بن حارثہ: ابوموسیٰ انھیں اسماء بن حارثہ کا بھائی بتاتا ہےا ور ان کا تذکرہ، اسماء کے تذکرے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن جسل: یہ صاحب اپنے آدمیوں کی معیت میں بہ سلسلہ ہجرت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے ان سے عبداللہ الاشعری نے روایت کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن الحسن: بقول جعفر یحییٰ بن یونس نے اس کی تخریج کی ہے، لیکن میرے خیال میں اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی، حسن بن علی ا لحلوانی نے عمران بن ابان سے اس نے مالک بن حسن بن مالک سے اس نے اپنے والد سے اس نے دادا سے روایت کی، کہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے تو جبریل آئے اور کہا یا رسول اللہ کہیے آمین، آپ نے تعمیل کی، پھر آپ نے دوسرے پائے پر قدم رکھا، تو جبریل نے پہلی بات کو دہرایا اور حضور نے بھی اپنی بات دہرائی، پھر جبریل نے کہا جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو پایا (اور ان کی کوئی خدمت نہ کی) اور مرگیا، وہ جہنمی ہے، خدا اسے برباد کرے، حضور نے آمین کہی، اس طرح جس نے رمضان کے روزے رکھ کر خدا سے مغفرت طلب نہ کی، خدا اسے بھی برباد کرے، حضور نے آمین کہی پھر جبریل نے کہا جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا، اور اس نے آپ پر درود نہیں پڑھا خدا اس سے۔۔۔
مزید
بن حمزہ بن الیفع بن کرب الہمدانی الناعظی: آپ اپنے دو چچاؤں، عمراؤ مالک کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے، اور ناعظ سے مراد بنو ربیعہ بن مرثد کا قبیلہ ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی مجالد بن سعید اور عامر بن شہر اسی قبیلے سے تھے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن الحویرث بن اثیم اللیثی: بنو لیث سے ان کی نسبت کے بارے میں اختلاف ہے، شباب کے مطابق ان کا نسب حسب ذیل ہے: مالک بن الحویرث بن اثیم بن زبالہ بن حیس بن عبد یا لیل بن ناشب بن غیرہ بن سعد بن لیث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ ان کا تعلق بنو لیث سے تھا اور ان کی کنیت ابو سلیمان سعد بن لیث تھی۔ بعض لوگوں نے ان کا نام مالک بن حارث لکھا ہے۔ شعبہ نے ان کا نام مالک بن حویرثہ بیان کیا ہے۔ وہ بصرے کے باشندے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے کچھ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوئے، حضور نے انھیں نماز سکھائی اور حکم دیا کہ جب وہ واپس جائیں تو اپنے قبیلے والوں کو نماز پڑھنا سکھائیں۔ ان سے ابوقلابہ، نصر بن عاصم اور سوار الجرمی نے روایت کی ہے۔ ہم سے الخطیب ابوالفضل عبداللہ بن احمد نے اپنے اُستاد ابوداؤد الطیاسی سے یوں بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے اُس نے نصر بن عاصم سے ۔۔۔
مزید
بن حمدۃ القشیری: ہم ان کا نسب ان کے بھائی معاویہ کے تذکرے میں بیان کریں گے۔ ہمیں عبد الوہاب بن ہبۃ اللہ نے عبداللہ بن احمد سے روایت کی کہ مجھ سے میرے باپ نے عفان سے اس نے حماد بن سلمہ سے اس نے ابو قزعہ سوید بن جحیر الباہلی سے: اس نے حکیم بن معاویہ سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس کے بھائی مالک نے اسے کہا: ماویہ! میرے ہمسائے کو محمد رسول اللہ نے پکڑ لیا ہے، آؤ ان کے پاس چلیں وہ تمہیں پہچانتے ہیں، لیکن مجھے نہیں پہچانتے میں اس کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا مالک نے گزارش کی کہ اس کے ہمسائے کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ سب مسلمان ہوچکے ہیں، حضور نے توجہ نہ فرمائی بعد میں اس آدمی کو آزاد فرمادیا، ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن الخشخاش العنبری (عبید اور قیس کے بھائی) حصین بن ابوالحر سے روایت ہے کہ جناب مالک اور ان کے دو چچا قیس اور عبید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بنو عم میں سے ایک آدمی کے خلاف شکایت کی: آپ نے انھیں فرمان امن لکھ دیا ہم یہ واقعہ عبید بن الخشخاش کے تذکرےمیں بیان کر آئے ہیں۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن خلف بن عمرو بن وارم بن اسلم بن افصی (نعمان کے بھائی) دونوں بھائی اسلامی لشکر میں غزوۂ احد میں طلایہ کی خدمت پر متعین تھے، دونوں اس غزوہ میں شہید ہوگئے اور ایک ہی قبر میں مدفون ہوئے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے ۔ سلسلۂ نسب اسی طرح ہے لیکن ابوموسیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ جن کا ذکر ابن حبیب اور ابن کلبی نے کیا ہے، وہ دونوں خلف بن عوف بن دارم بن عمرو بن وائلہ بن سہم بن مازن بن الحارث بن سلا ماں بن اسلم بن حارثہ کے بیٹے تھے۔۔۔۔
مزید
بن ابی خولی بن عمرو بن خیمثہ بن الحارث بن معاویہ بن عوف بن سعید بن جعفی الجعفی بنو عدی بن کعب کا حلیف تھا۔ ابنِ اسحاق نے ان کا سلسلۂ نسب یہی بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور لوگوں نے جعفی بن ندحج لکھا ہے، لیکن ابن سلام اور ابن ہشام نے انھیں عجلی بن نجیم سے منسوب کرکے عجلی لکھا ہے، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ صحیح جعفی ہے۔ ہم ان کا نسب مکمل طور پر ان کے بھائی خوفی کے تذکرے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ صاحب غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ ان دونوں بھائی کی کوئی اولاد نہ تھی۔۔۔۔
مزید
بن الدخشم بن مالک بن غنم بن عوف بن عمرو بن عوف۔ بعض لوگوں نے ان کا سلسلۂ نسب مالک بن الدخشم بن مالک بن الدخشم بن مرضحہ بن غنم لکھا ہے۔ یہ صحاب بقول اسحاق، موسیٰ اور واقدی العقبہ میں موجود تھے۔ ابومعشر لکھتا ہے کہ العقبہ میں موجود نہ تھے۔ واقدی سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے۔ غزوۂ بدر میں بالاتفاق موجود تھے۔ اس غزوے میں جو شخص قیدی بنالیا گیا تھا۔ وہ سہل بن عمرو تھا۔ جس کے بارے میں عتبان بن مالک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تھی کہ وہ منافق ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ کلمۂ شہادت نہیں پڑھتا؟ عتبان نے جواب دیا پڑھتا ہے لیکن اس کے کلمے کا کیا اعتبار! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا کیا وہ نماز نہیں پڑھتا، یارسول اللہ پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کے کیا کہنے! آپ نے فرمایا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے مجھے بدگمانی سےمنع فرمایا ہے کیونکہ ان کے اعمال ان۔۔۔
مزید