بن عمرو الراسی: طارق بن علقمہ نے ان سے روایت کی ہے اور ابو عمر نے تخریج کی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ صاحب الراسی کی بجائے الکلابی ہیں۔ جن سے زرارہ بن اوفی نے روایت کی ہے۔ کیونکہ رواسا سے مراد ابن الکلاب ہی ہے اور اس کا ذکر ہم مالک العقیلی کے تحت کر آئے ہیں۔ (باوجود تلاش مجھے یہ نام نہیں ملا)۔۔۔۔
مزید
بن عمرو السلمی: یہ لوگ بنو عبدالشمس کے حلیف تھے۔ یہ صحابی اپنے دو بھائیوں ثقف اور مدلج کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ جناب مالک کو جنگ یمامہ میں شہادت نصیب ہوئی۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، جناب مالک اور ان کے دو بھائی جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ وہ مدلج اور کثیر تھے۔ اس کی تینوں نے تخریج کی ہے، لیکن ابن مندہ اور ابونعیم کا خیال ہے کہ مالک بن عمرو، ثقف بن عمرو کے بھائی تھے اور یہ لوگ بنو حجر سے ہیں، جو بنو سلیم سے منسوب ہیں۔ لیکن ابو عمر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سلمی ہیں، جو بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ ہم ’’ثقف‘‘ کے لفظ کے تحت لکھ آئے ہیں کہ یہ لوگ اسدی ہیں یا اسلمی ہیں، لیکن انھوں نے وہاں یہ نہیں کہا تھا کہ جناب مالک اسلمی ہیں۔ اس لیے ابو عمر کو اب سوچنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے۔ ابن الکلبی نے جناب مالک کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ مالک، ثقف اور صفوان عمرو کے بیٹے تھے۔ جن کا تعلق بنو ح۔۔۔
مزید
بن عمرو بن عتیک بن عمرو بن مبذول اور وہ عامر بن مالک بن النجار انصاری، خزرجی، نجاری ہیں: مالک اس جمعے کے دن فوت ہوئے تھے جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلح ہوکر اُحد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر اُحد کی طرف کوچ فرمایا تھا۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمرو القشیری: انھیں کلابی، القصیلی اور انصاری بھی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح نام کے بارے میں بھی کئی روایات ہیں: مالک بن عمرو، عمرو بن مالک، ابی بن مالک اور مالک بن حارث وغیرہ۔ علی بن زید نے زرارہ بن اوفی سے اس نے مالک بن عمرو القشیری سے روایت بیان کی کہ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جس نے کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا۔ اس نے نار جہنم سے اپنا بچاؤ کرلیا۔ اس کے آزاد کردہ جسم کے بدلے میں اس کے جسم کو آزادی مل جائے گی۔ ان سے صرف اس حدیث کو علی بن زید نے زرارہ سے اس نے مالک بن عرمو سے (مذکورہ بالا اختلاف کے مطابق) بیان کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایک مسلمان یتیم بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس حدیث کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ امام بخاری نے مالک بن عمرو عقیلی کو مالک بن عمرو القشیری سے مختلف آدمی قرار دیا ہے۔ ابو حاتم کے خیال کے مطابق دونوں ایک۔۔۔
مزید
بن عمرو بن مالک بن برہہ بن نہشل المجاشی، ابو حفص نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر مالک بن بن برہہ کے تحت کیا جاچکا ہے۔ یہ صحابی ایک جماعت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس زور زور سے چیخنے لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شور کی وجہ دریافت کی، تو معلوم ہوا کہ بنو عنبر کا وفد ہے۔ جو ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں کہو کہ اندر آجائیں اور آرام کریں، انھوں نے کہا ہم اپنے سالارِ قافلہ وردان بن مخرم کا انتظار کر رہے ہیں۔ ارکانِ وفد جلدی میں اپنے سردار کو، اپنی سواریوں اور ساز و سامان کی حفاطت کے لیے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اہل وفد اپنے اس سردار کا انتظار کر رہے ہیں جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ جب وہ حضورِ اکرم صلی اللہ عل۔۔۔
مزید
