حضرت غوث الاعظم کے بزرگ ترین خلفا سے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں منفرد تھے۔ آپ کا شمار مشائخِ کبار سے ہوتا ہے۔ فتوحاتِ مکیہ میں مذکور ہے کہ ایک روز ابو السعود دریائے دجلہ کے کنارے جارہے تھے کہ اُن کے دل میں خیال گزرا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جو اس کی عبادت پانی میں کرتے ہیں۔ یہ خیال اُن کے دل میں آیا ہی تھا کہ ایک شخص نے پانی سے سر نکالا اور کہا ہاں کیوں نہیں اور میں انہی میں سے ہوں۔ میں بکریت کے مقام کا رہنے والا تھا جو دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہُوا کہ شہر چھوڑ کر پانی میں عبادت کروں کیونکہ تقدیرِ الٰہی اسی طرح ہے۔ میں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ پندرہ روز کے بعد بکریت پر ایک حادثۂ عظیم نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس آفت سے محفوظ رکھا۔ یہ کہہ کر پھر پانی میں غوطہ لگاگیا۔ شیخ ابوالسعود کو حق تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ عطا ہوتا ت۔۔۔
مزید
حضرت غوث الاعظم کے کامل ترین اور بزرگ ترین خلفا سے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں اور خوارق و کرامت میں درجۂ بلند اور مقامِ ارجمند رکھتے تھے۔ اپنے عہد کے مشائخ کبار سے تھے۔ حضرت شیخ ابوالحسن قرشی سیرالاحباب میں لکھتے ہیں کہ دنیا میں چار شخص ہیں جو قبور میں بھی مثل احیاء تصرف کرتے ہیں۔ اوّل معروف کرخی۔ دوم شیخ سید عبدالقادر جیلانی۔ سوم شیخ عقیل منجی۔ چہارم شیخ حیات خیرانی۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ خیران کے صلحاء میں سے ایک نے بیان کیا کہ میں یمن سے کشتی میں سوار ہوا۔ جب بحرِ ہند میں پہنچا تو سمندر میں طوفانِ عظیم برپا ہوگیا جس نے جہاز کو توڑ ڈالا۔ میں ایک تختہ پر بیٹھا ہوا لہروں کے تھپیڑے کھاتا ہُوا ایک بیابان جزیرے میں پہنچ گیا۔ جہاں دُور دُور تک آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ آخری بڑی تلاش کے بعد اس ویرانے میں مجھے ایک مسجد نظر آئی۔ اندر جاکر دیکھا کہ چار حسین و جمیل شخص۔۔۔
مزید
حضرت غوث الاعظم کے فرزند ارجمند تھے۔ علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے پدر بزر گواری سے کی تھی۔ اپنے وقت کے عالم و فاضل اور محدّث و فقیہ تھے۔ ۲۷؍ ماہ صفر ۵۸۷ھ میں وفات پائی۔ مرقد بغداد میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات: چو از دنیا بجنت گشت راہی وصالش والیٔ تسلیم پیداست ۵۸۷ھ شہ اہلِ یقیں مقبول رحماں دوبارہ ’’مہ جبیں مقبول رحماں‘‘ ۵۸۷ھ ۔۔۔
مزید
کنیت ابوبکر ہے۔ حضرت غوث الاعظم کے صاحبزادہ ہیں۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ ماجد ہی کے زیر سایہ پائی تھی اور اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد نقلِ مکان کرکے سنجار چلے گئے تھے۔ وہیں ۵۸۹ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: سیدِ ذی جاہ و عالی مرتبت رحلتش مہتابِ عالم گفتہ ام ۵۸۹ھ مرشدِ حق، حق نما، حق بیں عزیز نیز شد روشن زشمس الدین عزیز ۵۸۹ھ ۔۔۔
مزید
شعیب نام، لقب ابو مدین بن حسن یا حسین۔ حضرت شیخ ابوبغرائی مغربی کے مرید و خلیفہ اور حضرت شیخ محی الدین ابن العربی کے مرشد تھے۔ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم سے بھی اکتسابِ فیض کیا تھا۔ صاحبِ کشف و کرامت اور سر زمینِ مغرب کے مشائخِ کبار سے تھے۔ ایک روز آپ نے دیارِ مغرب کے کسی مقام پر گردن جھکا کر کہا۔ اللھم انی اشھدک واشھد ملائکتک انی سمعت واطعت۔ حاضرین نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ نے بغداد میں یہ فرمایا قدمی ھٰذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ۔ اس کے بعد بغداد کے بعض اکابر حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی اطلاع دی کہ حضرت غوث الاعظم نے اُسی وقت یہ الفاظ فرمائے تھے۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی صاحب نفحات الانس لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ ابو مدین مغربی ایک روز دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے کہ کفار کی ایک جماعت نے آپ کو گرفتار کرلیا اور اپنی کشتی میں لے گئے۔ آپ سے پہلے بھ۔۔۔
