منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت بدر الدین بن علی بن چشتی

آپ حضرت فرید مسعود فاروقی شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ اپنے وقت کے مشائخ کاملین میں  شمار ہوتے تھے۔ سیرالاقطاب اور معارج الولایت کے صفحات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقبول و منظور شخصیت کے مالک تھے علم و فضل میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا پہلے بخارا میں رہے، بعد میں بعض علمی اور روحانی مشکلات کے حل کے لیے گھر سے نکلے۔ اور بخارا سے چل کر دہلی پہنچے۔ جب یہاں بھی مسائل کے حل میں تسلی نہ ہوئی، دوبارہ ملتان کے راستہ بخارا کو روانہ ہوئے۔ پاک پتن پہنچے تو آپ کے ساتھیوں نے حضرت فرید شکر گنج کی زیارت کا ارادہ ظاہر کیا، آپ درویشوں کے خلاف تھے، کہنے لگے  میں یہاں ہی بیٹھا ہوں، آپ لوگ زیارت کر آئیں۔ لیکن دوست آپ کو کشاں کشاں حضرت خواجہ فرید کی خانقاہ تک لے گئے، مجلس میں بیٹھے ہی تھے کہ حضرت فرید نے باطنی طور پر معلوم کرکے خود ہی اس کے سوالات پر گفتگو شروع کردی اور ان کے سوالات کا حل پی۔۔۔

مزید

شیخ قوامّ الدّین چشتی سہروردی قدس سرہ

آپ حضرت سید محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھےمگر بعد میں حضرت مخدوم جہانیاں سیّد جلال الدین کی خدمت خاصر ہوکر مرید ہوئے اور اس طرح اوچ شریف میں روحانی تربیت حاصل کر کے بلند مقامات پر پہنچے۔ آپ بڑے جلیل القدر بزرگ تھے۔ آپ کے مقامات اور مراتب پر بہت کم لوگوں کی رسائی ہوئی ہے۔ آپ کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت شیخ قوام الدین مجلس سماع میں بیٹھے تھے۔ مگر سماع میں وہ ذوق پیدا نہ ہوا جو ہوا کرتا تھا آپ گھر آئے۔ فرمانے لگے۔ آج مجھے سماع میں ذوق نہیں آیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی ایسی چیز ہے جس کا یہ اثر ہے۔ گھر والوں نے بتایا ایسی کوئی چیز نہیں آئی۔ آپ نے تلاش کیا۔ تو گھر میں پرانے گُڑ کی ایک ڈلی پڑی ہوئی تھی۔ جو آپ نے علاج کے لیے منگوائی تھی۔ آپ نے گُڑ اٹھایا۔ اور باہر جا کر غریبوں میں تقسیم کر کے مجلس سماع میں آبیٹھے اس طرح آپ اس ذوق سماع سے محضوظ ہوئے۔ جس کی انہیں ط۔۔۔

مزید

حضرت سید محمد بن سید محمود کرمانی

آپ حضرت گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے احباب میں سے تھے آپ کا اصلی وطن کرمان تھا۔ تجارت کرتے کرتے لاہور آگئے، وہاں سے پاک پتن پہنچ کر حضرت گنج شکر  رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کے ماموں سیّد احمد ملتان میں تھے آپ بھی ملتان چلے گئے جب تجارت کے سفر پر نکلتے پہلے لاہور آتے پھر پاک پتن شریف جاتے اور وہاں سے ملتان چلے جاتے اس آمد و رفت میں انہیں شیخ فریدالدین گنج شکر سے محبت پیدا ہوئی۔ کاروبار کو چھوڑ کر اللہ کی تلاش میں مشغول ہوگئے حضرت گنج شکر کے مرید بنے اور ان کی وفات کے بعد سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ولی کامل بن گئے۔ اخبارالاخیار کے مصنف نے آپ کی وفات بروز جمعہ سات سو گیارہ ہجری لکھی ہے۔ آپ کا مزار پر انوار شیخ نظام الدین  کے دوستوں کے چبوترے پر واقع ہے۔ محمد ابن محمود آں مہ کرمان شہ عالم کہ ذاتش بود محبوب بن مقبول ربانی بتاریخ وصا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظام الدین کرمانی