بن عمیر السلمی: یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ، غزوۂ حنین اور طائف میں شامل تھے۔ ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے۔ ان سے یہ روایت مروی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذکورہ بالا غزوات میں شریک تھے انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں شاعر ہوں، آپ ازراہ کرم اس باب میں میری راہ نمائی فرمائیں۔‘‘ حضورِ اکرم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز[۱] تیرے پیٹ کو پیپ سے بھر دے تو اس سے بہتر ہے کہ اسے اشعار سے بھرا جائے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمیرہ ابوسفیان: عبدان اور ابنِ شاہین وغیرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ایک روایت میں مالک بن عمیر ہے۔ بعض نے انھیں اسدی لکھا ہے اور بعض نے بنو عبدالقیس سے۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم سے ابو یاسر بن حبہ نے اس اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک پہنچتا ہے۔ بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے اس سے شعبہ نے اس نے سماک بن حرب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو صفوان مالک بن عمیر الاسدی سے سنا، محمد بن جعفر نے عمیر کی جگہ عمیرہ لکھ دیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہجرت سے پہلے مکے میں آئے اور ایک شخص نے ان سے شلوار خریدی اور مجھ سے حسنِ سلوک سے پیش آیا۔ ابن مہدی نے شعبہ سے روایت کی ہے اور نام مالک بن عمیرہ بتایا ہے۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اس نے سوید بن قیس سے یہی نام سنا ہے لیکن کنیت نہیں بتائی ہے۔ عمرو بن حکام اور یحییٰ بن ابی طالب نے بروایت یزید بن شعبہ ان کا نام ابن عمی۔۔۔
مزید
بن جمیلہ بن السباق بن عبدالدار: موسیٰ بن عقبہ نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے، جو غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عوف الاشجعی: ایک روایت میں ابو عوف ہے۔ ابوموسیٰ نے (کتابۃً) ہمیں بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی زبانی سنا کہ ہمیں سلیمان بن ابراہیم نے۔ اسے علی بن محمد الفقیہ نے، اسے احمد بن محمد بن ابراہیم نے، اسے محمد بن عبدالوہاب نے، اسے آدم بن ابو ایاس نے اسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اسے عبداللہ بن ولید نے، محمد بن اسحاق سے جو آلِ قیس بن مخرمہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ بیان کیا کہ مالک الاشجعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا بیٹا عوف قید میں ہے۔‘‘ حضور نے فرمایا؛ اسے کہلا بھیجو کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرے۔ دشمنوں نے انہیں چمڑے میں جکڑ رکھا تھا اس ورد سے وہ ان کے جسم سے علیحدہ ہوکر گر پڑا، ان کی ایک اونٹی پاس کھڑی تھی، اس پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب ان لوگوں کے گھر کے پاس سے (جنھوں نے انھیں قید کیا ہوا تھا) گزرے تو زور سے نعرہ ۔۔۔
مزید
بن عوف بن سعد بن ربیعہ بن یربوع بن وائلہ بن دہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر ہوازن النصری: ان کی کنیت ابو علی تھی۔ یہ صاحب جنگ حنین میں لشکر کفار کے سردار تھے۔ جب مسلمانوں کی شکست کے بعد کفار کو شکست ہوئی۔ ہمیں ابو جعفر نے اپنے اس اسناد سے جو یونس تک پہنچتا ہے۔ ابن اسحاق سے یوں روایت کی اس نے بتایا کہ اسے عاصم بن عمر بن قتادہ نے عبدالرحمٰن بن جابر سے اس نے اپنے باپ جابر بن عبداللہ اور عمرو بن شعیب، زہری، عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم اور عبداللہ بن مکرم بن عبدالرحمٰن ثقفی سے حنین کی جنگ کے بارے میں سنا جب حضور اکرم حنین کی جنگ کے لیے ان کی طرف روانہ ہوئے۔ اور وہ مقابلے کے لیے حضور کی طرف بڑھے، اس بارے میں ان کے بیانات مختلف ہیں،لیکن اس امر پر سب متفق ہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہوئے۔ تو مالک بن عوف نصری نے بنو نصر، بنو حشم، بنو سعد، بنو بکر اور بنو بلال کے بعض ف۔۔۔
مزید