جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولانا بشیر احمد علی گڑھی علیہ الرحمۃ

علی گڑھ کے سادات کرام سے تھے،علی گڑھ میں پیدا ہوئے،کتب درس نظامی درس حضرت مفتی لطف اللہ صاحب سے لیا،حدیث کی کتابیں بھی مفتی صاحب سے تمام کیں،اور اُستاذ کی حیات ہی میں اُن کے مدرسہ تھے،جامعہ شمس العلوم بد ایوں میں بھی اسی منصب پر فائز رہے درس نظامی کے ماہر اساتذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا،انتقال علی گڈھ میں ہوا،سال وفات باوجود کوشش اور متعدد خطوط لکھنے پر بھی معلون نہ ہوسکا،ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین نے آپ سے مسلم شریف کا درس لیا۔ ۔۔۔

مزید

مولانا محمد جمال الدین در بھنگوی

علاقہ مدھونبی دربھنگہ، موضع حیات پور میں پیدا ہوئے،درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ مطلع العلوم بنارس میں کی،مولانا عبد الرحمٰن ساکن ناصری گنج ضلع آرہ کے مخصوص شاگرد تھے مولانا بنارس المتوفی ۱۳۱۳؁ھ کے مرید تھے،۔۔۔ مولانا جمال الدین حضرت مولانا شاہ عبد الکافی ناردی الہ آبادی کے مرید تھے، عمر کا زیادہ حصہ مدھونبی میں گذارا،اولاً مدرسہ احمدیہ مدھونبی کی بنا ڈالی اور اس ہیں مدرس اول ہوئے،بعدہٗ مدھونبی ہائی اسکول میں ہیڈ مولوی ہوئے، وہاں سے سبکدرشی پر مدرسہ حمیدیہ دربھنگہ میں مدرسی کی،۲۷؍اگست ۱۹۲۹؁ھ کو بمقام مدھونبی دمر ساٹھ سال فوت ہوئے، دبین،صاحب تصانیف،مناظر مدرس، عالم تھے۔ (مرسلہ مولانا محمد ابراہیم فریدی) ۔۔۔

مزید

عطاءِ خواجہ مولانا سید احمد علی رضوی اجمیری

عطاءِ خواجہ مولانا سید احمد علی رضوی اجمیری گدی نشین آستانۂ غریب نواز رضوی منزل اجمیر شریف ولادت پیر طریقت مولانا سید احمد علی رضوی چشتی کی ولادت ۱۵؍اپریل ۱۹۳۲ء کو بمقام اجمیر مقدس ہوئی۔ بچپن ہی کے زمانےمیں والدہ ماجدہ داغِ مفارقت دےکر رخصت ہوگئیں مولانا سید احمد علی کی پرورش ان کی ہمشیرہ اور ان کے والدِ گرامی الحاج مولانا سید حسین علی رضوی نےکی۔ سید صاحب کی پیدائش کے وقت ان کے والد عمر رسیدہ ہوچکےتھے۔ سید صاحب کی والدہ مولانا سید حسین علی رضوی اجمیری کی تیسری شریک حیات تھیں۔ خاندانی حالات مولانا سید احمد علی اجمیری گردیزی سید ہیں۔ ان کا شجرۂ نسب مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا سید حسین علی کے والد کا سایۂ شفقت بچپن میں قریب چودہ سال کی عمر میں اٹھ گیا تھا۔ حضرت مولانا سید حسین۔۔۔

مزید

حضرت مولانا بزرگ علی مارہروی قدس سرہٗ

حضرت مولانا بزرگ علی مارہروی قدس سرہٗ حضرت مولانا بزرگ علی ابتدا میں بہت بد شوق تھے،پڑھنے لکھنے میں قطعی جی نہیں لگاتے تھے،جتنی زیادہ تاکید ہوتی،اُنتی ہی بے رغبتی دکھاتے، آپ کے والد حسن علی صاحب اچھے میاں قدس سرہٗ کے مرید تھے،ایک دن ان کو لے کر مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور ان کی بد شوقی کا ذکر کر کے دعا کی التجا پیش کی،حضرت نے فرمایا،تم بد شوق کہتےہوِحالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ اپنے زمانے کا بڑا عالم ہوگا،اور دستار فضیلت باندھے گا،حضرت کے یہ الفاظ مستجاب ہوئے،مولانا نے تمام مشاغل ترک کردیئے،ہر وقت پڑھنے اور مطالعۂ کتب میں مصروف رہنے لگے،ابتدائی درسیاتِ نظامی حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی سے پڑھی سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیزی محدث دھلوی سے حدیث کا در کیا،آگرہ وکلکتہ کے مدارس میں برسوں درس دینے کے بعد علی گڑھ میں مصنف کے عہدے پر فائز ہوئے،جامع مسجد میں محمد ۔۔۔

