہے فرمایا ان شاء اللہ عزیز بنو گے، آپ کی وفات سات سو اکتالیس ہجری میں بیان کی گئی ہے۔ رفت چون از جہاں بخلد بریں شیخ اہل یقین عزیز الدین رحلتش آفتاب انور گو ۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے عالم دین اور ولی اللہ تھے خواجہ نظام الدین دہلوی کے خلیفہ تھے اور آپ کے بہترین احباب اور اصحاب میں شمار ہوتے تھے ہندوستان کے اکثر علماء آپ کے شاگرد تھے، آپ کے شاگرد آپ پر فخر کرتے تھے آپ کا اصلی وطن اودھ تھا علم حاصل کرنے کے لیے دہلی آئے اور اس قدر علوم دینی میں کمال حاصل کیا کہ اُس وقت کے علماء میں سے فقہ حدیث اور تفسیر میں کوئی بھی مقابلہ نہ کرسکتا تھا ، آپ نے خواجہ نظام الدین کی کرامات کی شہرت سنی تو شیخ صدرالدین کی وساطت سے حاضر ہوئے اور مرید ہوگئے، تھوڑے ہی عرصے میں باطنی کمالات حاصل کرلیے، ساری عمر تجرید اور تغرید میں گزار دی ساری عمر شادی نہیں کی۔ خلافت حاصل کرنے کے باوجو دکسی کو اپنا مرید نہیں بنایا شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی نے یہ شعر آپ کے اوصاف میں لکھا تھا سالت العلم من حیاک حقا فقال العلم شمس الدین یحییٰ آپ کی وفات سات سو سنتالیس ہجری میں لکھی گئی ہے۔ شمس ۔۔۔
مزید