بن عبد اللہ ہدیہ بن عبد العزی بن عامر بن حارث بن حارثہ بن سعد بن تیم بن مرۃ قرشی تیمی: یہ محمد بن منکدر کے والد تھے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابو بکر مسمار عمر بن عویس نے ابو العباس بن طلابہ سے، انہوں نے ابو القاسم عبد العزیز بن علی بن احمد انماطی سے، انہوں نے ابو طاہر مخلص سے انہوں نے یحییٰ بن صاعد سے، انہوں نے خلاد بن اسلم سے انہوں نے حریث بن سائب سے جو بنو سلمہ کے مؤذن تھے روایت کی کہ انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس آدمی نے کعبے کا سات بار طواف کیا اور اللہ کو یاد کیا اس کو اتنا ثواب ملے گا۔ جتنا کہ ایک غلام کو آزاد کرنے سے ملتا ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر اس حدیث کو مرسل قرار دیتے ہیں، ہر چند وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن صحبت کا کوئی ثبوت ۔۔۔
مزید
ابو عبد الملک القیسی: ان کے بیٹے عبد الملک نے ان سے روایت کی۔ ابو یاسر بن ابو حبہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن جعفر سے انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے عبد الملک بن منہال سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایامِ بیض کے تین دنوں کے روزے کی تاکید فرمائی کہ ان کا ثواب مہینے بھر کے روزوں کے ثواب کے برابر ہے۔ ابو داؤد طیاسی اور سلیمان بن حرب نے شعبہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ابو عمر کا قول ہے کہ ان کے نزدیک عبد الملک بن منہال وہم ہے اور ان کے خیال میں ملحان درست ہے۔ ہم ملحان کے ترجمے میں ان کا ذکر کر چکے ہیں۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ذہل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے لاحق بن معد نے ان سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو خالدان کی کنیّت تھی۔ طبرانی نے اِن کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو غالب سے، انہوں نے ابو بکر سے۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ انہیں حسن نے، انہیں احمد نے ان دونوں کو سلیمان بن احمد نے، انہیں عبد اللہ بن محمد بن شعیب رجانی نے انہیں محمد بن معمر البحرانی نے، انہیں روح بن عبادہ نے انہیں جریج بن زیاد نے انہیں خالد بن معدان نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اس لیے نرمی اور مہربانی کو پسند کرتا ہے اور نرم مزاج آدمی کو اس طرح اعانت کرتا ہے کہ سخت مزاج آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو۔ تو مناسب مقامات پر رات بسر کو۔ اور اگر زمین پر قحط پڑا ہوا ہے۔ تو اس کے دفعیہ کے لیے دعا کرو۔ کیونکہ زمین رات کے وقت ایسی چیزوں کو چھپاتی ہے جو د۔۔۔
مزید
اسلمی: ایک روایت میں منذر مذکور ہے۔ ان کا ذکر گزر چُکا ہے۔ ان سے ابو عبد الرحمان نے روایت کی ہے انہوں نے افریقہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور سماع کی عزّت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے صبح اُٹھ کر رضیت باللہ رَبا کہا، پھر ساری حدیث بیان کی۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن حارث بن لحی بن شرجیل بن حارث الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوئے تھے۔ یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن رفاعہ: ابو رمثہ ان کی کنیت ہے۔ یحییٰ بن مندہ نے ابو العباس احمد بن حسن نصیری حاکم ابو عبد اللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اوروں کا بھی یہی خیال ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شراجیل بن شیطان بن خدیج بن امرء القیس بن حارث بن معاویہ الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن قیس: ان کا عرف اشعث الکندی تھا۔ ہم اس سے پہلے ان کا ذکر اشعث مستوفی اور ان کے بھائی سیف کے ترجمے میں آئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
الحبشی جو جناب ایمن کے والد تھے ابو احمد عسال کا قول ہے کہ جنابِ نابل کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ہمیں ابو موسیٰ نے کتابتًا اطلاع دی کہ انہیں جعفر بن عبد الواحد ثقفی نے انہیں طاہر بن عبد الرحیم نے انہیں عبد اللہ بن محمد نے انہیں ابو جعفر عبد اللہ بن محمد بن زکریا نے، انہیں بکار بن عبد اللہ بن محمد بن ابن سیرین نے انہیں ایمن بن نابل المکی نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک بدو نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو اونٹنیاں تحفۃً پیش کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا چاہیں لیکن وہ رضا مند نہ ہوا آپ نے پھر لوٹانا چاہیں لیکن وہ راضی نہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ میں سوائے قریش، انصار اور بنو ثقیف کے اور کسی سے ہدیہ قبول نہیں کرتا ایک جماعت نے بکار سے یہ روایت بیان کی ہے ابو موسیٰ نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔۔۔
مزید