مزید
نام عبداللہ بن محمد بن احمد بن قدامۃ الجیلی ہے۔ صاحبِ تصنیف ہیں۔ علومِ ظاہری و باطنی میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ اپنے عہد کے مشہور عالم گزرے ہیں۔ حضرت غوث الاعظم کے شاگرد و مرید تھے۔ ۶۲۲ھ میں وفات پائی۔ چو آں شیخ موفق بن محمد رقم کن لفظِ برکت با تبرک ۶۲۲ھ ز دنیا گشت سوئے خلد مامور بتاریخش دگر نورِ علیٰ نور ۶۲۲ھ ۔۔۔
مزید
نام صدرالدین اور کنیت ابوالمعالی ہے۔ حضرت غوث الاعظم کے بہترین مریدوں سے تھے (صاحبِ سفینۃ الاولیاء شیخ محی الدین ابن العربی کے ارشد مریدوں سے لکھتے ہیں) علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ فقہ و حدیث میں یکتائے زمانہ تھے۔ زہدو تقویٰ اور ریاضت و مجاہدہ میں مقامِ بلند پر فائز تھے۔ مولانا قطب[1] الدین علامہ علمِ حدیث میں آپ کے شاگرد تھے۔ کتاب جامع الاحوال خود لکھ کر اُن کے سامنے پڑھی تھی اور اس پر فخر کیا کرتے تھے۔ اُس وقت کے اولیائے کرام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اخدِ فیض کیا ہے۔ شیخ سعد[2]الدین حموی اور مولانا جلال الدین[3] رومی سے خاص روابط تھے۔ ۶۳۰ھ میں وفات پائی۔ صدر دین صدرِ اولیائے کرام وصل او ہست آفتابِ علوم ۶۳۰ھ شد ز دنیا چو در بہشت بریں نیز والیٔ صدق صدرالدین ۶۳۰ھ [1]۔ جامع منقول و معقول۔ علامۂ عصر اور وحیدالدہر تھے۔ بڑے بڑے علمأ نے آپ سے اکتسابِِ فیض کیا۔۔۔
مزید
شیخ عبداللہ بطائمی کے مرید و خلیفہ ہیں جو حضرت غوث الاعظم کے بزرگ تریں خلفأ سے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ شجاعت و مرقت اور خلق میں بے نظیر تھے۔ صاحب بہجۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ آپ نہایت خوش رو، خوش خو اور خوش گو تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مستجاب الدعوات کیا تھا۔ ۶۵۸ھ میں وفات پائی۔ شیخ احمد چو از عنایتِ حق رحلتش ماہتاب صاحبِ حق ۶۵۸ھ کرد رحلت ازیں جہاں بہ وطن کن رقم ‘‘نیز ماہِ نو روشن’’ ۶۵۸ھ ۔۔۔
مزید
کنیت ابوالسعادت، لقب عفیف الدین، باپ کا نام سعد یافعی ہے۔ یمن کے رہنے والے تھے۔ آپ کا قیام زیادہ عرصہ حرمین الشریفین میں رہا ہے۔ شافعی مذہب تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں اپنے زمانے کے علماء و فضلاء میں ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ آپ کو نسبتِ ارادت چند واسطوں سے حضرت غوث الاعظم سے حاصل ہے۔ تاریخ یافعی، کتاب روضتہ الریاحین، نشرالمجالس با حوال خوارق و کرامت حضرت غوث الثقلین آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ جب حضرت سیّد جلال الدین مخدومِ جہانیاں جہاں گشت سہروردی اوچی المتوفیٰ ۷۰۷ھ مکہ معظمہ گئے تو امام صاحب سے بھی ملاقات کاشرف حاصل کیا۔ ان دونوں حضرات میں اس درجہ اتحاد و محبت کا تعلق بڑھا کہ اس کی نظیر دیکھی نہیں گئی۔ امام صاحب نے سلسلۂ چشتیہ سے اخذِ فیض کے لیے حضرت مخدومِ جہانیاں کو حضرت شیخ سید نصیرالدین محمود چراغ دہلی المتوفیٰ ۷۵۷ھ کی خدمت میں جانے کو کہا۔ چنانچہ حضرت مخدوم جب ہندوستان لوٹے تو دہلی م۔۔۔
مزید
مشاہیر و اکابر ساداتِ حسنی سے ہیں۔ حضرت غوث الاعظم سے نسبت آبائی ہے۔ صاحبِ عظمت و کرامت، واقفِ منقول و معقول تھا۔ عبادت وریاضت اور زہد و ورع میں یکتائے روز گار تھے۔ سید اصغر علی گیلانی صاحب شجرۃ الانوار رقم طراز ہیں کہ سیّد محمد کے بزرگوں میں سے اوّل سیّد ابوالعباس احمد بن سید صفی الدین المعروف بہ سید صوفی بن سید سیف الدین عبدالوہاب بن حضرت محی الدین سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ اپنے چھوٹے بھائی سید ابوسلیمان کے ساتھ ۶۵۶ھ میں ہلاکوخاں تاتاری کے حملۂ بغداد اور قتل و غارت کے وقت بغداد سے نکل کر روم میں آگئے۔ پھر جب کچھ امن و امان ہوا تو حلب میں آکر اقامت گزیں ہوگئے۔ سید محمد غوث یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد سے حاصل کی۔ عنفوانِ شباب میں پدر بزرگوار کی اجازت سے مختلف ممالک اسلامیہ کی سیرو سیاحت کو نکلے۔ حرمین الشریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ عراق، عرب، ایران، خراسان، ترکستان اور سن۔۔۔
مزید