آپ شیخ نظام الدین اولیاء بدایونی کے خلیفۂ اعظم تھے آپ کا سینہ صفات عالیہ سے آراستہ تھا۔ درویشی کا شیوہ رکھتے تھے بڑے شوق سے سماع سنتے دوستوں میں سرفراز تھے۔ حرمین الشریفین کی زیارت سے بھی شرف یاب ہوئے۔ شجرۂ چشتیہ کے مصنف نے آپ کا سال وفات سات سو اٹھارہ ہجری لکھا ہے اور آپ کا مزارِ پر انورا دہلی میں ہے۔ رفت از دیر چون نظام الدین ہم دلی سعید شیرازی ۷۱۸ھ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محی الدین کاشانی

آپ شیخ المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ زہد و تقویٰ میں کامل، خرق و کرامت میں معروف اور علوم تفسیر  و حدیث میں ماہر تھے سارا شہر آپ سے علوم دینیہ حاصل کرتا تھا۔ آپ نے مرید ہوتے ہی دنیاوی آسائشوں سے کنارہ کشی کرلی، بادشاہ نے آپ کو قضا کا پروانہ دیا تھا، آپ نے یہ فرمان اپنے پیر و مرشد کے سامنے لاکر جلا دیا اور فقر و مجاہدہ کو اختیار کرکے خرقہ خلافت حاصل کرلیا۔ کہتے ہیں کہ جب قاضی کاشانی نے تمام دنیاوی نعمتوں سے منہ موڑ لیا اور فقر و فاقہ کو اپنالیا، تو آپ کے لواحقین اہل و عیال جو دنیا کی آسائشوں کے خوگر تھے تنگ دست ہوگئے، ان لوگوں کے ایک واقف حال نے یہ صورت حال بادشاہ وقت علاء الدین خلجی کے دربار میں پیش کی تو سلطان نے اودھ کی قضا کو از سر نو حضرت قاضی کاشانی کے سپرد کردیا، جب یہ خبر ملی تو دوڑ دوڑے حضرت خواجہ نظام الدین کی خدمت میں آئے اور عرض کیا، ح۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ علاء الدین بن شیخ بدر الدین

آپ حضرت گنج شکر قدس سرہ کے پوتے تھے۔ سولہ سال کی عمر میں سجادہ نشین ہوئے اور چون (۵۴) سال حق خلافت اور سجادگی پورا کرتے رہے۔ زندگی میں آپ کی شہرت اور کرامت دنیا بھر میں پھیل گئی۔ آپ کا قدم مبارک جامع مسجد سے باہر نہ نکلتا امراء اور ملوک سے بے نیاز تھے صائم الدہر اور قائم اللیل رہتے۔ رات کا ایک حصہ گزرتا تو افطار فرماتے تھے جو دو  سخاوت میں بحر بے کنار تھے طہارت و لطافت میں بے مثال تھے آپ کو فرید ثانی کہا جاتا تھا، گویا ایک سمندر تھا جس کی موجیں فیضان روحانیت سے مالا مال تھیں اور حضرت فرید گنج شکر کے بعد جاری ہوئی تھیں۔  حضرت خواجہ خسرو دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے حق میں ایک شعر کہا ہے۔ علاء الدین و دنیا شیخ و شیخ زادۂ عصر کہ شد یم قید قائم مقام شیخ فرید معارج الولایت میں لکھا ہے کہ سلطان غیاث الدین تغلق کا ابتدائی زندگی میں غازی نام تھا اور صوبہ دیپالپور کا گورنر تھا، اور حضرت ۔۔۔

