بن غالب بن عمرو ابو قیلہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کی یہ ابن کلبی کا قول ہے ابن دباغ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن حرب الحبشی ابو دسمہ: یہ مکہ کے حبشیوں میں سے تھے اور طعیمہ بن عدی اور یا جبر بن مطعم کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو احد میں اور مسلیمہ کذاب کو جنگ یمامہ میں قتل کیا تھا اور کہا کرتے کہ میں نے بحالتِ کفر خیر الناس کو اور بحالتِ اسلام شر الناس کو قتل کیا ہے۔ عبد اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ، عبد اللہ بن فضل نے سلیمان بن یسار سے، انہوں نے جعفر بن امتیہ القمری سے بیان کیا، کہ میں اور عبید اللہ بن عدی امیر معاویہ کے عہدِ امارت میں گھومنے پھرنے کو نکلے، جب ہم واپسی پر حمص میں، جہاں وحشی بن حرب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل سکونت پذیر تھے۔ وارد ہوئے تو میرے رفیق سفر نے کہا۔ قاتل حمزہ رضی اللہ عنہ وحشی یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آؤ ان سے دریافت کریں کہ قتل حمزہ کس طرح وقوعہ پذیر ہوا ہم نے ایک آدمی سے وحشی کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ ۔۔۔
مزید
بن اسلت: اسلت کا نام عامر بن حبشم بن دائل بن زید بن قیس بن عامر بن مرہ بن مالک انصاری تھا۔ وحوح رضی اللہ عنہ ابو قیس شاعر کے بھائی تھے، جو مسلمان نہیں ہوا تھا زبیر نے اپنے چچا سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن عمارہ سے روایت کی کہ وحوح کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی وہ غزوۂ خندق اور بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے۔ اور جب وہ ابو عامر راہب کے ساتھ مکہ کو روانہ ہوئے تو ابو قیس نے ان کے بارے میں مندرجہ ذیل اشعار کہے: وحوما ادی ولی علی بودہ وکان امروٌ من حضر موت غریب ترجمہ: وحوح میری محبت کو رو کرکے چلا گیا۔ اور حالانکہ ابو عامر راہب، حضر موت کا ایک اجنبی تھا۔ کانی امروٌ ولی وُدَّبیننا وانت حبیب فی الفوادِ قریب ترجمہ: وحوح مجھ سے اس انداز سے علیحٰدہ ہوا۔ گویا ہم میں محبت تھی ہی نہیں حالانکہ تو میرے دل کے قریب ہے۔ وان نبی العلات قوم وائنی ۔۔۔
مزید
بن سمعان بن خالد بن عمرو بن عبد اللہ ابو بکر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ عامری کلابی شامی شمار ہوتے ہیں روایت ہے کہ ان کے والد سمعان بن خالد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اس کے بعد جناب سمعان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں کا ایک جوڑا پیش کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا پھر انہوں نے اپنی بہن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زجیت میں دے دیا، لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے پاس گئے تو اس نے بیزاری ظاہر کی اس کی بیزاری کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ جناب نواس نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سے جییر بن نفیر اور بشر بن عبد اللہ وغیرہ نے جناب نواس سے روایت کی۔ ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہم ابو عیسیٰ سے انہوں نے علی بن حجر سے انہوں نے ولید بن مسلم اور عبد ۔۔۔
مزید
بن صعقہ التمیمی: بنو تمیم کے جو وفود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ایک وفد میں یہ صاحب بھی شامل تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے باہر آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گنواروں کی طرح آوازیں دینا شروع کردی تھیں۔ ابو عمر نے اختصاراً ان کا ذکر کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ ان سے کوئی روایت مروی نہیں۔ ۔۔۔
مزید
(حدیث زائدہ میں ان کا ذکر آیا ہے) عاصم بن ابی وائل نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا(اس واقعے کو مسروق نے بالتفصیل بیان کیا ہے) اس حدیث کے آخر میں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو بریرہ اور نوبہ کے سہارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر نکلے امیر ابو نصر بن ماکولا نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
مقاتل بن حیان نے قتاوہ سے انہوں نے نویرہ سے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ہیں سُنا آپ نے فرمایا کہ جو شخص میری احادیث میں سے چالیس حدیثیں میری امت کے لیے محفوظ کرلے گا۔ قیامت کے دن اس کا حشر علمائے امت میں ہوگا۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قزمل المحاربی: صحابی ہیں۔ مودع بن حبان نے اِن سے روایت کی کہ وہ شام کی جنگوں میں خالد بن ولید کے ساتھ تھے۔ ایک گرجا فتح ہوا اور ہم اندر داخل ہوئے تو ہم نے اسلام علیکم کہا۔ ایک پادری باہر آیا اور کہنے لگا۔ یہ پاکیزہ الفاظ کس نے کہے ہیں۔ معاویہ کے دوستوں کا خیال تھا کہ انہیں حضور کی صحبت نصیب ہوئی تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عتبہ بن ابی وقاص: ابو وقاص کا نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرۃ القرشی الزہری ہے یہ صاحب سعد بن ابی وقاص کے بھتیجے تھے کنیت ابو عمرو اور عرف مرقال تھا مکہ کی فتح کے موقعہ پر ایمان لائے اور کوفے میں سکونت اختیار کرلی۔ ان کا شمار بہادروں اور فضلا میں ہوتا تھا جنگ یرموک میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی جلولا کی جنگ میں شریک تھے جس میں ایرانیوں کو فاش شکست ہوئی تھی اس فتح کو فتح الفتوح کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس میں مالِ غنیمت اٹھارہ کروڑ روپے سے بھی زیادہ مالیت کا تھا معرکہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے فوج کا علم ان کے پاس تھا اور پیادہ فوج کے کماندار تھے اور اسی معرکے میں شہید ہوئے اسی بارے میں انہوں نے کہا۔ اعور یبغی اھلہ محلا قد عالج الحیاۃ حتی مَلا ایک کانا آدمی اپنے لیے مناسب مقام چاہتا ہے اس نے زندگی سے اس طرح۔۔۔
مزید