مزید

سیّدنا وہبان رضی اللہ عنہ

بن صیفی الغفاری: ایک روایت میں اہبان مذکور ہے باب ہمزہ میں ان کا ذکر گزر چکا ہے وہبان حزام کی اولاد سے تھے۔ بصرے میں مقیم ہوگئے تھے جہاں ان کا ایک مکان بھی تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں سماعِ حدیث کی سعادت حاصل ہوئی۔ ابراہیم بن محمد و غیرہ باسناد ہم نے جو محمد بن عیسیٰ تک پہنچتا ہے علی بن حجر سے انہوں نے اسماعیل بن ابراہیم بن عبد اللہ بن عبید سے انہوں نے عدیسہ دختر اہبان بن صیفی غفاری سے روایت کی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہمارے گھر آئے اور میرے والد کو اپنے حامیوں میں شامل ہونے کی دعوت دی، میرے باپ نے جواب دیا، کہ میرے دوست اور آپ کے ابن عم نے مجھ سے عہد لیا ہے، کہ جب مسلمانوں میں اختلافات اُٹھ کھڑے ہوں۔ تو میں لاٹھی کو اپنی تلوار بنالوں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کرلیا ہے اگر آپ چاہتے ہیں، تو میں اس تلوار سے جو لکڑی کی ہے۔ آپ کا ساتھ دینے کو آمادہ ہوں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ۔۔۔

مزید

سیّدنا یامین رضی اللہ عنہ

بن یامین: بقول ابن مندہ ابو نعیم یہ اہل کتاب سے تھے۔ اور مسلمان ہوگئے تھے۔ ابو عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: یامین بن عمیر بن کعب بن عمرو بن حجاش ان کا تعلق بنو نضیر سے تھا انہوں نے اسلام قبول کیا، اپنے مال کی حفاظت کی اور اسلام کی خدمت کی ان کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو موسیٰ نے انہیں یامین بن عمیر نضیری لکھا ہے، یہ عمرو بن حجاش کے عمزاد تھے۔ ابو صالح نے عبد اللہ بن عباس سے اس آیت: ’’یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ الی آخرہ، کے بارے میں روایت کی ہے، کہ یہ آیت عبد اللہ بن سَلَّام، اسد اور اسید پسران کعب، ثعلبہ بن قیس، سلام پسرِ ہمیشرہٗ عبد اللہ بن سلام، سلمہ پسر برادر عبد اللہ بن سلام اور یامین بن یامین کے بارے میں نازل ہوئی۔ جو اہلِ کتاب سے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا ۔۔۔

مزید

سیّدنا ثیربی رضی اللہ عنہ

بن عوف ابو رمثہ تمیمی تیم الرباب: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض عمارہ، بعض رفاعہ اور بعض ثیربی کہتے ہیں۔ ہم کنیتوں میں بھی ان کا ذکر کریں گے۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا یربوع رضی اللہ عنہ

ابو الجعدالجہنی: ان کے بیٹے جعد نے ان سے ایک حدیث منکر عبد اللہ بن بلوی سے روایت کی کہ ہم نبو جہینہ کے چند آمیوں کے ساتھ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگ ارد گرد جمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جہینہ کو خوش آمدید کہا اور فرمایا، بنو جہینہ! دیکھنے کو سخت اور میدان جنگ میں آگے آگے چلنے والے ہیں۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا یزداد رضی اللہ عنہ

الفارسی: بجیربن ریسان کے آزاد کرد: غلام تھے، ان کا شمار اہل یمن میں ہوتا ہے۔ ان سے ان کے بیٹے عیسیٰ نےروایت کی۔ ابو یاسر عبد الوہاب بن ہبّہ اللہ نے باسنادہ، عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے روح سے، انہوں نے زکریا بن اسحاق سے، انہوں نے عیسیٰ بن بزداد سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ تم میں سے جو شخص پیشان کرے وہ اپنے آلۂ تناسل کو تین بار جھٹکا دے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں، کہ بعض لوگ ان کی صحبت کے قائل ہیں، لیکن اکثر محدثین انہیں نہیں جانتے اور بعض ان کی حدیث کو مرسل قرار دیتے ہیں۔ اور ان کا مدار زمعہ بن صالح پر ہے۔ امام بخاری لکھتے ہیں کہ ان کی حدیث ثابت نہیں یحییٰ بن معین لکھتے ہیں کہ عیسیٰ اور ان کے والد مجہول الحال ہیں۔ اور یہ ان کی طرف سے تکلف محض ہے، واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید افضل حسین مونگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

علوم اسلامیہ کے فاضل اجل،مدرسہ منظر اسلام بریلی سے سند تک تکمیل حاصل کی،حضرت مولانا نور الحسین فاروقی ابن شمس العلماء علامہ ظہور الحسین رام پوری جیسے فردزمانہ سے اخذ علوم کیا،مفتئ اعظم مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا بریلوی مدظلہٗ کے دار الافتاء میں فتویٰ نویسی سیکھی،اور بیعت کا شرف حاصل کیا،اجازت و خلافت پائی،مدرسہ احسن المدارس قدیم،کانپور (جس میں راقم الحروف خادم تدریس ہے) میں صدر مدرس ہوکر آئے،تھوڑی مدت کے بعد واپس تشریف لے گئے،برسہا برس مدرسۂ مظہر الاسلام میں درس دیا، پھر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے قائم کرو مدرسہ منظر اسلام میں صدر مدرس ہوگئے۔ تقریباً ۱۸؍ برس تک درس کے ساتھ تحقیق و استدلال کی روشنی میں فتاویٰ نویسی کا سلسلہ بھی جاری رکھا،۱۳۸۸ھ شوال المکرم میں مع اہل وعیال پاکستان تشریف لے گئے،۔۔تصانیف میں مرقاۃ الفرائض،مفتاح التہذیب،التوضیح المقبول (بحث حاصل محصول) ہدایۃ الحکمۃ،ہدایہ المنطق۔۔۔۔

مزید