مزید

میر سیّد اللہ قدس سرہ

آپ سید محمد گیسو دراز قدس سرہ کے پوتے تھے۔ آپ کو بچپن میں ہی خرقۂ خلافت مل گیا تھا۔ صاحب معارج الولایت نے لکھا ہے کہ ایک دن حضرت سید محمد گیسو دراز وضو فرما رہے تھے مسح کرنے لگے تو سر سے عمامہ اُتار کر نیچے رکھا سیّد یدّ اللہ ابھی بچے تھے پاس بیٹھے ہوئے تھے عمامہ اٹھایا اور اپنے سر پر رکھ لیا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا بیٹا تمہیں یہ خلعت مبارک ہو یہ تمہارا حق تھا تمہیں مل گیا ہے۔ اس دن کے بعد آپ جسے بھی مرید بناتے اس کی نسبت سیّد یدّ اللہ سے مستحکم کر واتے مگر اس مرید کی تربیت خود کرتے۔ اخبار الاخیار نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ سیّد یدّ اللہ نوجوان ہوئے تو آپ کی شادی ایک نہایت خوش شکل لڑکی سے ہوئی۔ رات حجلۂ عروسی کو سجایا گیا تو میر یدّ اللہ اپنی دلہن کے پاس پہنچے تو اس کے حسن کی تاب نہ لاکر آپ نے ایک نعرہ مارا۔ اور جان دے دی صبح دلہن نے آپ کو اپنی بفل میں بھینچا اور اپنی جان قربان کر دی۔ اس طرح یہ ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ شمس الدین چشتی

آپ حضرت امیر خسرو دہلوی کے خواہر زادہ تھے، اپنے زمانہ کے فاضل یگانہ تھے حضرت سلطان المشائخ سے محبت بھی تھے اور  ارادت بھی، نماز میں کھڑے ہوتے۔ جب تک حضرت خواجہ محبوب الٰہی کا چہرہ پاک نہ دیکھ لیتے تکبیر نہ کہتے مرض موت میں گرفتار ہوئے تو حضرت خواجہ نظام الدین عیادت کو آئے مگر ابھی راستے میں ہی تھے کہ خواجہ شمس الدین کی وفات کی خبر پہنچی سن کر فرمایا الحمدللہ ’’دوست بد دست پیوست‘‘۔ آپ کی وفات ۷۲۲ھ میں ہوئی تھی۔ بہ مغرب رفت زیں دنیائے نانی جو شمس الدین ولی مہر منور عجب تاریخ وصلش جلوہ گرشد ز شمس الاولیاء ہادی اکبر ۔۔۔

مزید

شیخ علاءالدّین قریشی قدس سرہ

سیّد محمد گیسو دراز قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔ آپ کو علاء الدین قریشی گوالیاری کے نام سے شہرت ملی ظاہری اور باطنی علوم میں کمال رکھتے تھے تجرید و تفرید میں بھی بے مثال تھے۔ ساری زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔ یاد الٰہی کے بغیر زندگی کا کوئی مشغلہ نہ رکھا اپنے خادم کو فرمایا کرتے تھے گھر کا کوڑا کرکٹ بھی سامنے نہ پھینکا کرو۔ اس سے لوگوں کو گھر میں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں اور لوگ آکر پریشان کرتے ہیں اور یاد خدا وندی میں مخل ہوتے ہیں آپ ۸۵۳ھ میں فوت ہوئے۔ رفت چوں از جہاں بخلد بریں ہادی مقتداء علاء الدین سال ترحیل دے عیاں گردو از ولی خُدا علاء الدین ۸۵۳ھ ۔۔۔

مزید

شیخ ابوالفتح جونپوری قدس سرہ

آپ اپنے دادا عبدالمقتدر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے بڑے عالم فاضل تھے معارج الولایت اور مکارم الاخلاق کے مولفین نے لکھا ہے کہ شیخ ابوالفتح چودہ ماہ تک شکم مادر میں رہے اس وجہ سے آپ کے دادا عبدالمقتدر رحمۃ اللہ علیہ کو بڑی تشویش تھی ایک رات خواب میں رکن الدین ابوالفتح سہروردی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا آپ نے فرمایا عبدالمقتدر تمہارے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے اس کا نام میرے نام پر ابوالفتح رکھنا چنانچہ اسی دن جب چاند کی چودہویں تاریخ تھی آپ پیدا ہوئے۔ اسی دن شیخ جمال الدین جو شیخ عثمان سیاح کے مرید تھے۔ آپ کے گھر تشریف لائے بچے کو پہلی نظر دیکھ کر فرمایا عبدالمقتدر! تمہارا گھر اس نورانی بچے کی وجہ سے نور سے بھر جائے گا شیخ عبدالحی حضرت شیخ عبدالمقتدر کے بیتے حضرت شیخ عبدالمقتدر کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے خواجگان چشتیہ کا سلسلۂ خلافت آپ کی وساطت سے آگے چلا آپ مسند ارش۔۔۔

مزید